’امریکی شہریوں کا ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر تسلیم کرنے سے انکار‘

اپ ڈیٹ 10 نومبر 2016

ای میل

ٹرمپ ٹاور کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین نے نو منتخب صدر کے خلاف نعرے بازی کی — فوٹو / اے ایف پی
ٹرمپ ٹاور کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین نے نو منتخب صدر کے خلاف نعرے بازی کی — فوٹو / اے ایف پی

ری پبلکن پارٹی کے رہنما ڈونلڈ جان ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہریں سڑکوں پر نکل آئے جبکہ وہ ’ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے صدر نہیں‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مظاہرے پر امن ہی تھے ، شکاگو میں مظاہرین ٹرمپ ٹاور کے باہر اکھٹے ہوئے اور نو منتخب صدر کے خلاف نعرے بازی کی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شکاگو کے ایک رہائشی نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کو تقسیم کردیں گے اور نفرت کو ہوا دیں گے اور ہماری آئینی ذمہ داری ہے کہ اسے قبول نہ کیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ پاکستان کیلئے اچھے ثابت ہوں گے یا برے؟

اسی طرح مین ہیٹن میں ٹرمپ ٹاور کے باہر ایک ہزار کے قریب افراد جمع ہوئے اور انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا — فوٹو / اے ایف پی
مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا — فوٹو / اے ایف پی

اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھے جس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین کو ٹاور سے دور رکھا۔

سرد موسم اور بارش کے باوجود امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں بھی سیکڑوں افراد نے سٹی ہال میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا۔

مظاہرین میں شکست خودرہ ڈیموکریٹک رہنما ہیلری کلنٹن اور آزاد ورمونٹ سینیٹر برنی سینڈر کے حامی بھی شامل تھے اور انہوں نے الیکشن کے نتائج پر ری پبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بوسٹن میں بھی ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’نسل پرست‘ قرار دیا ، کئی افراد نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جس میں ٹرمپ کا مواخذہ کرکے الیکٹورل کالج کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’امریکا خودانتہاپسندی کا شکار ہوگیا‘

اس کے علاوہ میساچیوسٹس، ٹیکساس، واشنگٹن ڈی سی، اوریگون، کیلی فورنیا، سین فرانسیسکو، لاس اینجلس، اوکلینڈ و دیگر ریاستوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

گزشتہ شب امریکین یونیورسٹی میں مظاہرین نے امریکی پرچم بھی نظر آتش کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اپنے خطابات میں مسلمانوں، ہسپانیوں اور دیگر اقلیتوں کے حوالے سے متنازع بنایات دیے تھے جبکہ دیگر ممالک کے حوالے سے بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیانات جاری کیے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ امریکا کے کئی قریبی اتحادی ممالک نے بھی ٹرمپ کی فتح پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں فائرنگ

امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں فائرنگ کے نتجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیاٹل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے مقام کے قریب ایک مسلح شخص نے تکرار کے بعد فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

سیاٹل پولیس ڈپارٹمنٹ کے چیف روبرٹ میرنر کا کہنا ہے کہ بظاہر فائرنگ کے اس واقعے کا ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے سے تعلق ثابت نہیں ہوا اور یہ ذاتی تنازع کی شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا شخص مظاہرے میں شریک تھا ، ایسا لگتا ہے کہ اس کا کسی سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد وہ مظاہرے کے مقام سے تھوڑا دور آیا اور مظاہرین پر فائرنگ کردی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے پیدل ہی فرار ہوگیا جسے تاحال پکڑا نہیں جاسکا۔

زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون اور 4 مرد شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

ڈونلڈ ہمارے صدر ہیں ، ہیلری

ہیلری کلنٹن نے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ کو موقع دینا چاہیے— فوٹو / اے ایف پی
ہیلری کلنٹن نے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ کو موقع دینا چاہیے— فوٹو / اے ایف پی

گزشتہ روز اپنے حامیوں سے خطاب میں شکست خوردہ ہیلری کلنٹن یہ کہہ چکی ہیں کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہمارے صدر ہیں اور ان کا احترام کرنا چاہیے۔

ہیلری نے وعدہ کیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران پیدا ہونے والی تلخی کو دفن کردیں گی اور منقسم ملک کو متحد کرنے کے لیے کام کریں گی۔

ہیلری کلنٹن نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے صدر بننے والے ہیں لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کھلے ذہن سے ان کا استقبال کریں اور ملک کی قیادت کا موقع دیں‘۔

حامیوں سے خطاب کے دوران ہیلری کلنٹن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہوگئیں جبکہ انہوں نے انتخاب میں ناکامی پر حامیوں سے معافی بھی مانگی۔

ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں مدعو

امریکی صدر اوباما نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس مدعو کرلیا جہاں اب وہ اپنے آخری ایام گزار رہے ہیں اور جنوری میں یہاں کے مکین ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’ہم سب اب ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں کہ وہ عوام کو متحد کرنے اور ملک کی قیادت میں سرخ رو ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب

وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے خطاب میں اوباما نے کہا کہ کامیاب انتقال اقتدار کے لیے وہ اور ان کا عملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم نہ ڈیموکریٹس ہیں نہ ری پبلکن ، ہم سب سے پہلے امریکی ہیں‘۔

یاد رہے کہ 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو اپ سیٹ شکست دی اور امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوئے۔

وہ جنوری کے مہینے میں اوباما کی جگہ عہدہ صدارت سنبھال لیں گے۔