’جانان‘ پاکستانی سینما کی نئی شکل؟

13 ستمبر 2016

ای میل

ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے جب نئے ٹیلنٹ کے ساتھ بنائی جانی والی کسی فلم کو پاکستان میں اس حد تک پذیرائی ملے جس میں ایک اظفر جعفری کی فلم ’جانان‘ ہے جو کہ عید الاضحیٰ پر ریلیز ہوئی۔

اس فلم میں ارمینہ رعنا خان، بلال اشرف اور علی رحمٰن خان نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، جبکہ عجب گل اور میشا خان کی معاون کرداروں کے ساتھ اسکرین پر واپسی ہوئی۔

تو آخر فلم ’جانان‘ ہے کس بارے میں؟ اس فلم کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جسے اپنے گاؤں میں دو لڑکوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

پروڈیوسر عمران رضا کاظمی نے اس فلم کے موضوع کو نہایت دلچسپ انداز سے سمجھایا، ’یہ دنیا خیبر پختونخوا کو اس نظر سے نہیں دیکھتی جیسے ہم دیکھتے ہیں، ان کی نظر میں یہ وہ جگہ ہے جہاں ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے جبکہ مقامی مرد شلوار قمیض میں اور خواتین برقع پہنتی ہیں، اس فلم کے لکھاری عثمان خالد بٹ اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس سوچ کو تبدیل کرنا ہے اور اس لیے ہم ایک کامیاب فلم کے ساتھ سامنے آئے‘۔

فلم کی مشترکہ پروڈیوسر حریم فاروق نے کہا کہ ’اس فلم میں ہم نے مختلف ثقافتوں کو پیش کیا ہے‘۔

فلم ’جانان‘ عمران رضا کاظمی۔ منیر حسین، حریم فاروق اور ریحام خان کے اشتراک میں بنائی گئی فلم ہے، عمران رضا کا مزید کہنا تھا کہ ’ریحام خان باقی لوگوں کی طرح اس فلم کا حصہ ہیں، وہ اگست2014 میں اس فلم کا حصہ بنیں اور فلم کے پلاٹ میں ہماری مدد کی، انہوں نے فلم کے لیے جگہوں اور ملبوسات کا بھی انتخاب کیا، یہ ان کا سپورٹ تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کا نام فلم کے پروڈیوسرز میں جوڑا‘۔

ہدایت کار اظفر جعفری کو یقین ہے کہ فلم ’ایکٹر ان لا‘ کے مد مقابل ریلیز ہونے کے باوجود ان کی فلم ’جانان‘ باکس آفس پر اچھا ردعمل حاصل کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ ’ایکٹر ان لا ایک سماجی کامیڈی فلم ہے، زندگی کتنی حسین ہے ایک رومانوی فلم ہے جبکہ ہماری فلم جانان ان دونوں سے کافی منفرد ہے، جانان عید پر ریلیز ہونے والی فلم ہے جیسے گزشتہ سال بن روئے تھی‘۔

پروڈیوسر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس فلم کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ پختون بھی دنیا میں موجود باقی لوگوں کی طرح نارمل ہیں، امید ہے کہ ہماری فلم دنیا میں لوگوں کو اس بات پر قائل کرسکے گی کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جس میں نہایت پیار کرنے والے افراد بستے ہیں‘۔

پھر اس فلم کی کاسٹ جس میں نئے اور پرانے دونوں ہی اداکار موجود ہیں، 2010 کی ’سلیکستان‘ اور 2012 کی ’گول چکر‘ فلموں میں کام کرنے کے باوجود علی رحمٰن خان کی اب تک کوئی فلم پاکستان میں ریلیز نہیں ہوئی، اس حوالے سے علی رحمٰن کا مسکراتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں خوش ہوں کہ مجھے ایک ایسی فلم میں مرکزی کردار کرنے کی آفر ملی جو پاکستان میں ریلیز ہونے جارہی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم میں میں نے اپنی شخصیت سے ہٹ کر کردار ادا کیا ہے، وہ لوگ جو مجھے ڈراموں میں دیکھتے آرہے ہیں وہ اس فلم میں میرا بالکل الگ کردار دیکھیں گے جو ان کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مسکراہٹ لے آئے گا‘۔

نئے اداکاروں بلال اشرف اور ارمینہ رعنا خان کے علاوہ اس فلم میں نیر اعجاز اور عجب گل بھی موجود ہیں، عمران کاظمی کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی آر کے پروڈکشن میں ہم سب سے پہلے فلم کی کہانی تحریر کرتے ہیں، جس کے بعد ہم دلچسپ کردار بناتے ہیں اور اس کے بعد ہم اداکاروں کی کاسٹنگ کا آغاز کرتے ہیں، فلم جانان میں تقریباً ہر اداکار نے آڈیشن دیا جس کے بعد اسے منتخب کیا گیا‘۔

پاکستان میں اگر کوئی اداکارہ فلم کی پروڈکشن کررہی ہو تو وہ اپنے آپ کو ہی اس فلم کی مرکزی اداکارہ کے لیے کاسٹ کرتی ہے، تاہم حریم فاروق نے ایسا نہیں کیا، اس حوالے سے حریم کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا کہ اگر میں فلم کو پروڈیوس کروں گی تو اس میں خود اداکاری نہیں کروں گی کیوں کہ میں پروڈکشن کے حوالے سے سیکھنا چاہتی تھی، میری فلم دوبارہ پھر سے اس سال کے آخر میں ریلیز کی جائے گی تو میرے پاس مزید فلموں کے لیے وقت نہیں تھا‘۔

خوبصورت اداکارہ ارمینہ رعنا خان کا کہنا تھا کہ انہیں فلم میں سب سے زیادہ توجہ ملنے پر کافی خوشی ہوئی، انہوں نے کہا ’مجھے فلم کی شوٹنگ کرکے کافی مزہ آیا، خیبر پختونخوا کے لوگ کافی پر امن اور مدد کرنے والے ہیں، جب تک میں نے جانان کی شوٹنگ ختم کی میرے پہلے سے بھی زیادہ دوست بن چکے تھے‘۔

بلال اشرف نے اس فلم کو ایک یادگار تجربہ قرار دیا ساتھ ساتھ اپنے اور علی رحمٰن خان کی جانب سے کیا ہوا ایک مذاق بھی یاد دلایا، ‘جب ہم سوات میں فلم کی شوٹنگ کررہے تھے، ہم نے ارمینہ کے ساتھ ایک مذاق کرنے کا ارادہ کیا، ارمینہ کا تعلق برطانیہ سے ہے، ہم نے ان سے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنا سر ڈھک کر رکھیں اور موزے ضرور پہنیں، انہوں نے کچھ روز تو ایسا ہی کیا لیکن پھر انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ صرف ایک مذاق تھا‘۔

یہ مضمون 11 ستمبر 2016 کے ڈان سنڈے میگزین میں شائع ہوا