رابطہ کمیٹی کا الطاف حسین کی تقریر کا دفاع

اپ ڈیٹ 03 اگست 2015

ای میل

پارٹی رہنما فاروق ستار کے مطابق "الطاف حسین کی تقریر آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر تھی"—۔فائل فوٹو/اے پی پی
پارٹی رہنما فاروق ستار کے مطابق "الطاف حسین کی تقریر آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر تھی"—۔فائل فوٹو/اے پی پی

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے لندن میں مقیم اپنے قائد کی جانب سے "ہندوستان، نیٹو اور امریکا سے مدد" طلب کرنے کی تردید کردی ہے.

ہفتے کی شب ایم کیو ایم امریکا چیپٹر کے 19ویں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فونک خطاب میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ "کارکن اقوام متحدہ اور نیٹو ہیڈ کوارٹرز جا کر ان سے کراچی میں فوج بھیجنے کا کہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اور کون کون اس کا ذمہ دار تھا"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہندوستان خود بزدل اور ڈرپوک ہے، اگر اس میں غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا"۔

ایم کیو ایم سربراہ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ "فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر میرے خلاف ملک بھر کے پولیس اسٹیشنز میں 150 سے زائد غداری کے مقدمات قائم کیے گئے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اکیلا الطاف حسین پانچ لاکھ فوج سے ڈرتا ہے یا پانچ لاکھ فوج الطاف حسین سے ڈرتی ہے۔"

مزید پڑھیں:'کارکن نیٹو سے کراچی میں فوج بھیجنے کا کہیں'

الطاف حسین کے بیان کے بعد ہونے والی شدید تنقید کے جواب میں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے رات گئے ایک پریس کانفرنس کی گئی.

پریس کانفرنس کے دوران پارٹی رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ "الطاف حسین کی تقریر آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر تھی".

انھوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین لازم و ملزوم ہیں، "وہ مہاجروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور انھوں نے 5 کروڑ مہاجروں کی جانب سے ہی بات کی".

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے حوالے سے جس میں ان کا کہنا تھا کہ "الطاف حسین لندن میں اپنے خلاف کیسز کی وجہ سے متنازع بیانات دے رہے ہیں"، ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ کیسز 5 سال سے زیر التواء ہیں، "کیا الطاف بھائی نے گزشتہ 5 سالوں میں اس طرح سے بات کی ہے"؟

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے کراچی میں فوج کی حمایت میں بھی ریلیاں نکالی ہیں، لیکن شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ہے.

فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے متعدد کارکن "لاپتہ" ہیں، درجنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا جبکہ سینکڑوں بغیر کسی الزام کے زیرِ حراست ہیں.

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ "ہماری بات کوئی نہیں سن رہا، اگر انصاف نہ ملے تو ہم کیا کریں"، انھوں نے مزید کہا کہ "ایم کیو ایم نے اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کامطالبہ کر رکھا ہے لیکن ابھی تک ہماری شنوائی نہیں ہوئی".

فاروق ستار نے سوال کیا "کیا یہ غیر منصفانہ مطالبہ ہے"؟

ان کا مزید کہنا تھا "ہمیں بتایا جائے کہ کارکنوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو کون یقینی بنائے گا".

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے الطاف حسین کی تقریر سے متعلق دیئے گئے بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "وہ صرف سچ بولتے ہیں".

انھوں نے اس بات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وزیراعلیٰ نے اُس وقت کیوں خاموش تھے جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے مبینہ طور پر فوج کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے.