ایک پاکستانی کے ہندوستان سے تین سوال

اپ ڈیٹ 01 نومبر 2016

ای میل

میں نہیں سمجھتا کہ بھارت سے سوالات پوچھنے کا یہ درست وقت ہے مگر چوں کہ میں بھارتی ٹی وی اینکرز سے محفوظ دوری پر ہوں سو اب لگتا ہے کہ میں اپنے تجسس سے بھرے سوال پوچھ سکتا ہوں۔

تو بھارت سے میرے تین سوال پیش خدمت ہیں۔

سوال نمبر 1

پاکستانی جمہوریت کم عمری میں ہی مفلوج کر دی گئی۔ ہمارے ملک میں تین طویل فوجی حکومتیں رہی ہیں، اور اس سلسلے کا آغاز 1958 میں جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت سے ہوا۔

ان حکومتوں کے درمیان سیاسی جماعتوں نے جمہوریت بحال کرنے کی کوششیں کیں مگر شاید ہی کبھی اس قوت سے طاقت چھیننے میں کامیاب رہی ہوں جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔

صرف تین برس قبل ہی پہلی بار اقتدار کی جمہوری انداز میں منتقلی کے اعزاز کو حاصل کرنے کی ہماری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور منتخب حکومت اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے پاس درحقیقت کون سے اختیارات ہیں۔

بھارت نے کبھی بھی فوجی حکومت کا تجربہ نہیں کیا۔

اگر دونوں قومی اور ریاستی حکومتوں کو گنا جائے تو آپ پائیں گے کہ گزشتہ 70 برسوں میں سینکڑوں حکومتیں انتخابات کے ذریعے منتقل ہو چکی ہیں۔ بھارت زبردست قسم کا مؤثر الیکشن کمیشن رکھتا ہے اور ایسا بہت ہی کم ہوا ہے جب انتخابی نتائج متنازع رہے ہوں۔

دونوں ملکوں کا جمہوری طرز عمل ایک دوسرے سے بالکل مخالف سمت میں گامزن رہا ہے۔

مگر سیاست سے گہری دلچسپی رکھنے والا ایک طالب علم جب بھارت کا جائزہ لیتا ہے تب وہ اس سے خوشگوار حیرانیوں کی توقع کرتا ہے نہ کہ بدنما حیرتوں کی۔ بھارت کی سڑکوں پر عام لوگوں سے گفتگو کی جائے تو حکومتوں، سرکاری نظام، انتخابات اور سیاست کے حوالے سے ان کا غم و غصہ بالکل ویسا ہی ہے جو میں یہاں اپنے ملک میں سنتے ہوئے بڑا ہوا ہوں۔

"تمام سیاستدان کرپٹ ہیں۔ وہ تمام چور اور مجرم ہیں۔"

عام تاثر یہی ہے کہ سیاستدان کرپٹ، اور سیاست فریب کاری کی ایک جائز صورت ہے۔ یہ نظریہ حقیقت سے پرے نہیں اور اس بات کو ماننے کے لیے کافی شواہد بھی موجود ہیں۔

بھارتی پنجاب کی حکمران جماعت پر منشیات اسمگلنگ میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام ہے۔

کرناٹک میں کرپشن کی کہانیاں، خصوصاً کان کنی کے شعبے میں ہونے والی کرپشن کی کہانیاں تو ہوش اڑا دینے والی ہیں۔

تامل ناڈو کے موجودہ وزیراعلیٰ کو کرپشن کے الزام میں قید سنائی گئی تھی (اور بعد میں ان کی ضمانت ہوئی۔)

دونوں ملکوں میں موروثی سیاست ہے، اور چند گھرانے زمانوں سے صوبوں پر حکمرانی کر رہے ہیں اور پھر ایسے لیڈران بھی ہیں جن کے پاس کسی مذہبی پیشوا کی طرح کثیر تعداد میں پیروکار بھی ہیں۔

اس کے رد عمل میں، بھارت میں سیاستدان مخالف سیاست اتنی ہی شدید ہے جتنی پاکستان میں ہے۔ جمہوریت کے بارے میں چائے کی پیالی پر خوشگوار گفتگو کے جھگڑے میں بدل جانے میں آپ کا صرف ایک ہی جملہ درکار ہوتا ہے۔

اگر آپ کی کبھی عام آدمی پارٹی کے کسی کارکن سے ملاقات ہو جائے تو آپ یہ کہے بغیر نہیں رہ پائیں گے کہ: اے خدا، میں یہاں پر تو پی ٹی آئی کا جیالا موجود ہونے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔

