ریپڈ ٹرانزٹ بس سسٹم، کراچی کے شہری اذیت میں؟

23 جولائ 2016

ای میل

ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب گرین لائن ریپڈ بس سروس کا  پل زیر تعمیر ہے—فوٹو/ فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار
ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب گرین لائن ریپڈ بس سروس کا پل زیر تعمیر ہے—فوٹو/ فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار

کراچی : قیام پاکستان کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر کے مکین پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو ضرور یاد کرتے ہوں گے جبکہ بہت سے شہریوں کو شاید ٹرام میں کیا گیا سفر ماضی میں واپس لے جانے پر مجبور کرتا ہوگا۔

کراچی میں 1970 سے قبل ٹرام نظام متعارف کرایا گیا تھا، بعد ازاں اس کو بند کردیا گیا اور 1990 کے بعد سرکلر ریلوے کی پٹری کو بھی منقطع کردیا، لیکن ہم اب شاید بس یا گرین بس میں سفر کرنا پسند کریں گے۔

شہر کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس کی تعمیراتی کام جارہی ہے جس کی وجہ سے شہری پریشانی میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود پر امید ہے کہ اس پروجیکٹ کی تکمیل سے ان کو ذہنی اذیت سے نجات مل جائے گی۔

شہر کے اہم شاہراہوں، انٹرسیکشنز اور چوراہوں پر تعمیراتی کی وجہ سے ہیوی مشینری، پائپ، مٹی اور ریت بجری کا ڈھیر، سڑکوں پر سیوریج کا پانی موجود ہے، شہریوں کو روزانہ ان چینلجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

گرین لائن بس رپیڈ ٹرانزٹ سسٹم (بی آر ٹی) کی انمیٹیڈ ویڈیو بہت زبردست ہے، اس ویڈیو میں جدید سفری سہولیات کو دیکھایا گیا ہے کہ ہم سرسبز ماحول اور صاف راستوں سے گزر کر گرین بس میں سفر کرکے اپنے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن ہمیں خواب کی تعبیر کے لیے مزید انتظار اور اہم شاہراہوں گرومندر سے ناگن چورنگی تک اذیت سہنی پڑے گی۔

گرومندر سے آگے 2 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خاتون سڑک پار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئیں، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن بس سروس منصوبے اس وقت بہت آئیڈل ہوگا جب یہ پروجیکٹ مکمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس کا سنگ بنیاد

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں متعدد منصوبوں التوا کا شکار رہے لیکن حکومت کی جانب سے عوام کی بہتری کے لیے ان منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے۔

ان شاہراہوں میں گاڑی احتیاط سے چلانے اور تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہونے سے متعلق ’معذارت‘ کے بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔

یہ کہا جارہا ہے کہ گرین لائن بس رپیڈ ٹرانزٹ سسٹم کے کئی ان انٹرسیکشنز اپنے روٹس کےساتھ 11.7 کلومیٹر لمبی ہوگی جبکہ گرین لائن کی ٹریک 7.7 کلومیٹر طویل ہے، اس منصوبے کی تعمیرات میٹرک بورڈ آفس سے شیر شاہ پوری روڈ کے درمیان سے شروع ہوچکا ہے۔

نئے گولیمار میں غلط وقت میں غلط پارک کی ہوئی گاڑیوں اور تعمیراتی کام کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے جبکہ موٹر سائیکل سوار افراد زگ زیگ کرتے ہوئے جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح مٹی کے ڈھیر اور تنگ راستوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں : وزیراعظم کا کراچی کیلئے میٹرو بس سروس کا اعلان

ناظم آباد نمبر دو چورنگی پر زیر التوا انڈر پاس منصوبہ اور بی آر ٹی پروجیکٹ پر ایک ساتھ تعمیراتی کام کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے شاہراہ پر افراتفری کا عالم ہے۔

اس حوالے سے ایک رکشہ ڈرائیور محمد شاہد کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں پر تعمیراتی کام کی وجہ سے سڑکوں پر بے ہنگھم ٹریفک نظر آرہا ہے، میں ہرروز لوگوں کو پریشان اور اذیت سہتے دیکھتا ہوں، وہ بے چارے روزانہ ہم سے راستوں کی سمت کے بارے میں ہم سے معلوم کررہے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیوی مشینری، کنسٹرکشن میٹریل اور مٹی کی وجہ سے سڑکیں بہت تنگ ہوچکی ہیں، اگر سڑکوں پر صرف کھدائی کی ہوئی مٹی کو ہٹادیا جائے تو ٹریفک کی روانی بہتری ہوسکتی ہے۔

منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 22 بس اسٹاپ ہوں گے اور بس کے آنے اور جانے کے لیے الگ الگ راستے بنائے جائیں گے، اس منصوبے کے حوالے سے ابھی کئی مرحلے میں کام ہوچکا ہے جبکہ کئی شاہراہوں پر ابھی کام شروع کیا جارہا ہے۔

رواں سال 26 فروری کو گرین لائن بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا اور یہ منصوبہ 2017 فروری تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس حوالے سے کنسلٹنٹ انجنیئر عباد امین کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ اس سال میں مکمل ہوجائے گا لیکن منصوبے کی تکمیل میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب تیزی سے گرین لائن بس منصوبے پر کام ہورہا ہے، منصوبے کے تحت اس روٹ کو اورنگی تا سرجانی سے ملایا جائے گا، اس کے علاوہ سخی حسن چورنگی کے قریب علاقے میں جگہ جگہ پلرز بھی کھڑے کئے جاچکے ہیں.

کوئی بھی عقل مند شخص اس منصوبے کے تعمیراتی کام پر سوال اٹھا سکتا ہے کہ اگرچہ گرین بس پروجیکٹ کی تعمیراتی کام شہریوں کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن رہا ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام کیا جارہا ہے، جبکہ یہ تکمیل تک بھی پہنچ جائے گا، لیکن دوسری جانب صوبائی حکومت کے تحت بننے والے منصوبوں ماس ٹرانزٹ بلیو لائن، ریڈ لائن، یلو لائن، اورنج لائن، اور انڈیگو لائن پر تو تاحال کام شروع ہی نہیں ہوا۔

یہ رپورٹ ڈان اخبار میں 23 جولائی 2016 کو شائع ہوئی