مور: جدید عہد کی کلاسیک فلم

17 اگست 2015

ای میل

انور مقصود نے اسے ایسا کام قرار دیا ہے جو ڈیوڈ لین اور رومن پولانسکی کی یاد دلاتا ہے، ڈائریکٹر جامی نے اسے پاکستان کی کہانی قرار دیا ہے جبکہ اسٹرنگز کو توقع ہے کہ اس کی موسیقی عوام تک پہنچے گی، مگر میری نظر میں 'مور' اپنی نوعیت کی منفرد فلم ہے۔

یہ جامی کا اب تک کا سب سے بہترین کام ہے اور جہاں تک گانوں کی بات ہے تو وہ دل و دماغ کو چھو لیتے ہیں۔ مور نے ہوسکتا ہے کہ بڑی اسکرین تک پہنچنے پر وقت لیا ہو مگر اس نے ایک طاقتور پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے۔

درست اداکاروں کا استعمال

شاز خان
شاز خان

ایک سبق جو ڈائریکٹر جامی نے اپنی آخری فلم آپریشن 021 سے سیکھا، وہ کرداروں کے لیے درست اداکار کو استعمال کرنا تھا۔ اشیتا سید سونیا حسین کے کردار کو نہیں کرسکتی تھیں، اشتیاق رسول ایاز سموں کے کردار میں بھی اچھے نظر نہیں آتے۔ شبیر رانا نے معلم کے روپ میں بہترین اداکاری کی تو سرپرست کے کردار میں حمید شیخ نے کمال کیا۔ درحقیقت حمید شیخ کے معاملے میں الفاظ ان کی پرفارمنس سے انصاف نہیں کرسکتے کیونکہ وہ ان دو افراد میں سے ایک ہیں جو اس فلم کو اپنے کندھوں پر لے کر چلتے ہیں، اسی طرح ہولی وڈ سے درآمد ہونے والے شاز خان نے جدید بلوچی کے کردار میں حیران کردیا۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر اداکار عبدالقادر کو استعمال کرنا درست قدم تھا کیونکہ ہم میں سے بیشتر انہیں ٹی وی پر دیکھتے ہوئے پلے بڑھے ہیں اور بگو کے کردار میں وہ ہنسانے اور رلانے میں کامیاب رہے۔ سلطان حسین ولن لالو کے روپ میں اس بات پر دیکھنے والوں کو قائل کرلیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ریلوے پراپرٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ٹیلیویژن کے سینیئر اداکار اکبر سبحانی کی بطور مہمان اداکار نعمان حبیب اور عدنان جعفر کے ساتھ شرکت اچھی رہی۔ حمید شیخ کے بیٹوں کو اس کردار کے نوجوان روپ میں کاسٹ کرنا کچھ ایسا ہے جو صرف جامی ہی کرسکتا ہے۔

سمیعہ ممتاز پاکستان کی بہترین اداکاراﺅں میں سے ایک ہیں اور نوجوانی سے بڑھاپے کے کردار کو باوقار انداز سے کرنا صرف ان کے ہی بس کا کام لگتا ہے۔ ان کا بلوچی لہجہ ان کے کاسٹیومز کی طرح قائل کردینے والا ثابت ہوا، اور ان کی ذات کے ارگرد فلم کی کہانی گھومتی ہے حالانکہ وہ صرف فلیش بیک موڈ میں ہی اسکرین پر نمودار ہوتی ہیں۔

سینما فوٹوگرافی نے کام کر دکھایا

ڈائریکٹر نے اپنی توانائی کا بڑا حصہ بلوچستان (اور سندھ) کی قدرتی خوبصورتی کو فلمانے پر صرف کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ نیئر اعجاز کے کردار کو مکمل طور پر فراموش کربیٹھے جو جادوئی انداز میں فلم کے سیکنڈ ہاف میں اسکرین پر آتا ہے۔

اس کے علاوہ وہ منظر جہاں شبیر رانا کا کردار حمید شیخ کو اس بات پر قائل کر رہا ہوتا ہے کہ وہی کرو جو اسے درست لگتا ہو، وہاں حمید شیخ کے ردعمل میں کوئی چیز مکمل طور پر گم نظر آئی۔ بلوچستان کے زمینی مناظر کی خوبصورتی حقیقی معنوں پر مسحور کردیتی ہے جس کے لیے ہمیں فرحان حفیظ کی شاندار سینما فوٹوگرافی کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