پاکستان کی سیاست میں موجود برائیوں اور خامیوں کی جب بھی بات کی جائے، تو اس کا الزام اسٹیبلشمنٹ کے سر پر ڈال دینا (یا پھر اگر آپ کو سیدھی بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تو الزام جی ایچ کیو پر ڈال دینا) عام ہے۔

مگر ہندوستان کے ساتھ ایسا کیا غلط ہوا؟

وہاں کسی بھی فساد سے پاک انتخابات کے ذریعے بلاتعطل اقتدار کی جمہوری انداز میں منتقلی کے باوجود ایک صاف ستھرا اور مؤثر سیاسی نظام کیوں قائم نہیں ہو پایا ہے؟ کیا یہ جمہوریت کا لوگوں سے بنیادی عہد نہیں؟

کیا جمہوریت نے سیاسی نظام کو آہستہ آہستہ بالغ، اداروں کو مضبوط کرنا اور حکومت اور عوام کے درمیان خلا کو کم نہیں کرنا تھا؟

میں شدت سے جواب کا طلبگار ہوں تاکہ جمہوریت پر میرا اعتماد بحال ہو۔

سوال نمبر 2

پاکستانی ریاست نے شروع سے یا بلکہ ٹھیک 12 مارچ 1949 کو، جب اس کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی، بلاجھجھک اپنا مذہبی تعارف پیش کر دیا۔ تب یہ واضح اور صاف تھا کہ ہم اس فیصلے پر پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھیں گے۔

بلکہ جب کبھی بھی ہم اس چیز کو محسوس کرنے کے قریب آتے ہیں کہ سیاست کے ساتھ مذہب کو ملانا ایک مسئلے کا باعث ہو سکتا ہے، تو ہم نے یہ ماننے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے اس معاملے پر ڈبل ڈوز لینے کی کوشش کی۔

پھر سیاسی اداکاروں کی شاہکار ترکیبوں کی مہربانی سے انہیں عالمی خریدار بھی ملے۔ کمیونسٹوں سے لڑنا عقیدے کا ایک حصہ بن گیا۔ لڑائی کا یہ دائرہ اس قدر وسیع ہوتا گیا کہ ہماری ریاست بھی ان کی زد میں آ گئی۔

آج ہم اپنے ملک کو ان سے واپس مانگنے کی یہ طویل اور خونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مگر ہم ان غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں محض زمین کے علاوہ بھی بہت کچھ کھو بیٹھے۔ ہم اپنی برداشت کی روایت کھو بیٹھے، ہم اپنی شوخ سماجی زندگیاں کھو بیٹھے اور ہم اختلاف رکھنے کے حق سے بھی محروم ہوئے۔

بھارت بھی اب یہ تمام چیزیں کھو رہا ہے، اگرچہ ابھی مکمل طور پر نہیں کھویا ہے۔

فلم سازوں کو اپنے الفاظ کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور لوگوں کو گائے کھانے کے شک میں بے رحمانہ انداز میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

ہر کسی کو اپنے جسم پر حب الوطنی کا لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور خواتین کو سڑکوں پر چلنے سے روکا کر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا پہن سکتی ہیں اور کیا نہیں پہن سکتیں۔

اور سب سے بڑا قومی سوال یہ ہے کہ آیا کوئی ہاتھ اوپر کرنے اور سوال پوچھنے کی ہمت کر سکتا ہے یا نہیں؟

’بھارت میں موجود مذہبی انتہاپسندوں کی تعداد مٹھی برابر ہے‘ اور پاکستان میں ہم زندگی بھر سے اس چیز کے سچ ہونے کی امید کرتے آ رہے ہیں۔ بھارتی انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کا تنظیمی ڈھانچہ اور عوام میں جڑیں پاکستان کی جماعتِ اسلامی اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔

پھر انتہاپسندوں کے ساتھ حمایتیوں اور عذر خواہوں کی ایک کثیر تعداد بھی ہو چلتی ہے، جس میں عام متوسط طبقے کے بابو شامل ہیں، جو ہر دن ایک نیا فلسفہ گھڑتے ہیں اور ہر رات مذہبی انتہاپسندی کے دفاع کی خاطر ہر رات ایک نیا سازشی نظریہ تراشتے ہیں۔

ایک پاکستانی کے لیے یہ سمجھنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کس طرح ایک پورے معاشرے کو اپنا غلام بنا لیتی ہے۔

