بِنا پتنگ کے ڈور؟

شائع اگست 30, 2016 02:02pm

Email


Your Name:


Recipient Email:


قائدِ تحریک الطاف حسین کی خودکش تقریر کے بعد پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن میں مقیم الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اب متحدہ پاکستان سے چلے گی۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت کا ٹھیکہ کسی نا کسی شخصیت یا خاندان کے پاس ہی رہتا ہے، وہاں متحدہ قومی موومنٹ اپنے قائد الطاف حسین کے بغیر کیسے قائم رہ سکتی ہے جس نے 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ ان 32 سالوں میں مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ میں بدل گئی مگر تحریک کے قائد الطاف حسین ہی رہے۔

فاروق ستار شاید بھول رہے ہیں کہ پاکستان میں جماعتیں منشور کی بناء پر نہیں بلکہ شخصیات سے چلتی ہیں۔ یہاں سیاسی جماعتوں کے کارکنان شخصیات کے شیدائی ہوتے ہیں۔ ان کے لیے جماعت کا سربراہ اہم ہوتا ہے جس کی وہ مالا جپتے ہیں۔

اسی لیے پاکستان میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز میں اس قدر خاندانی اثر و رسوخ ہے کہ پوری جماعت ہی نواز شریف کے نام پر ہے۔ پھر چاہے شریف خاندان کا نام پانامہ پیپرز میں آیا ہو یا نیب کے مقدمات میں مطلوب ہوں، عوام کے لیے بس 'شیر' اہمیت رکھتا ہے۔

پڑھیں: ایم کیو ایم کی قیادت پریشان کیوں؟

جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ ناکام ترین دور اقتدار کے بعد بھی بھٹو خاندان پارٹی صدارت سنبھالے بیٹھا ہے، جہاں تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جماعت تحریک انصاف، صرف عمران خان کی وجہ سے قائم ہے، جہاں پاکستان کی مخالفت کرنے والے باچا خان کی قائم کردہ جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ولی خان ہیں، وہاں اس قائد کے بغیر ایک جماعت کیسے چل سکتی ہے جس کے کہنے پر کراچی اور سندھ کے چند دیگر شہروں کی عوام آنکھیں بند کر کے ووٹ ڈال دیتی ہے؟

حتیٰ کہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر الطاف حسین کھمبے کو بھی کھڑا کر دیں تو وہ بھی الیکشن جیت جائے گا۔

متحدہ الطاف بھائی سے شروع ہوکر الطاف بھائی پر ہی ختم ہوتی ہے اور اس کا ثبوت متحدہ کا تنظیمی حلف ہے، جس کی پہلی لائن ہے کہ "میں متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کا تاحیات وفادار رہوں گا۔" اس کے علاوہ اسی عہد کی آخری لائن ہے کہ "میں قسم کھاتا ہوں کہ کسی بھی معاملے میں الطاف حسین کے کیے گئے فیصلے کو حتمی تصور کروں گا، بصورتِ دیگر مجھے غدار سمجھا جائے۔"

چنانچہ الطاف حسین وہ شخصیت ہیں جو کہ 23 سالوں سے خود ساختہ جِلا وطنی میں ہونے کے باوجود آج بھی کراچی کے لاکھوں لوگوں پر راج کرتے ہیں۔

دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، آمریت ہو یا جمہوریت، جب بھی الطاف بھائی نے عوام کو پکارا ہے، عوام نے اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہا ہے۔ چاہے مقامی قیادت وہاں موجود ہو یا پھر اسمبلیوں میں بیٹھی ہو۔ الطاف بھائی نے کبھی بھی مقامی قیادت کو اس قدر بااختیار ہونے ہی نہیں دیا کہ وہ الطاف بھائی کی رضا مندی کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکیں۔

دوسری جانب عوام بھی مقامی قیادت کو الطاف بھائی کے نمائندے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی، لہٰذا الطاف بھائی اگر ساری زندگی نائن زیرو پر گزارنے والے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو کھڑے کھڑے معطل کر دیں، تو عوام اس پر سوال جواب کے بجائے یہی سمجھتے ہیں کہ ضرور کمیٹی کی ہی کوئی غلطی ہوگی۔