اکثر شائقین کے لیے رنگوں کو اجاگر کرنے کا انداز نیا ہوگا مگر یہی چیز جامی کو جامی بناتی ہے۔ فلم کی ڈبنگ عام انداز سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے فلم لگان کے طریقے پر عمل کیا گیا جس میں قدرتی آوازوں کو ڈائیلاگز کے ساتھ شامل کردیا گیا۔ وہ مناظر جہاں ٹرین حرکت کرتی نظر آتی ہے وہ سینما میں سانسیں روک دینے والے ثابت ہوتے ہیں۔

گانے جو سب کو متاثر کردیں

مور کے میوزک ریلیز پر کچھ تنازع سامنے آیا تھا مگر اب سب ٹھیک ہے کیونکہ اب پیرا ہو کو اس میں سے نکال دیا گیا ہے، مگر اس کے بغیر بھی گانے زبردست ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اسٹرنگز (بلال مقصود، فیصل کپاڈیہ) نے ایک پاکستانی فلم کی موسیقی ترتیب دی، اس سے پہلے وہ ہولی وڈ (اسپائیڈر مین) اور بولی وڈ (شوٹ آﺅٹ ایٹ لوکھنڈ والا، زندہ) میں کام کرچکے ہیں۔

بہت کم افراد نے ان دونوں سے دلوں پر چھاجانے والی موسیقی کی توقعات وابستہ کی تھیں مگر وہ تو سب سے چھا گئے۔ میشا شفیع کی آواز میں خوبصورت نغمہ ایوا، رحمہ علی اور نعمان فاروقی کا پرسوز جیے جیے جا، رحیم شاہ کا گل بشری، جواد بشیر کا طلبگار ہوں اور جوگیا جبکہ اسٹرنگز کا اپنا تم ہو اور کو کو کو، غرض ہر گانا کہانی میں کسی نگینے کی طرح فٹ ہے۔

انور مقصود کی شاعری ہمیشہ سے اسٹرنگز کی کامیابی کا راز رہی ہے اور اس بار انور مقصود نے فلم کی سچوئیشن کے مطابق لکھ کر ایک بڑا فرق پیدا کردیا ہے۔

توجہ حاصل کرنے والا اسکرین پلے

سمیعہ ممتاز
سمیعہ ممتاز

مور کی کہانی باپ (حمید شیخ) اور بیٹے (شاز خان) کے تعلق کے گرد گھومتی ہے جو خود کو اپنی زندگیوں کے ایک اہم موڑ پر پاتے ہیں جہاں انہیں ایسے فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو مستقبل میں ان کی زندگیوں کی راہوں کا تعین کریں۔

اگرچہ اسٹیشن ماسٹر اپنی ملازمت اور گھر کی پروا کرتا ہے مگر اس کا بیٹا کراچی چلا جاتا ہے اور زندگی میں غلط انتخاب کرنے لگتا ہے۔ وہ منظر جہاں باپ اور بیٹے کا ایک پولیس اسٹیشن میں آمنا سامنا ہوتا ہے دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

دیکھنے والوں کے لیے فلم کی رفتار کو ہضم کرنا مشکل ہو کیونکہ پہلا ہاف انتہائی سست رفتاری سے کہانی کی پرتیں کھولتا ہے۔ مگر انٹرول کے بعد کہانی اس وقت رفتار پکڑتی ہے جب اسٹیشن ماسٹر معاملات اپنے ہاتھوں میں لیتا ہے اور اپنے بیٹے کی غلط راہوں کو دریافت کرتا ہے۔

فلم کی کہانی ترتیب کے لحاظ سے آگے نہیں بڑھتی مگر یہی فلم بنانے کا جدید انداز ہے تاہم اس کا اختتام درست طریقے سے ہوا ہے۔ حمید شیخ کا کردار کلائمکس میں کہانی کو سمیٹتا ہے، تاہم ٹرین کے آخری سفر میں ایک کردار کا اضافہ برداشت کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔

مجموعی طور پر مور ایک ایسی فلم ہے جس میں متوازی سینما پاکستان کے کمرشل سینما سے ملتا ہے اور اگر یہ کامیاب نہ بھی ہوئی تو بھی یہ عالمی سینما کی تاریخ میں مختلف ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ خود بنالے گی ۔

یہ مضمون ڈان کے سنڈے میگزین میں 16 اگست 2015 کو شائع ہوا.