• KHI: Cloudy 31.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 35°C
  • ISB: Partly Cloudy 32.1°C
  • KHI: Cloudy 31.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 35°C
  • ISB: Partly Cloudy 32.1°C

تفتیش کے دوران ملزمان سے ملاقات کی درخواست مسترد

شائع اپ ڈیٹ

کراچی: سندھ کے دارالحکومت کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دوران تفتیش ملزمان سے ورثاء اور وکلاء کی ملاقات کی اجازت دینے کی درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل نے گزشتہ دنوں رینجرز کی جانب سے نائن زیرو پر سرچ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے پارٹی کارکنوں سے دوران تفتیش ورثاء اور وکلاء سے ملاقاتوں کے حوالے سے 25 درخواستیں انسداد دہشت گردی عدالت کو پیش کیں تھیں۔

ایم کیو ایم کے وکیل ایڈووکیٹ محمد جیوانی نے درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالت بنیادی انسانی حقوق کے پیش نظر گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم کارکنوں سے دوران تفتیش ان کے ورثاء اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت کا حکم جاری کرے۔

تاہم اس حوالے سے رینجرز کے خصوصی وکیل غلام شبیر بابر نے عدالت کو بتایا کہ درخواستوں پر عمل درآمد نہیں کروایا جاسکتا کیونکہ ملزمان کی پولیس حراست کے دوران جسمانی ریمانڈ کسی بھی قسم کی ملاقات کے حوالے سے قانون موجود نہیں ہے۔

مقدمات کی سنگین نوعیت کے پیش نظر عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ عدالت کا ماننا ہے کہ پر تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہر ملزم کو اپنے وکیل تک رسائی حاصل ہونی چاہئے ۔

مقدمے کی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس موقع پر ان درخواستوں پر عملدرآمد کروانا ممکن نہیں تاہم ورثاء ملزمان کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر یہ درخواستیں دوبارہ عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں رینجرز کی جانب سے سرچ آپریشن کے دوران گرفتار کئے جانے والے 26 ملزمان کے خلاف پولیس نے رینجرز کے افسر کی مدعیت میں 2013 سندھ اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 23 (1)، دھماکہ خیز مواد رکھنے کی دفعہ 4/5 اور 1997 انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمات درج کرلئے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026