خالصتان تحریک: ہندوستان کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ؟

اپ ڈیٹ 18 اگست 2015

ای میل

ایک سکھ عقیدت مند گولڈن ٹیمپل کے تالاب میں غسل کر رہا ہے۔ — AFP/File
ایک سکھ عقیدت مند گولڈن ٹیمپل کے تالاب میں غسل کر رہا ہے۔ — AFP/File

کئی دہائیوں تک راکھ میں دبے رہنے کے بعد خالصتان تحریک کی چنگاری اب ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے۔ 3 جون 1984 کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کی سربراہی میں خونی آپریشن بلیو اسٹار کے دوران بے پناہ طاقت کے استعمال نے وقتی طور پر 70 اور 80 کی دہائی میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری علیحدہ ملک کی سکھ تحریک کو کچل دیا تھا۔ لیکن جیسا کہ آزادی کی تحریکوں میں ہوا کرتا ہے، طاقت کا استعمال وقتی طور پر تو کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اگلی نسلوں کے جوان ہونے تک طاقت کا استعمال بذاتِ خود تحریکوں میں نئے جذبے پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔

جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے 80 کی دہائی میں سکھوں کے علیحدہ ملک کی تحریک کے روحِ رواں تھے۔ آپریشن بلیو اسٹار کا ہدف بھی انہی کی قیادت میں 'خالصتان' حاصل کرنے کے لیے منظم ہونے والے نوجوان سکھ جنگجو تھے جو سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں زائرین ہلاک ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، سکھوں کے سب سے مقدس گوردوارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور سکھوں کے لیے مقدس ترین دنیاوی مظہر اکال تخت کو بھی نقصان پہنچا۔

جس بے رحمی سے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے اور ان کے ساتھیوں کو طاقت کے بے پناہ استعمال کے ذریعے ہلاک کیا گیا، اور جس طرح سے گولڈن ٹیمپل پر آپریشن کے لیے سکھوں کے مذہبی تہوار کے دنوں کا انتخاب کیا گیا جب وہاں ہزاروں زائرین کی موجودگی یقینی تھی، وہ سکھ نیشنلزم اور خالصتان تحریک کے احیاء کے ایسے بیج بو گیا، جنہوں نے اب پھوٹنا شروع کر دیا ہے۔

خالصتان تحریک کے بارے میں ہندوستان کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ تحریک پاکستان کی پیدا کردہ ہے جو مشرقی پاکستان میں ہندوستان کی جانب سے دخل اندازی کا بدلہ لینے کے لیے شروع کی گئی۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو مستقبل کا تاریخ دان بتائے گا لیکن ہندوستان کی جو تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ خالصتان کی تحریک بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تحریک۔

وکی پیڈیا کے مطابق ’’خالصتان‘‘ کی اصطلاح بھی مارچ 1940 میں ڈاکٹر ویر سنگھ بھٹی نے ایک پمفلٹ میں وضع کی، جو مسلم لیگ کی 23 مارچ 1940کی قراردادِ پاکستان کے ردعمل کے طور پر لکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر ویر سنگھ کے مطابق پاکستان کا مطالبہ چونکہ مذہبی بنیادوں پر کیا جا رہا تھا اور پنجاب (اس وقت کا پنجاب پاکستانی پنجاب، ہندوستانی پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھا) کو پاکستان میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا جہاں سکھ کافی بڑی تعداد میں آباد تھے، اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں پاکستان کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کچھ علاقوں میں خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ ملک بھی قائم کیا جائے۔

ان کا خواب اس لیے شرمندہء تعبیر نہیں ہوسکا کیونکہ اس وقت پنجاب کے کسی ایک ضلع میں بھی سکھ اکثریت میں نہیں تھے لیکن تقسیم ہند کے بعد چونکہ پاکستانی پنجاب سے سارے سکھ ہجرت کر کے ہندوستانی پنجاب کے ملحقہ ضلعوں میں چلے گئے تو وہاں کچھ ضلعوں میں سکھ اکثریتی علاقے وجود میں آنے لگے۔ البتہ خالصتان کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے یہ تبدیلیاں کافی نہیں تھیں۔

پڑھیے: ہندوستان میں 'خالصتان تحریک' تیز ہونے لگی

ہندوستان میں آزادی کے بعد کہنے کو تو کانگریس کی سیکیولر حکومت قائم ہوئی لیکن اس سیکیولر حکومت نے جس قسم کی مذہبی پالیسیاں بنانا شروع کیں ان سے مسلمانوں کی طرح سکھوں کو بھی بہت شکایات پیدا ہوئیں۔ شکایات کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی آنے لگے، اور وہ مطالبات سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔

جب سکھوں کی شکایات اور مطالبات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا اور کئی دہائیوں تک ہندوستان پر حکمران رہنے والی کانگریس ان مطالبات پر سکھوں کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئی، تو ہندوستانی پنجاب میں کئی ایک سیاسی جماعتیں اور علیحدگی کی تحریکیں منظم اور فعال ہونا شروع ہو گئیں جن میں سے کچھ دبے لفظوں میں اور کچھ کھلے عام، کچھ پر امن سیاسی جدوجہد سے، اور کچھ جنگجوانہ مزاحمت کے ذریعے سکھوں کے علیحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے لگیں۔

