رمضان میں تحفظ کے اہم نکات

12 جولائ 2015

ای میل

رمضان امن و روحانی طور پر مضبوط کرنے کا مہینہ ہے تاہم اس ماہ کے دوران اکثر اپنے خاندان کے ساتھ افطار کرنے کے لیے گھر پہنچنے کی جلدی، جلد بازی میں محدود وقت میں متعدد پکوان بنانے کے لیے لوگوں کے اندر شارٹ کٹ لینے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے جو اکثر اوقات کسی سانحے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تاہم یہاں چند ایسے نکات دیئے جارہے ہیں جو آپ کو جانی و مالی نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

کچن کا تحفظ (آگ سے بچاﺅ)

اگر کوئی چیر ڈیپ فرائی کرنا ہے تو فرائی پان کے ایک تہائی حصے کو ہی تیل سے بھریں۔

اگر فرائی پان سے بہت زیادہ دھواں خارج ہورہا ہو تو چولہے کی آنچ کو بند کردیں اور برتن کو کچھ دیر تک ٹھنڈا ہونے دیں۔

جلتے ہوئے فرائی پان میں کبھی بھی پانی نہ ڈالیں تاہم ایسا کرنے کی صورت میں اس پر برتن صاف کرنے والا تولیہ یا آگ بجھانے والا کمبل ڈال کر آگ کی لپٹوں کو بجھائیں۔

اپنے لباس کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں اس کا کوئی حصہ آگ کے بہت زیادہ قریب ہونے کی صورت میں شعلوں کی زد میں بھی آسکتا ہے جس کے نتیجے میں جلنے کے زخم کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کبھی بھی کھانے پکانے کے عمل کو چھوڑ کر نہ جائیں خاص طور پر اس وقت جب بچے گھر میں موجود ہوں۔

موم بتیوں کا استعمال (آگ سے تحفظ)

اگر بجلی جانے کی صورت میں آپ موم بتی کا استعمال کرتے ہیں تو ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں:

موم بتی کو کسی ٹھوس چیز کے اوپر رکھیں جو کہ پلاسٹک یا کسی دھات سے بنی ہوئی نہ ہو۔

موم بتی کو اس وقت روشن کریں جب اس کو مقررہ جگہ پر رکھ دیا جائے نہ کہ ایک سے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے اسے جلایا جائے خاص طور پر قالین والے فرش پر خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

موم بتیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

کبھی بھی موم بتی کو ایسے کمرے میں نہ رکھیں جہاں کوئی موجود نہ ہو۔

خوشبودار موم بتیاں جل کر سیال مادے میں تبدیل ہوجاتی ہیں تاکہ خوشبو خارج کرسکیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی ڈبے میں ہو تاکہ اس کے گرتے موم کی روک تھام ہوسکے۔

جنریٹرز کا استعمال (حادثات سے بچاﺅ)

جنریٹر رکھنے کی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے اور وہ ایسی ہونی چاہئے جہاں وہ ٹھنڈا رہ سکے اور بھاپ خارج کرنے کے لیے ہوا کے گزرنے کا مناسب انتظام ہو۔

کبھی بھی جنریٹر میں اس وقت ایندھن نہ بھریں جب وہ چل رہا ہو یا بہت زیادہ گرم ہو۔ ایندھن ڈالنے سے پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں ورنہ آگ لگنے کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

جنریٹر کو چلانے کے لیے ہاتھ میں ٹارچ کو روشن رکھیں اور ہمیشہ لیکج کو ضرور چیک کریں۔

اگر ایندھن کو ذخیرہ کیا جارہا ہو تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ مناسب فائر ایکسٹینگیشر وہاں دستیاب ہو جبکہ ایک ریت کی بالٹی بھی موجود ہو۔

گرمی کی لہر کے دوران خود کو ٹھنڈا رکھیں :

ہلکے رنگوں والے ہلکے ملبوسات زیب تن کریں۔

گردن، پیروں، ہاتھوں، کانوں اور سر پر کچھ وقفے کے بعد گیلے اسفنج کو پھیریں۔

جس حد تک ممکن ہو چھت کے نیچے رہین اور گھر کو ہوا دار بنانے کا انتظام کریں (جب گرم ہوا یا لو نہ چل رہی ہو)۔

کسی ٹھنڈے کمرے کو تلاش کریں عام طور پر ایسے گھر کے اندرونی کمرے ہی ہوتے ہیں (جہاں سورج کی روشنی دیواروں تک براہ راست نہیں پہنچتی)۔ اگر بجلی کا مسئلہ نہیں تو پنکھے کو چلائے رکھیں اور دروازے بند رکھیں۔ اگر گھٹن محسوس ہورہی ہو تو اس ٹھنڈے کمرے میں جاکر ایک گہری سانس لیں۔

