'کراچی سے لاہور' کا خوشگوار سفر

12 اگست 2015

ای میل

پسند کریں یا ناپسند مگر وجاہت رﺅف کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم کراچی سے لاہور دیکھ کر آپ خود کو ایک بار پھر جوان محسوس کریں گے۔ چہروں پر مسکراہٹ دوڑا دینے والے جملوں، پسند آجانے والے کردار جو گھر جیسے ہی محسوس اور رقص کرنے کے لیے اچھے گانے، مجموعی طور پر سڑک کے سفر پر بننے والی فلم تفریح سے بھرپور ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس میں جاوید شیخ اور رشید ناز کے علاوہ بڑے نام شامل نہ ہوں مگر نوجوانوں نے اپنی اداکاری سے خود کو منوایا ہے۔

کراچی سے لاہور کی کہانی زعیم (شہزاد شیخ) کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جس کی محبوبہ عاشی (ایشیتا سید) کسی اور سے شادی کے لیے اسے چھوڑ دیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عاشی لاہور میں جبکہ زعیم کراچی میں رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی محبوبہ کی شادی رکوانے کے لیے لاہور جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

موتی المعروف متزلزل (یاسر حسین) اور سام (احمد علی) بھی جیپو نامی گاڑی کے مالک ٹوانہ صاحب (جاوید شیخ) کے بچوں مریم (عائشہ عمر) اور زی زو (عاشر وجاہت) کے ہمراہ زعیم کے ساتھ ہوتے ہیںاس سفر کے دوران ایک دوسرے سے تعلق کو بہتر بنانے کا موقع اور لاہور پہنچنے تک کا وقت حالات کو ڈرامائی انداز سے بہتری کی شکل میں بدل دیتا ہے۔

اس وقت جب زعیم اور اس کے دوست شادی رکوانے کے مشن کا آغاز کرتے ہیں، وہ ہنسا دینے والے جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں، ' بہترین ' خیالات سامنے آتے ہیں اور موت کے منہ سے بچ نکلنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ یاسر حسین جنھوں نے فلم کا اسکرپٹ تحریر کیا، نے اپنے ڈیبیو کردار میں بہترین کردار نگاری کا مظاہرہ کیا اور دیکھنے والوں کے دلوں کو جیت لیا۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ موتی نام کتوں کے لیے زیادہ موزوں ہے تو اپنے والدین کے دفاع کی بجائے اس کا جواب تھا " بہت پرانا جوک ہے"۔

احمد علی نے ایک لاپروا نوجوان کا کردار ادا کیا اور یہی چیز اسے مشکل میں بھی پھنسا دیتی ہے جسے اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اور فلم میں زی زو (عاشر) بھی ہے جو ایک جونیئر احمق ہے، ڈائریکٹر کے بیٹے نے ڈیبیو پر قابل تعریف کام کیا ہے اور وہ اپنے سے بڑی عمر کے ساتھی اداکاروں کا مقابلہ ہر سین میں کیا ہے۔ اس کی ڈائیلاگ ڈیلیوری ایک بار بھی فرسودہ نہیں لگی اور نہ ہی اس کا رقص جو اس نے تفریح سے بھرپور اختتام میں کیا۔

جاوید شیخ کا بطور ٹوانہ صاحب کردار اور ان کے خوشی (منتہا مقصود) کے ساتھ 'افیئر' کو اسکرین پر مزید وقت دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے ایک رومانوی منظر اور ایک ڈانس نمبر کو اکٹھا کیا جس میں جاوید شیخ اور منتہا نے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کردیں جبکہ وہ دونوں مزید کچھ مناظر میں اکھٹے نظر آئے۔

عائشہ عمر نے فلم کا آغاز ایک نیک پروین لڑکی کے طور پر کیا مگر انٹرول سے قبل ایک سپر ماڈل میں تبدیل ہوگئیں مگر جس چیز نے ان کے کردار کو تبدیل کیا وہ کچھ زیادہ قائل کرنے والی نہیں تھی۔

مختصر کرداروں کی بات کی جائے تو وہ فلم میں کافی زیادہ تھے۔ ٹی وی اور تھیٹر کے اداکار جن میں منزہ ابراہیم، نورالحسن، یاسر تاج، ہاشم بٹ، نذر حسین اور دیگر کو یا تو بڑے کردار دیے جانے چاہیے تھے یا کاسٹ ہی نہ کیا جاتا کیونکہ مختصر کرداروں میں ایسا نظر آتا ہے کہ انہیں ضائع کیا گیا۔

ہاں علی نور اور علی حمزہ ڈائریکٹر وجاہت رﺅف کی اہلیہ شازیہ وجاہت، عثمان علی خان اور فہد احمد کے ساتھ قابل ذکر ڈائیلاگز کا حصہ ضرور بنے۔ یہ سنہری اصول یاد رکھیں جتنے کم مختصر کردار ہوں گے اتنا ہی بہتر اثر مرتب ہوگا۔

فلم کی موسیقی فرحت بخش اور بار بار سننے کے قابل ہے۔ درحقیقت طویل عرصے بعد ہمیں سینما سے باہر نکلتے ہوئے لوگوں کو اس کے گانے گنگناتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔ علی نور، علی حمزہ اور شیراز نے اوپل گانوں کو لکھنے، کمپوز کرنے اور زرش اور عائشہ عمر کے ساتھ گانے پر قابل تعریف کام کیا ہے۔

مجموعی طور پر کراچی سے لاہور ایک ایسی فلم ہے جو کسی کے وقت، پیسے اور صبر کے اہمیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کسی ایسے ڈرامہ فلم کو دیکھنے کے شائق ہیں جس کا اختتام خوشگوار انداز سے ہو یا ایسی مصالحہ فلم جس میں معیار سے عاری مزاح شامل ہو تو آپ اس رومانٹک کامیڈی فلم سے باآسانی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

انگلش میں پڑھیں.