داعش کی پاکستان میں ہزاروں افراد کی بھرتی کا انکشاف

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2014

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

کراچی : بلوچستان کی صوبائی حکومت نے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کرکے الدولۃ اسلامیہ(آئی ایس آئی ایس) یا داعش نامی عسکریت پسند تنظیم کا اثررسوخ بڑھنے کا انتباہ دیا ہے۔

یہ 'سیکرٹ انفارمیشن رپورٹ'، 21اکتوبر کو ارسال کی گئی جس کی ایک کاپی ڈان کو دستیاب ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہنگو اور کرم ایجنسی میں دس سے بارہ ہزار تک کی بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کو بھرتی کرچکی ہے۔

بلوچستان کے داخلہ اور قبائلی امور کے محکمے کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے"قابل اعتبار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ داعش نے لشکر جھنگوی(ایل ای جے) اور اہل سنت والجماعت(اے ایس ڈبلیو جے) کے کچھ عناصر کو پاکستان میں خود سے ہاتھ ملانے کی پیشکش کی ہے جبکہ اس عسکریت پسند تنظیم نے دس رکنی ایک اسٹرٹیجک پلاننگ ونگ بھی قائم کیا ہے"۔

رپورٹ کے مطابق داعش نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے جواب میں خیبرپختونخوا میں فوجی تنصیبات اور حکومتی عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ وہ شعیہ برادری کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بلوچستان حکومت نے اپنے صوبے اور خیبرپختونخوا میں سیکورٹی اقدامات اور نگرانی کے عمل کو بڑھانے کے مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کی جاسکے۔

اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید محتاط اور لشکر جھنگوی کے اراکین کی نگرانی کے عمل کو بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شاہد اللہ شاہد سمیت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چھ اہم کمانڈرز نے آئی ایس کے ساتھ منسلک ہونے کا اعلان کیا ہے۔

سابق طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق اس کے ساتھ اورکزئی ایجنسی میں ٹی ٹی پی کا سربراہ سعید خان، کرم ایجنسی کا طالبان سربراہ دولت خان، خیبرایجنسی سے ٹی ٹی پی کا سربراہ فتح گل زمان، ٹی ٹی پی پشاور چیف مفتی حسن اور ہنگو کے طالبان کمانڈر خالد منصور نے داعش کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے۔

رواں ہفتے طالبان نے شاہد اللہ شاہد کی جگہ محمد خراسانی کو اپنا نیا ترجمان مقرر کیا تھا۔


خطرے کا احساس


سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایس سے خطرے کا سامنا ہے تاہم داعش کو ایک حقیقی خطرہ بننے میں وقت درکار ہوگا وہ بھی اس صورت میں جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر مرکزی گروپس سے علیحدہ ہونے والے افراد کو کامیابی سے اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہوئی تو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی ادارے داعش کے نقش قدم کو چیک کرنے میں ناکام رہے تو یہ مستقبل میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، ایسا نظر آتا ہے کہ داعش پاکستان اور افغانستان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے خاص طور پر اس وقت جب امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں، اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آئی ایس آئی ایس جنوبی ایشیا اور خلیج فارس کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

کراچی اور خانیوال سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں آئی ایس کی حمایت میں وال چاکنگ بھی سامنے آئی ہے۔

خانیوال پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اس طرح کی وال چاکنگ پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے، تاہم کراچی پولیس نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

گزشتہ ماہ پشاور میں داعش کے بارے میں پمفلٹس تقسیم ہوئے تھے جس پر پولیس نے کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا اور اس طرح کے پمفلٹ کی موجودگی سے ہی انکار کردیا۔