صوابی میں پولیو کو آرڈینیٹر قتل

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2015

ای میل

ایک پولیس اہلکار پولیو ورکر کے ہمراہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پر مامور ہے—۔فائل فوٹو/ آن لائن
ایک پولیس اہلکار پولیو ورکر کے ہمراہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پر مامور ہے—۔فائل فوٹو/ آن لائن

صوابی: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر یعقوب ہلاک اور ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے.

صوابی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جاوید اقبال وزیر کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ڈاکٹر یعقوب پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنی گاڑی میں گھر سے دفتر جارہے تھے.

فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر یعقوب ہلاک جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا.

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان اور نائجیریا سمیت دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس پایا جاتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ میں دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں سے 80 فیصد کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم

تاہم اس مرض پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو پولیو رضاکاروں پر حملہ کر کے سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی اپنے عروج پر ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

طالبان کا مؤقف ہے کہ پولیو مہم اسلامی نظام کے خلاف ہے، لہٰذا جو بھی اس مہم کا حصہ بنے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ 2011ء میں امریکن نیوی سیلز کے ایبٹ آباد میں ایک چھاپہ مارکارروائی کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان نے 2012ء میں پولیو ویکسین پر پابندی عائد کردی تھی.

اس کارروائی سے پہلے سی آئی اے نے ایک مقامی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بھیجا تھا، جس نے اسامہ بن لادن کے گھر سے بچوں کے ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپاٹائٹس ویکسین پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔

اس بات نے ایک ایسے ملک میں بداعتمادی کو جنم دیا، جہاں بہت سے لوگ یہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ یہ ویکسین دراصل مسلمان بچوں کو بانجھ بنانے کی سازش ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پولیو جہاد کے 'شہداء' کی داستان

یہی وجہ ہے کہ اس مستقل معذور کردینے والی بیماری کے وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک اس کے خاتمے کی مہم ہوسکتی ہے، اس لیے کہ پولیو کے خاتمے کی مہم میں شریک ہزاروں رضاکاروں کو مختلف علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کے لیے اکثر اوقات مسلح گارڈ کے ساتھ بھیجاجاتا ہے۔

مغرب میں پولیو کے خاتمے کو طویل عرصہ گزرگیا، لیکن پاکستان میں طالبان کی جانب سے حفاظتی ویکسین پر پابندی، طبّی عملے کو حملوں کا نشانہ بنانے اور اس ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پولیو کا مرض پاکستان میں موجود ہے۔