رجب شاہ: 'کوئی قدر نظر نہیں آتی'

اپ ڈیٹ 17 اگست 2016

ای میل

رجب شاہ نے 9 سال کے عرصے میں انتہائی بلندی پر کام کرنے والے قلی کے طور پر پانچ چوٹیوں کو سر کرنے کا شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔ — فوٹو waytok2.com
رجب شاہ نے 9 سال کے عرصے میں انتہائی بلندی پر کام کرنے والے قلی کے طور پر پانچ چوٹیوں کو سر کرنے کا شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔ — فوٹو waytok2.com
رجب شاہ اپنے گھر میں اپنے تمام ایوارڈز کے ہمراہ بیٹھے ہیں۔
رجب شاہ اپنے گھر میں اپنے تمام ایوارڈز کے ہمراہ بیٹھے ہیں۔

پاکستان میں جو تھوڑے بہت لوگ پہاڑوں اور کوہ پیمائی میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے علاوہ رجب شاہ کو زیادہ لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔

رجب شاہ پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے ملک میں موجود 8 ہزار میٹر بلند تمام پانچ چوٹیوں کو سر کیا تھا اور کوہ پیمائی پر صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی حاصل کیا۔ مگر ان کے بارے میں جاننے کے لیے اب بھی بہت کچھ ہے جس سے ہم ناآشنا ہیں۔

سامان اٹھانے سے کریئر کا آغاز

رجب شاہ کے لیے پہاڑ ہی ذریعہ آمدن تھے۔ انہوں نے 9 سال کے عرصے میں انتہائی بلندی پر کام کرنے والے قلی کے طور پر پانچ چوٹیوں کو سر کرنے کا شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔

20 کلو سامان کا وزن اٹھائے وہ پہلے کیمپ تک پہنچے اور کیمپ 4 کے بعد ٹیم کے لیے راستہ صاف کرتے ہوئے انہوں نے حقیقتاً اوپر کی جانب اپنا راستہ بنایا۔

ماہر ترین کوہ پیماؤں کو شکست دے دینے والے 8126 میٹرز (26 ہزار 6 سو 60 فٹ) بلند ہیبت ناک نانگا پربت پر پاک فوج کی مہم کے ساتھ کام کرنے سے پہلے انہیں 6 ہزار یا 7 ہزار میٹرز کی بلندی پر چڑھنے کا کبھی موقع نہیں ملا تھا۔

چوٹی کو سر کرنے کے بعد انہیں کیمپ 4 واپس آ کر صرف ایک رات آرام کرنے کا موقع ملا تھا کہ انہیں ایک اور ٹیم ممبر، جس نے ان کے بعد چوٹی سر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کیمپ واپس آنے میں ناکام رہا تھا، کو بچانے کے لیے دوبارہ چوٹی پر چڑھنا پڑا تھا۔ یہ بات ان کے مضبوط کردار کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔

اپنی صلاحیتیں گاؤں کے لیے وقف کر دیں

رجب بلاشبہ ایک سخی شخص تھے۔ ایسا کارنامہ جو کہ پوری دنیا کی کوہ پیما برادری کے لیے غیر معمولی حیثیت کا حامل ہے، اسے سر انجام دینے کے بعد خاندان اور اپنی برادری سے گہرا تعلق رکھنے والے اس آدمی نے پاکستان کے شمال میں واقع شمشال (3100 میٹر بلند) میں اپنے چھوٹے سے گاؤں واپس جانے کو ترجیح دی۔

شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے وہ اپنی صلاحیتیں لیے واپس اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ شمشال کی اگلی نسل کو رضاکارانہ طور پر کوہ پیمائی کی تربیت دینے کے لیے انہوں نے سخت محنت سے خریدا ہوا کوہ پیمائی کا ساز و سامان عطیہ کر دیا، اور اس کے بعد دیگر لوگوں کی مدد سے شمشال میں کوہ پیمائی کا اسکول قائم کیا۔

اس اسکول نے اگلی نسل کے نامور کوہ پیماؤں کو پیدا کیا جن میں مرزا علی، ثمینہ بیگ، قدرت علی اور شاہین بیگ شامل ہیں۔ پچھلے سال اپریل میں ان کے انتقال تک وہ ملکی کوہ پیمائی کے ہنر کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے تھے۔