پورے دن گرم مشروبات کے استعمال سے گریز کریں یہاں تک کہ رات کو بھی۔

جب گھر سے باہر نکلیں تو سر ، گردن اور بازﺅں کو ڈھانپ لیں۔

دن کے ٹھنڈے وقت میں ایسی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں جن کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہو۔

مون سون کی بارشیں

اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام نکاسی آب کے راستے صاف ہو تاکہ پانی کی روانی میں خلل نہ پڑے۔

کھلی ہوئی تاروں یا برقی آلات کو کسی چیز سے ڈھانپ دیں۔

استعمال کے پانی کا مناسب ذخیرہ کرلیں بارشوں کے فوری بعد لائن میں آنے والا پانی استعمال کے لیے بہتر نہیں ہوتا (وضو، غرارے وغیرہ وغیرہ)۔

کپڑے گیلے ہونے کی صورت میں یا پانی کے اوپر کھڑے ہونے پر برقی آلات کو استعمال نہ کریں ۔

سڑک پر سفر

گاڑی میں پانی کی کچھ بوتلیں رکھنا عادت بنالیں، یہ پانی ریڈی ایٹر گرم ہونے کی صورت میں یا شدید گرمی میں ٹریفک جام میں پھنسنے پر آپ کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتا ہے۔

سفر کے دوران رش کے اوقات کے باے میں جانے اور کوشش کریں کہ ان اوقات سے پہلے یا بعد میں گھر یا دفتر سے نکلیں تاکہ ٹریفک کے ہجوم سے بچ سکیں۔

اگرچہ شارٹ کٹ لینے کو دل تو بہت کرتا ہے تاہم اگر آپ اس سے واقف نہیں تو کسی مشکل سے بچنے کے لیے طویل راستے کو ہی اختیار کریں۔

جس حد تک ممکن ہو درمیانی لین کو ہی استعمال کریں کیونکہ دیگر لینز پر ٹریفک جام کے دوران ڈاکوﺅں کے مزے ہوجاتے ہیں۔

سڑک پر لڑنے سے گریز کریں چاہے ٹکر ہی کیوں نہ ہوگئی ہو۔

گھر یا دفتر سے باہر نکلنے سے پہلے چینیلز، ٹریفک پولیس ہیلپ لائنز اور دیگر کو چیک کرلیں، تاکہ ٹریفک جام کے بارے میں پہلے سے ہی معلوم ہوجائے۔

سیلابی صورتحال، احتجاج یا طویل دورانیے تک ٹریفک جام کے دوران گاڑیاں چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائیں، بس سفری دستاویزات اور قیمتی اشیاءکو اپنے ساتھ لے لیں اور ممکن ہو تو گاڑی کو کسی سائیڈ میں پارک کردیں۔

خریداری یا شاپنگ

خاص طور پر افطار کے وقت اور عید سے قبل متعدد شرپسند عناصر آسانی سے دولت کمانے کے لیے باہر نکلتے ہیں اور وہ آپ کے پیسے چھین یا چرا لیتے ہیں۔ اشیائ، گاڑیوں کے پرزوں یا پوری گاڑی کے چور ان مصروف اوقات اور ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس حوالے سے کافی محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

گاڑیوں کو معمول کے پارکنگ زون میں کھڑی کریں، عارضی پارکنگ ایریاز باسہولت تو ہوتے ہیں مگر وہاں تحفظ یا تو ہوتا نہیں یا بہت کم ہوتا ہے۔

مرد اور خواتین جیب کترے اس عرصے کے دوران بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔

مردوں کو اپنے بٹوے سامنے کی جیبوں میں رکھنے چاہئے۔

خواتین اپنے بیگز کو کندھوں پر سامنے کی طرف رکھیں۔

اپنی نقد رقم اور کریڈٹ کارڈز کو الگ کرلیں اور اتنی ہی رقم اپنے پاس رکھیں جو خریداری کے لیے کافی ہو۔

کریڈٹ کارڈ گم ہونے کی صورت میں بینک کو فوری رپورٹ کریں کیونکہ چور انہیں فوری طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور رپورٹ سے پہلے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری آپ کے سر پر ہی عائد ہوتی ہے۔

بچوں کو ہر وقت اپنے قریب رکھیں اگر وہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں تو سب کام چھوڑ کر انہیں اپنے پاس لے کر آئیں۔

ایسے اوقات میں خریداری سے گریز کریں جب بازاروں میں بہت زیادہ رش ہو۔