70 اور 80 کی دہائی میں یہ تحریکیں بہت زور پکڑ گئیں اور پھر خالصتان تحریک کی سربراہی نئی نسل کے نوجوان جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی مقبولیت کے باعث ان کے ہاتھوں میں آنا شروع ہو گئی۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے مذہبی رہنما تھے اور سکھ مذہب کے احیاء اور فروغ کے لیے کوشاں تھے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جنگجو تنظیم سازی کے ذریعے بزورِ طاقت خالصتان کے علیحدہ ملک بنانے کی جدوجہد شروع کر دی جو آپریشن بلیو اسٹار میں ان کی اپنے سینکڑوں مسلح ساتھیوں کی ہلاکت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی۔

آپریشن بلیو اسٹار نے سکھوں میں اتنا غم وغصہ پیدا کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ گارڈز نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہزاروں سکھوں کو ہنگاموں کے دوران قتل کیا گیا جس کا الزام سکھ رہنما کانگریس کی حکومت اور سرکاری افسران پر لگاتے ہیں۔ ان سارے واقعات نے ہندوستانی ریاست اور سکھوں کے درمیان نہ ختم ہونے والی نفرت پیدا کر دی۔ ان واقعات کے بعد سے سکھ مسلح جدوجہد اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کا آغاز ہوا۔

خالصتان کی سکھ تنظیموں نے دوسرے ملکوں میں بسنے والے سکھوں کو منظم کرنا شروع کیا اور آج ایک دفعہ پھر خالصتان تحریک مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہندوستانی انتظامیہ اور اس کی خفیہ ایجنسی را کے بارے میں بھی ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ خالصتان تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ اس وقت ببر خالصہ، انٹرنیشنل سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، خالصتان کمانڈو فورس، آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بھنڈرانوالے ٹائیگر فورس آف خالصتان، خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان لبریشن فورس، خالصتان لبریشن آرمی، دشمیش رجمنٹ، اور شہید خالصہ فورس نامی مختلف تنظیمیں خالصتان کی آزادی کے لیے سرگرم ہیں۔

پڑھیے: 'خالصتان فورس'کے ہاتھوں ہندو رہنما قتل

یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس وقت ہی کیوں خالصہ تحریک دوبارہ زور پکڑ رہی ہے، تو جواب بڑا سیدھا سا ہے کہ ہندوستان میں ایک بہت بڑی اور منظم تحریک ہے جو ہندوستان کی ریاست کو مذہبی انتہا پسندانہ پیرائے میں چلانا چاہتی ہے۔ یہی سوچ اور تحریک ہے جس کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا، یہی سوچ اور تحریک ہے جس نے کشمیر کو دھونس کے ذریعے ہندوستان میں شامل کر کے جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہ کیا، اور یہی سوچ اور تحریک ہے جس کے نتیجے میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہندوستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حد تو یہ ہے کہ وہ شخص جو ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار گردانا گیا، اُسے انتخابات میں تاریخی فتح حاصل ہوئی۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے ساتھ ہی ایک انتہاپسندانہ جارحانہ مذہبی تاثر دیا گیا۔ اس جارحیت کا جواب کسی نہ کسی شکل میں آنا تھا۔ نریندر مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ ہندو مذہبی احیاء کے سہارے ریاست چلانا چاہیں گے تو پھر دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی مزید آزاد ریاستوں کا مطالبہ کریں گے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا رجحان جنم لے رہا ہے اور خالصتان کی تحریکوں میں مذہب کے ساتھ ساتھ بتدریج قوم پرستی کا رنگ بھی سامنے آنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتان تحریک سے وابستہ تنظیموں نے اب کشمیر میں ہونے والی ہندوستانی زیادتیوں کا ذکر بھی کرنا شروع کر دیا ہے اور چند ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں تحریکیں مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو سکیں گی۔

ہندوستان کے ریاستی معاملات میں تیزی سے بڑھنے والی مذہبی انتہاپسندانہ سوچ ان دونوں تحریکوں کو بالآخر ایک دوسرے کے قریب لانے کا موجب بنے گی۔ حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے بجائے ریاستی جبر کے ذریعے مختلف علاقوں میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے کی کوششیں بھی ان تحریکوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

خالصتان تحریک کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری آزادی کی تحریکوں کے پیچھے ایک تاریخی وجہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں بسنے والی قومیں جغرافیائی، لسانی، تاریخی، اور قومی لحاظ سے اتنی متنوع اور مختلف ہیں کہ ان ساری قوموں کو دہلی کی مرکزی حکومت کے زیر سایہ چلانے میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ تاریخی طور پر ہندوستان کے وسیع و عریض علاقے کو کبھی بھی بہت لمبے عرصے تک ایک مرکزی حکومت کے طور پر چلانا ممکن نہیں رہا۔ ہزاروں سال کی تاریخ میں مغلوں یا برٹش راج کے علاوہ کوئی بھی مرکزی حکومت پورے کے پورے ہندوستان کو چند عشروں یا پھر ایک آدھ صدی سے زیادہ اکٹھا چلانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

ہندوستان کو اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے اندر درجن سے زیادہ قومیں اس کے خلاف آزادی کی تحریکیں چلانے پر مجبور ہیں اور ہندوستان کے پڑوسی اس سے الگ نالاں رہتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہر چیز کا الزام پاکستان پر ڈالا جائے، ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں یہ آزادی کی تحریکیں ان کے اپنے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے تو جنم نہیں لے رہیں؟