الطاف بھائی کی مضبوط قیادت اور کارکنان کے ساتھ گہرے لگاؤ کی وجہ بھی یہی ہے کہ الطاف بھائی کبھی بھی اپنے اور کارکنان کے درمیان کسی کو آنے نہیں دیتے۔ انتخابات کسی بھی نوعیت کے ہوں۔ یہ معنی نہیں رکھتے۔ جو ضروری ہے وہ یہ کہ الطاف بھائی نے کس کو نامزد کیا ہے۔ وہ چاہے پھر کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو، چاہے کسی بھی طبقے سے ہو۔ اسے متحدہ کے ووٹرز نے ووٹ دینا ہے کیونکہ وہ الطاف بھائی کا نامزد کردہ ہے۔

اور اس سب کی وجہ متحدہ قومی موومنٹ کا اپنے ابتدائی دور میں تعمیر کیا گیا مہاجر قوم پرستی کا بیانیہ، بحیثیت ناظمِ اعلیٰ کراچی مصطفیٰ کمال کا کراچی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کردار، اور قائدِ متحدہ کا اپنے کارکنوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ ہے۔

پڑھیں: متحدہ قومی موومنٹ ایک ناکارہ مشین؟

ایک طلباء تنظیم کی حیثیت سے جنم لینے والی متحدہ قومی موومنٹ جن نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوئی تھی، وہ اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ انہیں ان اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

متحدہ پاکستان کی متحدہ لندن سے علیحدگی کے بعد کراچی کے مکا چوک پر آویزاں الطاف حسین کے پوسٹرز اتار دیے گئے اور مکا چوک کا نام تبدیل کرکے لیاقت علی خان چوک کر دیا گیا۔ مختلف علاقوں میں متحدہ کے یونٹ دفاتر بھی مسمار کر دیے گئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مکا چوک کو الطاف حسین کا مکا سمجھا گیا تھا حالانکہ وہ شروع سے ہی راولپنڈی کے کمپنی باغ میں لیاقت علی خان کے لہرائے گئے مکے کی یاد میں بنایا گیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا کمپاؤنڈ مسمار کرنے سے طالبائزیشن ختم ہوگئی؟ افغانستان کو جلا کر راکھ کر دینے سے افغان طالبان کا وجود مٹ گیا؟ جنرل ضیا الحق کی وفات کے بعد ملک سے ان کے بنائے گئے قوانین، سیاستدان اور ان کی حکومت کی کوکھ سے جنم لینے والی مذہبی انتہاپسندی ختم ہوگئی؟ کیا بھٹو کو پھانسی دینے سے پیپلز پارٹی ختم ہوگئی؟

نہیں۔ ان تمام اقدامات نے ان عوامل کا خاتمہ نہیں کیا، ہاں البتہ کچھ معاملات میں ایسا ضرور ہوا ہے کہ ایسے اقدامات نے عوام کی ہمدردیوں کو جنم دیا ہے، جس کا ثبوت آج بھی سندھ میں بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ ہیں۔

فاروق ستار اور متحدہ کے دیگر رہنما الطاف حسین سے علیحدگی اور قطع تعلق کے جتنے مرضی دعوے کر لیں، مکا چوک کا نام بدل کر چاہے رینجرز چوک رکھ دیں، متحدہ کے یونٹ دفاتر تو کیا نائن زیرو بھی مسمار کر دیں، مگر جو ووٹ بینک متحدہ کا ہے، وہ ووٹ بینک الطاف حسین کا ہے، اور وہ ووٹ جذباتی تعلق کی بناء پر ہے ورنہ رینجرز اور فوج کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں ایم کیو ایم کو کوئی ووٹ نہ ملتے۔

کسی بھی جماعت، شخصیت، یا نظریے کو 'ختم' کرنے کی حکمتِ عملی کبھی بھی کارگر نہیں رہی ہے اور یہ سبق آج کا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے۔ متحدہ کے خلاف جو بھی ثبوت ہیں، انہیں میڈیا پر پیش کرنے کے بجائے استغاثہ کو مضبوط بنا کر سب کچھ عدالتوں میں ثابت کرنا ہوگا، ورنہ دفاتر گرانے اور دھڑا دھڑ پابندیوں اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کا نتیجہ الٹا بھی نکل سکتا ہے۔