کراچی میں چینی شہری کی گاڑی کے قریب دھماکا

اپ ڈیٹ 30 مئ 2016

ای میل

کراچی: شہر قائد کے علاقے گلشن حدید میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کے مطابق دھماکا خیز مواد نیشنل ہائی وے پیٹرول پمپ کے قریب گرین بیلٹ میں ایک گملے کے اندر نصب کیا گیا تھا۔

دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی—۔ڈان نیوز
دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی—۔ڈان نیوز

راؤ انوار کے مطابق دھماکے میں بظاہر چینی شہری کو نشانہ بنایا گیا، جو بغیر سیکیورٹی کے اپنے ڈرائیور کے ہمراہ وہاں سے گزر رہے تھے۔

ایس ایس پی راؤ انوار کے مطابق دھماکے کے مقام سے سندھی زبان میں تحریر ایک دھمکی آمیز خط بھی ملا ہے، جس میں غیر ملکیوں کو مزید حملوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ سندھ کے کوئلے کے ذخائر پر قبضہ کر رہے ہیں۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی—۔ڈان نیوز
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی—۔ڈان نیوز

دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

زخمیوں کو قریب ہی واقع 100 بیڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

جائے وقوع سے ملنے والا دھمکی آمیز خط—۔ڈان نیوز
جائے وقوع سے ملنے والا دھمکی آمیز خط—۔ڈان نیوز

جائے وقوع سے ملنے والے خط میں سندودیش انقلابی آرمی کے ترجمان سودھو سندھی نے چینی شہری پر دھماکے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سندھ گیس اور کوئلے جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور آزادانہ حیثیت سے ایک خوشحال علاقہ رہا ہے، لیکن اب لٹیروں نے اس کے وسائل لوٹنے کے لیے یہاں حملہ کردیا ہے، تاہم سندھی اس مہم کی مخالفت کرتے ہیں۔

مزید لکھا گیا کہ آج سندھ ، پنجاب سامراج کی جانب سے پاکستانی قوم پرستی اور اسلام کے نام پر غلام ہے، جس کے خاتمے کے لیے جی ایم سید نے جدید سندھ قوم پرستی کا نظریہ پیش کیا اور سندھ کی پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کیا۔

خط میں مزید لکھا گیا کہ قوم پرست چین کو پنجاب اسٹیبلشمنٹ کا اتحادی سمجھتے ہیں جو سندھ کے وسائل کو لوٹ کر اسے اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم گلشن حدید میں چینی شہری پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ہم چین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سمیت سندھ مخالف تمام منصوبوں کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اے ڈی خواجہ نے ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے پر سیکیورٹی سخت کرنے اور مشتبہ گاڑیوں اور افراد کی چیکنگ کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس دورہ پاکستان کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان میں کام کرنے والے چینی ماہرین کی سیکیورٹی کا معاملہ اٹھایا تھا، جس کے بعد پاکستان بھر میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی پاک فوج کے اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن کے سپرد کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:چینی باشندوں کی سیکیورٹی فوج کے سپرد

صدر ممنون حسین نے چینی صدر شی جن پنگ کو بتایا تھا کہ پاکستان میں مقیم چینی انجینیئرز، پروجیکٹ ڈائریکٹرز، ماہرین اور دیگر باشندوں کی حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن قائم کردیا گیا ہے۔

بعدازاں پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ رینجرز بھی اس سیکیورٹی پلان کا حصہ ہوگی۔

دوسری جانب گذشتہ برس اگست میں سندھ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی سمیت صوبہ سندھ میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں اور ماہرین کی سیکیورٹی کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تشکیل دیا جاچکا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