اور پھر غیر ریاستی عناصر بھارت میں ایک سے زائد محتاط طریقوں سے ایک زبردست پالیسی تیار کرتے ہیں۔ وہ قوم پرستی کے محافظ اور ضامن بنتے ہیں۔ وہ ایسی سیاسی کھیپ ہیں جنہیں کوئی بھی جماعت انتخابات میں نظرانداز نہیں کر سکتی۔ وہ سیاسی اظہارِ رائے کو دبا سکتے ہیں، اختلاف رائے رکھنے والوں کا منہ بند کر دیتے ہیں، پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور تاریخ سازی کرتے ہیں۔

بھارت بھلا ایسی صورتحال میں کیسے گِھر گیا؟

اس کا تو آئین سیکیولر ہے۔ وہ اپنی تکثیریت پر نازاں رہا ہے، اور اس نے کبھی بھی کسی اور کی جنگ نہیں لڑی۔

تو کس طرح مذہبی انتہاپسندوں نے حکومت کو یرغمال بنالیا اور سماج کو اپنے آگے گھٹنوں کے بل گرا دیا؟

مجھے اس کا جواب نہیں مل سکا، مگر میں سمجھتا ہوں کہ بھارت ضرور اس کا جواب دے سکتا ہے۔

سوال نمبر 3

تقریباً ہر بھارتی فلم میں ایک پولیس والا ہمیشہ ایک ایسے قابل نفرت کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس سے آپ نفرت کرنا چاہیں گے۔ وہ انتہائی کرپٹ ہوتا ہے اور کئی جگہوں پر ایک دیش دروہی (غدار) کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس دوسرے باوردی ادارے یعنی فوج کو ایک ہیرو کی خصوصیات سے بھر پور دکھایا جاتا ہے۔ بولی وڈ میں ایک فوجی ہمیشہ ایماندار، چست، اور اپنے پیشے سے سچا ہوتا ہے جو اپنے ملک کو لاحق کسی بھی قسم کے خطرے، چاہے وہ سڑک کے غنڈے ہوں یا بے رحم منظم دہشتگرد، سے تحفظ کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

ایک فوجی کبھی بھی کرپٹ یا غلط نہیں ہو سکتا اور عوامی سطح پر فوج کے کسی عمل پر سوال کو قوم دشمنی اور غداری سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں قوم سازی کے مرحلے میں فوج کا کردار ڈھکا چھپا نہیں، مگر بھارت میں وہ ہمیشہ منتخب حکومتوں کے سخت کنٹرول میں رہی ہے۔ ان کے پاس کسی قسم کا آزاد تعلقات عامہ کا ادارہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی جب فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کی بات آتی ہے تو بھارت پاکستان کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

مگر سوال یہاں یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ کس طرح اور کیوں دونوں ملک اپنی فوجوں کی اتنی تعظیم کرتے ہیں، کیوں کہ کئی دیگر ممالک میں بھی افواج کو مقدس حیثیت حاصل ہے۔

بلکہ یہاں سوال جارحانہ قوم پرستی کا ہے، جنگ کے جنونی مطالبوں کا ہے، اور اس سے بھی پہلے قوم پرست بیانیے میں فوج کی مرکزی کردار کی حیثیت سے موجودگی کا ہے، جس کے بارے وضاحت درکار ہے۔ متوسط طبقے کی ایک کثیر تعداد کا اپنے قوم پرستانہ فخر کی تسکین ’سرجیکل اسٹرائیکس کی کامیابی‘ میں تلاش کرنا اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔

پاکستانی بھی اس سے مختلف انداز میں نہیں سوچتے مگر وہ سارا الزام اس حقیقت پر ڈال سکتے ہیں کہ ہماری دفاعی پالیسی میں ماضی میں سقم رہے ہیں۔

غیر ریاستی عناصر اپنے جلسوں میں خود کو قرونِ وسطیٰ کے جنگجؤں کی طرح پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایسی پیش گوئیاں بھی کرتے ہیں کہ، بطور ایک قوم ہمارا مقصد دنیا کو فتح کرنا ہے۔ وہ تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور ان کے ہم ذہن لوگوں کو ہمارے بچوں کی نصابی کتب لکھنے کا ٹاسک دیا گیا ہوتا ہے۔

یہ تو تھی پاکستان کی کہانی۔ مگر اپنی سیکیولر جمہوریت پر نازاں بھارت اس راستے پر کیسے چل پڑا؟

بھارت کو ضرور اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا اور اسے ہمارے ساتھ بھی بانٹنا ہوگا۔

انگلش میں پڑھیں