پہاڑوں کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ ملک میں پھیلتی ہوئی انتہاپسندی نے جہاں پورے ملک کے لیے مسائل پیدا کیے تھے، وہاں یہ ان کے علاقے میں بھی سیاحت کے لیے کافی مسائل کی باعث بنی تھی۔ انہوں نے شمشال میں نوجوانوں کو تربیت دی کیوں کہ وہ کافی پر امید تھے کہ اس خطے کے خوبصورت پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے بیرون ملک سے کوہ پیما مہمات پر آئیں گے۔

مگر تنازعات اور کچھ لوگوں کی ''تنگ ذہنیت'' کی وجہ سے (جیسا وہ شائستگی سے کہتے تھے) یہ سب کچھ نہ ہوسکا۔ ان کے نزدیک کوہ پیمائی کی سیاحت دنیا کو یہ دکھانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان میں ہر کوئی شدت پسند نہیں ہے۔

کوہ پیمائی کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دور کے پاکستان کے نوجوان انتہائی خوش قسمت ہیں جو ایسے دور میں پیدا ہوئے ہیں جہاں چوٹیاں ''ہمارے گھروں کی چھتوں جیسی ہیں'' اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے ایسے غیر معمولی درے اور گلیشیئرز ہیں جنہیں لوگ ہمیشہ ہی دیکھنے کے لیے آتے رہیں گے۔

ان کی شدت سے یہ چاہ تھی کہ وہ مقامی کوہ پیمائی کی سیاحت بحال دیکھیں اور مسلسل نوجوان کوہ پیماؤں کو اس میں دلچسپی لینے اور آگے آنے پر زور دیتے رہتے تھے۔ وہ پر امید تھے کہ آہستہ آہستہ تنازع کا یہ دور بھی ختم ہو جائے گا۔

خواتین کی حوصلہ افزائی

رجب شاہ نے شمشال کی خواتین کو ان کے لیے مخصوص صنفی کردار سے باہر قدم رکھنے اور کوہ پیمائی کی جانب آنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

ان کے مطابق انہوں نے شمشال کی خواتین کو بہتر کوہ پیماہ بنانے کے لیے انہیں تربیت دینی اس لیے شروع کی کیوں کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ پاکستان انتہاپسندوں سے بھرا ہوا نہیں ہے اور شمال میں بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کوہ پیمائی کرتی ہیں۔

ان کی خواہش کی تکمیل ثمینہ بیگ کی کامیابی کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے ایورسٹ کو سر کیا اور ان سے تربیت حاصل کرنے والی خواتین اس فیلڈ میں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔

وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ، ''ثمینہ میری طالبہ ہے۔ اس کے بعد ایسی 1 ہزار اور ثمینائیں ہوں گی؛ یہی ہمارا تنگ ذہنیت کو جواب ہے۔''

آج شمشال کی خواتین پاکستان کی کچھ انتہائی مضبوط اور باہمت کوہ پیماؤں میں سے ہیں۔

ایک ماحول دوست انسان

انہیں نہ صرف اپنی برادری کی فکر تھی بلکہ انہیں فطرت کی بھی اتنی ہی فکر لگی رہتی تھی۔ پاکستان کے شمال میں موجود تازہ پانی کے ذخائر کے بارے میں اپنی ساری زندگی جذباتی انداز میں بات کی۔

جب پہلی بار انہوں نے کوہ پیمائی کی دنیا میں قدم رکھا تب وہ 1986 میں گلیشیئر پر ریسرچ کے لیے ہونے والی ایک مہم کے مددگار کے حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

جب انہیں صدرِ پاکستان فاروق لغاری سے ملنے کا ایک قیمتی موقع ملا، تب انہوں نے گلیشیئرز کے متعلق اپنی پریشانی اور وہاں جمع ہونے والے کوڑے کرکٹ کے بارے میں آگاہ کیا جو کہ کافی نقصان دہ تھا۔

2014 میں ان کے ساتھ آخری انٹرویو کے دوران انہوں نے مجھ سے بھی اسی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ آخری بار 2007 میں بالتورو گلیشئر پر گئے تھے، تب وہاں مردہ جانور اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر ان کا دل ٹوٹ گیا تھا۔

ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے جب انہوں نے کہا کہ،''اگر اس وقت ہی ایسی حالت تھی تو اب نہ جانے کیا حال ہوگا۔''

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو ان مسائل کے بارے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''کچھ بھی مشکل نہیں ہے، محض تھوڑے وقت، پیسوں اور تھوڑی ہمت کی ضرورت ہے۔''

