ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف ہوں، فتح اللہ گولن

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2016

ای میل

امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن—۔فائل فوٹو/ اے پی
امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن—۔فائل فوٹو/ اے پی

لاس اینجلس: امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن نے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے خود پر لگائے گئے فوجی بغاوت سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ ترکی میں فوج کے باغی گروپ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اُس وقت ناکام بنادی گئی، جب صدر رجب طیب اردگان کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے اس بغاوت کی ذمہ داری فتح اللہ گولن پر عائد کی گئی۔

مزید پڑھیں:ترکی میں فوجی بغاوت ناکام

طیب اردگان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن نامی دینی مبلغ کے پیروکاروں کا کام ہے۔

واضح رہے کہ گولن امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش پذیر ہیں، جو کبھی اردگان کے اتحادی تھے، مگر اب امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گولن اپنے آبائی ملک میں خاصے مقبول ہیں اور انھیں پولیس اور عدلیہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فتح اللہ گولن نے اردگان کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔

75 سالہ گولن کسی زمانے میں طیب اردگان کے قریبی اتحادی تھے، تاہم حالیہ چند برسوں میں اردگان ترک معاشرے، میڈیا، پولیس اور عدلیہ میں خودساختہ گولن تحریک کی طاقتور موجودگی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بغاوت کے بعد ترک آرمی چیف بازیاب،محفوظ مقام پر منتقل

فتح اللہ گولن پر ترکی میں غداری کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد وہ 1999 میں امریکا منتقل ہوگئے تھے۔

اُس وقت کے بعد سے وہ ریاست پنسلوانیہ میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں اور انٹرویو دینے یا عوام کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔

اردگان اور گولن کے درمیان اقتدار کی کشمکش 2013 کے آخر میں اُس وقت شدت اختیار کرگئی تھی جب گولن سے قریب محکمہ استغاثہ کے بعض افسران نے اردگان کے بیٹے بلال سمیت ان کے قریبی ساتھیوں پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔

جس کے بعد طیب اردگان نے سرکاری ملازمتوں اور اہم عہدوں پر فائز گولن تحریک کے ہزاروں مبینہ حامیوں کو برطرف کردیا، ان کے اسکول بند کردیئے گئے اور سیکڑوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔

مزید پڑھیں:ترکی بغاوت: 'بھائی کو بھائی کا خون نہیں بہانا چاہیے'

جبکہ اُن اخبارات کے ایڈیٹرز کو بھی برطرف کردیا گیا، جو حکومت کے مطابق گولن کے حامی تھے۔

واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کی تحریک 'حزمت' کہلاتی ہے، جو صوفی ازم کی طرز پر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی تعلیم دیتی ہے، اس تحریک کے تحت امریکا، یورپ، ایشیا اور افریقہ میں سیکڑوں تعلیمی اور سماجی خدمات کے ادارے کام سرانجام دے رہے ہیں۔

ترک حکومت کی جانب سے گولن پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے 'ریاست کے اندر ریاست' قائم کر رکھی ہے اور ان کے حامیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت صحافت، عدلیہ، فوج، پولیس اور بیوروکریسی میں اپنا حلقۂ اثر قائم کر رکھا ہے۔