شام بحران مذاکرات : سعودیہ اور ایران کا شرکت کا اعلان

29 اکتوبر 2015

ای میل

یہ پہلا موقع ہے جب ایران شام کے حوالے سے کسی بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
یہ پہلا موقع ہے جب ایران شام کے حوالے سے کسی بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

ریاض: سعودی عرب اور ایران نے شام کے معاملے پر ہونے والے بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کا اعلان کردیا۔

شام کے حوالے سے علاقائی فریقین اور مخالفین کے درمیان آئندہ جمعہ کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات ہورہے ہیں جس کا مقصد شام میں گزشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کا حل تلاش کرنا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ مذاکرات میں سعودی عرب کی شرکت کا مقصد شامی حکومت کے حامی ممالک روس اور ایران کو امن معاہدے کے لیے رضامند کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شام کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے اور مذاکرات کا مقصد اس حوالے سے ایران اور روس کے ارادوں کو جاننا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جمعہ کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان شام کے حوالے سے ایک الگ اجلاس بھی منعقد ہوگا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اس کثیر جہتی مذاکرات میں ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ جواد ظریف اور ان کے 3 نائیبین کریں گے۔

یہ پہلا موقع ہے جب ایران شام کے حوالے سے کسی بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے۔

مذاکرات کے دوسرے فریق امریکا کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد شام کے مستقبل کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔

بین الاقوامی مذاکرات میں مصر، عراق، قطر، لبنان، یورپین یونین اور فرانس نے بھی شرکت کا عندیہ دیا ہے۔

یہ بات اب تک واضح نہیں ہوسکی ہے کہ مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی حکومت یا اپوزیشن کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے یا نہیں، تاہم شام کے مسئلے پر ویانا میں ہونے والے آخری مذاکرات میں شام کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

ایک سینئر مغربی سفارتکار نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایک طرف روس اور ایران ہیں تو دوسری طرف باقی ممالک ہیں، اس لیے مذاکرات کا مسئلے کے بنیادی پہلوؤں سے آغاز کرنا ہوگا۔

ایران کے سیاسی تجزیہ کار علی صدر زادہ کے مطابق ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مذاکرات کے بغیر شام کے مسئلے کا حل نہیں نکالا جاسکتا، لیکن فرق صرف یہ ہے کہ اب امریکا اور روس بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