پیش ہے ٹرک کی ایک اور بتی

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2016

Email


یکم نومبر کو سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم نواز شریف سمیت شریف خاندان کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی. چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی قیادت میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے عدالتی کمیشن بنانے کے لیے فریقین سے تحقیقات کی شرائط (ٹی او آرز) طلب کر لیے۔

عمران خان اس فیصلے کو پی ٹی آئی کی اخلاقی فتح قرار دے رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منانا ہی تھا تو احتجاج اور دھرنے کی ہنگامہ خیزی سے پہلے یکم نومبر کا انتظار تو کر لیتے۔ سپریم کورٹ نے تو 20 اکتوبر کو ہی وزیرِ اعظم سمیت شریف خاندان کو یکم نومبر کو حاضر ہونے کا نوٹس دے دیا تھا۔

پھر اعلان کردہ 2 نومبر کے احتجاج سے 4 دن پہلے کیوں راولپنڈی میں میدان جنگ لگایا گیا؟ کیوں 31 اکتوبر کو خیبر پختونخوا سے وزیرِ اعلیٰ کی سربراہی میں کارکنوں کے جتھے بلوائے گئے؟ کیوں عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد کو بند کرنے کی تیاریاں کی گئیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ریاستی طاقت کا سہارا لینا پڑا؟

اب سپریم کورٹ نے فریقین کو پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے عدالتی کمیشن کے لیے ٹی او آرز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر دونوں فریق ٹی او آرز پر متفق نہیں ہوتے تو عدالت تحقیقات کے لیے ٹی او آرز کا تعین خود کرے گی، جو کہ سب کو تسلیم کرنے پڑیں گے۔

پڑھیے: پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن

سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے عمران خان خوش نظر آرہے ہیں اور اس جیت کے جشن میں یوم تشکر منا رہے ہیں، مگر یہ مسئلہ اب بھی کسی حتمی نتیجے سے بہت دور ہے کیوں کہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن 6 ماہ پہلے ہی ٹی او آرز طے کر چکی ہے اور اب بھی وہی ٹی او آرز ہوں گے۔

ویسے تو حکومت کی طرف سے ابھی تک نئے ٹی او آرز پر کوئی مؤقف سامنے تو نہیں آیا ہے، لیکن اگر تحریکِ انصاف کے تجویز کردہ ٹی او آرز کو سرسری نظر سے ہی دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ ان کا ہدف براہِ راست وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کا خاندان ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کیسے ان سے متفق ہوسکتی ہے؟

لہٰذا عدالت کے حکم کا آدھا حصّہ تو پہلے ہی رد ہوجاتا ہے جس کے مطابق فریقین کا عدالت میں جمع کروائے گئے ٹی اوآرز پر متفق ہونا لازمی ہے۔

ایسی صورت میں عدالت خود سے ٹی اوآرز کا تعین کرے گی، مگر اعتزاز احسن صاحب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جو نکتہ اٹھایا، اس میں خاصا وزن ہے۔

اعتزاز احسن کے مطابق کوئی بھی عدالت کسی بھی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز کا تعین نہیں کرسکتی، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے عدالت پر کسی بھی فریق کی طرف داری کا الزام لگ سکتا ہے۔

چلیں اگر مان بھی لیا جائے کہ عدالت جمہوریت کے بچاؤ کے لیے ٹی او آرز بنا بھی دیتی ہے جسے دونوں فریق تسلیم بھی کر لیتے ہیں، تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فیصلہ آنے پر عمران خان اسے من و عن تسلیم کریں گے؟

عمران خان نے تو اپوزیشن کے منتخب کردہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم پر بھی اعتماد کا اظہار کیا تھا، لیکن انتخابات کے نتائج آنے پر چیف الیکشن کمشنر کو بھی دھاندلی میں ملوث قرار دے دیا۔

مزید پڑھیے: پاناما لیکس پر اپوزیشن کے وزیراعظم سے 7 سوال

اس کے بعد جب عمران خان کے ہی مطالبے پر 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا گیا تو عمران خان نے اسے تسلیم کیا، مگر جب اس کے نتائج آئے، تو کمیشن کو بھی جانبدار قرار دے دیا۔

عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ موجودہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب پہلے پہل وزیراعظم نے اپوزیشن کے اصرار پر سپریم کورٹ کو کمیشن کے قیام کے لیے خط لکھا تھا، تو چیف جسٹس نے اعتراض لگا کر خط واپس کر دیا تھا۔ جوابی خط میں بھی چیف جسٹس نے لکھا تھا کہ جب تک فریقین تحقیقات کی شرائط پر متفق نہیں ہوجاتے، کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔

غور سے دیکھا جائے تو جس حکمنامے کو عمران خان اپنی اخلاقی فتح اور چوہدری نثار جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں، اس حکمنامے کی صورت میں سپریم کورٹ نے گیند دوبارہ فریقین کے کورٹ میں پھینک دی ہے، یعنی وہی چھے سات ماہ پہلے والی بات ایک مختلف انداز میں کہی گئی ہے۔

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے غرض سے حکومت اور اپوزیشن کی 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، مگر متعدد اجلاس ہونے کے باجود دونوں فریق متفق نہیں ہوسکے۔ تو آخر اب یہ اتفاق کیسے ہو سکتا ہے؟

ممکن ہے کہ اس بار عدالتی کمیشن کا فیصلہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن سے مختلف ہو۔ لیکن عمران خان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عدالتی کمیشن کے سامنے تحریک انصاف کو وزیرِ اعظم اور شریف خاندان کو کرپشن میں ملوّث ثابت کرنا پڑے گا، جس کے جواب میں شریف خاندان اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع کریں گے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ اپوزیشن کے پہلے ٹی او آر کے مطابق شریف خاندان خود عدالتی کمیشن کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرے گا۔

اس کے علاوہ اپوزیشن کے دیگر ٹی او آرز کے مطابق شریف خاندان کو ساری تفصیلات رضاکارانہ طور پر عدالتی کمیشن کے سامنے پیش کرنا ہوں گی۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی کرپشن کرنے والا خود سے بتائے کہ دیکھیں جی، ہمارے پاس تو یہ سب کچھ یہاں سے اور وہاں سے آیا۔

پڑھیے: سرے محل سے پاناما لیکس تک: سیاستدانوں کے نادر بیانات

اس کے علاوہ عمران خان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاناما لیکس میں شریف خاندان کا نام آنے سے یہ تو پتا لگتا ہے کہ شریف خاندان نے اتنی اتنی آف شور کمپنیوں کے ذریعے اتنی اتنی جائیدادیں بنائیں۔ مگر کیا پاناما لیکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ جائیدادیں بنانے کے لیے استعمال کیا گیا پیسہ کرپشن کا تھا؟

آف شور کمپنی رکھنا بذاتِ خود غیر قانونی کام نہیں ہے، لہٰذا یہ بات ثابت کرنی ہوگی کہ شریف خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، اتنا پیسہ حوالہ کے ذریعے اور اتنا ہنڈی کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا گیا ہے، ملک سے باہر بھیجا جانے والا پیسہ ان غیر قانونی طریقوں سے کمایا گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پاناما پیپرز اس حوالے سے خاموش ہیں۔

اس کرپشن کو ثابت کرنے کے لیے پاناما سے ثبوتوں کے حصول کے لیے لازمی ہے کہ پاناما مطلوبہ ثبوت عدالتی کمیشن کو فراہم کرنے کے لیے رضامند ہو، جو کہ ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ پاکستان اور پاناما کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے جس کے تحت پاناما مطلوبہ ثبوت پاکستان کے حوالے کرے۔

اب جب ایک معاملے میں اتنی پیچیدگیاں ہوں، مفادات کا اتنا ٹکراؤ، اتنے تضادات ہوں، تو کوئی عمران خان سے یہی پوچھے کہ آخر یہ یومِ تشکر کس بات کا ہے، ٹرک کی ایک اور بتی کا؟