'کوئی لندن، کوئی جنیوا سے استعمال ہورہا ہے'

اپ ڈیٹ مارچ 31 2016

ای میل

کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض — فوٹو : ڈان نیوز
کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض — فوٹو : ڈان نیوز

کوئٹہ: بلوچستان سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی 'را' کے حاضر سروس ایجنٹ کی گرفتاری کے ایک دن بعد پاک فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے دعویٰ کیا ہے کہ لندن اور جنیوا میں موجود کچھ عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں.

کوئٹہ میں یوم شہداء کی تقریب سے خطاب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے ہندوستانی جاسوس کے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے روابط تھے اور وہ صوبے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا.

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ ہمارا دشمن بلوچستان کی ترقی نہیں چاہتا اور یہاں لوگ دشمن کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان سے انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو خطرہ ہے، کوئی لندن اور کوئی جنیوا میں بیٹھ کر استعمال ہو رہا ہے، لہذا عوام بیرونی سازشوں کو سمجھیں.

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے پیغام دیا وہ سدھر جائیں۔

کمانڈر سدرن کمانڈ نے مزید کہا کہ ہمیں شہداء کی قربانیوں پر فخر ہے، عوام بیرونی سازشوں کو سمجھیں، کیوں کہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں۔

یاد رہے کہ 'را' کے جاسوس کی گرفتاری پر ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بامبا والے کو آج دفتر خارجہ طلب کیا گیا، جہاں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے انہیں بلوچستان سے حاضر سروس ہندوستانی سیکیورٹی افسر کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا۔

سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی جاسوس کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا ہے کہ ہندوستان، بلوچستان اور کراچی میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جبکہ اس قسم کے ہندوستانی اقدامات دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیں : جاسوس کی گرفتاری: پاکستان کا ہندوستان سے احتجاج

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان، پاکستان میں جاسوسی کی سرگرمیاں بند کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حساس اداروں نے بلوچستان میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہندوستانی نیوی کے حاضر سروس افسر کو گرفتار کیا تھا، جس کی صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بھی تصدیق کی تھی۔

اس گرفتاری کا اصل مقام تو ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم سیکیورٹی اداروں کے مطابق گرفتار افسر کا تعلق ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے اور اسے گرفتاری کے بعد تفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنا نام کلبھوشن یادیو اور تعلق ہندوستان نیوی سے بتایا، جو بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی مدد اور صوبے میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے میں ملوث ہے۔

اس کے علاوہ ملزم کے کراچی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے روابط ہیں، جبکہ وہ کراچی میں ہونے والی متعدد دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا ذمہ دار بھی بتایا جارہا ہے.

خیال رہے کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کو فنڈز اور ٹریننگ فراہم کررہی ہیں.

اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتی حکام بھی متعدد بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں جاری سورش کے پیچھے 'را ' کا ہاتھ ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