ایک فکرمند انسان

رجب شاہ کو معلوم تھا کہ شمشال کی روایاتی طرز زندگی کا قریبی تعلق علاقے کی تعلیم سے جڑا ہے۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ان کی اگلی نسل کے لیے تعلیم کے علاوہ قدرت نے انہیں ہر اس چیز سے نوازا ہے جس کی انہیں ضرورت تھی۔

اس وجہ سے وہ یہ محسوس کرتے تھے ان کا روایتی طرز زندگی ختم ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ اگر ان کے گاؤں میں بہتر معیاری تعلیم میسر ہوگی تو انہیں اپنے ان بچوں کو خود سے الگ نہیں کرنا پڑے گا، جو تعلیم اور کام کے حصول کے لیے جنوب کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کا اپنا بیٹا پہلے گلمت گیا، پھر اسلام آباد اور ماسٹرز کے بعد قازقستان چلا گیا۔

وہ کہتے تھے کہ ''یہ خوبصورت پہاڑ ہی ہمارا ورثہ ہیں، جو ہمیں آزادی کا احساس دلاتے ہیں۔''

''میں انہیں چھوڑ کر شہر کے ایک کمرے میں محصور ہو کر کیوں بیٹھوں؟'' انہوں نے کہا کہ وہ انہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن وہ مجبوراً ان دونوں چیزوں کے درمیان بندھے ضرور ہیں۔ انہیں اپنے بچوں سے پیار بھی ہے لیکن انہیں اس زندگی سے بھی پیار ہے جس سے وہ آشنائی رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور کے خواہشمند تھے جس میں وہ گاؤں میں اپنے مویشیوں سے حاصل ہونے والے خام مال سے اپنا کپڑا خود بنائیں گے۔

انہوں نے محسوس کیا تھا کہ ان کے پاس سب کچھ ہی جنوب سے آ رہا ہے: جو کپڑے وہ پہنتے ہیں، جو کھانا وہ کھاتے ہیں، الیکٹرانکس اور ٹی وی پروگرامز بھی وہاں سے آتے ہیں۔ انہیں لگتا تھا کہ اگر تمام تر چیزیں جنوب سے آ رہی ہیں تو اس طرح وہ اپنے نوجوانوں کو وہاں جانے سے روک نہیں سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب وہ ان کے طرز زندگی کے لیے خطرہ پیدا کرتی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔

اپنے ملک کے ہاتھوں مایوس ہوئے

انہیں اس بات کی آگاہی تھی کہ ملک میں کوہ پیمائی کی زیادہ 'قدر' نہیں کی جاتی۔ جب انہوں نے اس پر بات کی تو وہ بہت ہی مایوس دکھائی دیے، کہنے لگے کہ وہ 20 سالوں تک پہاڑوں پر چڑھ کر ملک کی خدمت کر چکے ہیں لیکن اب وہ کافی بوڑھے ہوچکے ہیں اور بغیر باقاعدہ آمدن یا پینشن کے اپنے گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

ان کی وفات سے چند ماہ قبل جب میری ان سے آخری بار بات ہوئی تو اس باوقار شخص نے کہا تھا کہ:

''اب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ خدانخواستہ میں بیمار ہو جاؤں تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ اس ملک میں کوئی قدر نہیں ہے، کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس ہی سے تھوڑا سا دکھ ہوتا ہے۔''

اور جب جنوب سیاستدانوں، اداکاروں، گلوکاروں، کھلاڑیوں اور ہر غلط جگہ پر رول ماڈلز کی تلاش میں مصروف تھا؛ وہاں شمال میں ایک کامیاب ترین، عاجز اور سخی پاکستانی خاموشی سے وفات پا جاتا ہے۔

نہ عوام دکھ کا اظہار کرتی ہے، نہ مقامی ٹی وی چینل کوریج دیتے ہیں، کہیں بھی ''قدر'' دکھائی نہیں دیتی۔

اب انہیں خراج پیش کرنے کے لیے ہم صرف ان کے لیے دعا کر سکتے ہیں کہ خالق حقیقی کی طرف لوٹنے کے لیے وہ جس بلندی پر نکلے، وہ ان کی تمام مہمات میں سے سب سے زیادہ کامیاب ترین مہم ہو۔ اس مہم میں وہ فرشتوں کے ہمراہ ہیں، اور ہم سے کہیں زیادہ بلندی پر۔

یہ مضمون ڈان سنڈے میگزین میں 5 جون 2016 کو شایع ہوا۔