عبداللہ— پاکستانی سینما کی ایک اور بہترین فلم

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2016

ای میل

فلم 'عبداللہ' کا پوسٹر — فوٹو/ پبلسٹی
فلم 'عبداللہ' کا پوسٹر — فوٹو/ پبلسٹی

17 مئی 2011 کو کوئٹہ کے نزدیک خروٹ آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی جانب سے 5 چیچن باشندوں کے ماورائے عدالت قتل پر مبنی فلم 'عبداللہ' میں ایک ایسے شخص کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے جو کیس کا آخری گواہ ہے اور اس سانحے کو ایک الگ انداز میں پیش کرتے ہوئے ایک ایسا تصوراتی حل بتاتا ہے جو شاید بہت سے لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔

فلم کی کہانی عبداللہ (حمید شیخ) کے گرد گھومتی ہے، جو ٹرک ڈرائیور ہے اور 5 غیر ملکیوں کو کوئٹہ منتقل کررہا ہوتا ہے، اس فلم کے آغاز میں ایک تفتیشی منظر بھی پیش کیا گیا ہے جسے دیکھ کر بہت سی غیر ملکی فلموں کا خیال ذہن میں آسکتا ہے۔

اس منظر میں عبداللہ کو ایک تفتیشی افسر (ساجد حسن) سے ملوایا جاتا ہے، جہاں وہ خود کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، فلم کے آخری حصے میں بھی ایسے سینز سامنے آئیں گے جہاں عبداللہ اپنی آزادی کے لیے بہت سے جھوٹے بیانات بھی دے گا، تاہم فلم دلچسپ موڑ اس وقت اختیار کرے گی جب وہ سچ بولنا شروع کردے گا۔

فلم میں معروف اداکار حمید شیخ اور ساجد حسن کی شاندار کارکردگی کے لیے انہیں سراہا جانا چاہیے، وہ یقیناً آج کے دور کے بہترین اداکار ہیں، دونوں نے اپنا کردار بخوبی نبھایا، فلم میں عمران ترین اور اصل دین خان نے بھی پولیس افسران کا کردار بخوبی نبھایا۔

بہترین پرفارمنسز اور عکاسی نے ہدایت کار ہاشم ندیم کی فلم کو دیکھنے کے قابل بنادیا۔

حبیب پنازئی نے اپنی شاندار اداکاری سے معروف اداکار عبدل کی گزشتہ سال کی فلم 'مور' کی بہترین اداکاری کی یاد دلادی، دونوں نے ہی اپنے غیر سنجیدہ کرداروں کو خوبصورتی سے نبھایا۔

تاہم عمران عباس اور سعدیہ خان نے کچھ مایوس کیا، عمران نے مرکزی اداکار کے بیٹے کا کردار ادا کیا، جو اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، تاہم اس کا بھائی اس شادی کے خلاف تھا، بہتر ہوتا اگر اس فلم میں ان کی رومانوی کہانی کو پیش نہیں کیا جاتا، کیوں کہ اس سے فلم کی کہانی مختلف مقامات پر متاثر ہوئی، یہ دونوں جب بھی اسکرین پر آتے، ایک گانا بجنے لگتا، جس سے فلم کی اصل کہانی پیچھے چلی جاتی۔

سلیم داد اور لیاقت علی کی جانب سے کی گئی عکاسی فلم 'عبداللہ' کا بہترین حصہ رہا، روجر جان اور سہیل کے کمپوز کیے گئے گانوں نے بھی فلم کو مزید بہتر کیا، ہاشم ندیم نے اس فلم کی کہانی نہایت بہترین انداز میں لکھی، ویسے تو فلم اصل واقعات کو لے کر ایک تصوراتی خیال پر مبنی تھی، تاہم اس نے شائقین کو خاصا متاثر کیا۔

فلم 'عبداللہ' کی کہانی کو بہترین انداز میں ہیش کیا گیا، جس کا اختتام نہایت دلچسپ تھا، یہ پاکستانی سینما کی ایک ایسی فلم ہے جو شائقین کو یقیناً بے حد متاثر کرے گی، اس فلم کو پاکستانی کی نمائندگی کرنے کے لیے غیر ملکی فیسٹیولز میں ضرور بھیجا جانا چاہیے۔

یہ مضمون 13 نومبر 2016 کے ڈان سنڈے میگزین میں شائع ہوا