کشمیر کے ایس ایچ او مارک زکربرگ

21 جولائ 2016

ای میل

فیس بک شام اور روس کی حکومتوں پر تنقید کی اجازت دیتی ہے، مگر ہندوستان کے خلاف اظہار کی آزادی نہیں ہے۔
فیس بک شام اور روس کی حکومتوں پر تنقید کی اجازت دیتی ہے، مگر ہندوستان کے خلاف اظہار کی آزادی نہیں ہے۔

حمزہ علی عباسی ان افراد میں سے ہیں جن کی کئی فیس بک پوسٹس ہٹائی جا چکی ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے ان کی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جس میں انہوں نے کشمیری حریت کمانڈر برہان مظفر وانی، جنہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج نے ہلاک کر دیا تھا، کی ستائش کی تھی۔

جو کوئی بھی حمزہ کو فالو کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ان کے نظریات اکثر متنازع ہوتے ہیں، مگر اس دفعہ تو سب ہی سوچنے پر مجبور ہیں کہ فیس بک نے ان کی ایسی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کر دی۔

یوں تو فیس بک ہمیشہ اس بات کا اعادہ کرتی آئی ہے کہ وہ آزادیء اظہار پر یقین رکھتی ہے، مگر ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔

یہ الزامات اب زور پکڑ رہے ہیں کہ فیس بک 'انڈینائز' ہو چکی ہے کیونکہ حمزہ علی عباسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی نامور کشمیری کارکنوں ہما ڈار، خرم پرویز، ڈاکٹر دبییش آنند، ڈاکٹر نتاشا کول اور یہاں تک کہ امریکی سماجی کارکن میری سکلی کی پوسٹس بھی ڈیلیٹ کیں، جن کا کہنا تھا کہ:


"فیس بک امریکی قانونِ حقوق سے مستثنیٰ نہیں ہے، اور یہ ہندوستانی، اسرائیلی اور امریکی حکومتوں کے لیے پولیس کا کام نہیں کر سکتی کہ حکومتوں کو ناپسند چیزیں ہٹاتی پھرے۔ آزادیء اظہار جمہوریت کی بنیاد ہے اور اسی طرح جنگ، کالونیل ازم اور قبضوں کے خلاف آواز اٹھانا بھی جمہوریت کی بنیاد ہے۔"


پڑھیے: برہان وانی کی تصویر: حمزہ علی عباسی کا فیس بک پوسٹ ڈیلیٹ

جب فیس بک نے مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر ہٹانی شروع کیں تو ایک صارف نے فیس بک کی اس سینسر مہم کے خلاف شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ: "لگتا ہے کہ فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ کشمیر کے کسی تھانے میں ایس ایچ او مقرر ہوگئے ہیں۔"

حمزہ علی عباسی کی حالیہ پوسٹ ہٹائے جانے پر یہ سوال لازمی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا واقعی فیس بک آزادیء اظہار پر مطلق یقین رکھتی ہے؟ کیا فیس بک نے کشمیر جیسے متنازع معاملات پر کی گئی پوسٹس ہٹا کر اپنی غیر سیاسی پالیسیوں کی خلاف ورزی نہیں کی؟

بنیادی بات یہ ہے کہ آپ ریڈکلف لائن کے کس طرف کھڑے ہیں، اس بات کا اثر کشمیر کے حوالے سے آپ کے مؤقف پر ضرور پڑتا ہے۔

تو یہ سوال جائز ہے کہ فیس بک کے کون سے معیارات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ جواب آسان نہیں ہیں۔

فیس بک کے نزدیک جو چیز متنازع ہے، ضروری نہیں کہ وہ اس کے ان صارفین کے لیے بھی متنازع اور اشتعال انگیز ہو جو کہ ثقافتی اور مذہبی طور پر مختلف ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ فیس بک صرف تب اقدام اٹھاتی ہے جب اسے بڑی تعداد میں کسی مواد کے خلاف شکایات موصول ہوں۔

مزید پڑھیے: حمزہ کا اسٹیٹس ہٹایا جانا 'غلطی' تھی : مارک زکر برگ

بدقسمتی سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اچھی پوسٹ یا معلومات وغیرہ اس وقت ہٹا دی جائیں گی جب منفی عناصر بڑے گروپس بنا کر ایک کے بعد ایک فیس بک کی توجہ اس مواد کی طرف دلوائیں اور اسے قابلِ اعتراض قرار دیں۔ اس صورت میں وہ مواد لازماً ہٹا دیا جائے گا۔ فیس بک کبھی بھی یہ نہیں بتاتی کہ اسے شکایات کس کی جانب سے موصول ہوئی تھیں۔

لیکن اگر ہم مسئلہ کشمیر کے علاوہ بھی دیکھیں، تو پاکستان میں بار بار یہ دیکھا گیا ہے کہ نفرت انگیز فیس بک پیجز آن لائن موجود رہتے ہیں جبکہ لبرل پیجز کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ فیس بک نفرت انگیز مواد سے متفق ہے، بلکہ صرف یہ ہے کہ لبرل مواد کو قابلِ اعتراض رپورٹ کرنے والے افراد تعداد میں کہیں زیادہ ہیں، جبکہ نفرت انگیز مواد کو رپورٹ کرنے والے بہت کم۔

فیس بک پر یہ الزام ہے، اور اسے اس کا جواب بھی دینا چاہیے کہ ایک طرف یہ شام اور روس کی حکومتوں پر تنقید کی اجازت دیتی ہے، مگر ہندوستان اور چند دیگر حکومتوں کے خلاف اظہار کی آزادی نہیں ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ فیس بک حمزہ علی عباسی کی اگلی پوسٹ پر کیا ردِ عمل دیتی ہے، یا اگر پاکستانی ہندوستان کے چوٹی کے سیاستدانوں یا سلیبریٹیز کی پوسٹس رپورٹ کریں گے، تو کیا تب بھی یہ ویسا ہی ایکشن لے گی؟


بابا عمر کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔


نگہت داد ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی ہیں۔