کہتے ہیں کہ تاریخ ایسے مفروضوں کا ایک مجموعہ ہے جو بادشاہوں اور طاقت کے لیے لڑی جانے والی لڑائیوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح جدید تاریخ بھی ایسے مفروضوں کا مجموعہ ہے جو سیاسی لیڈروں اور اقتدار کے لیے ان کی پارٹیوں کی جدوجہد کے گرد گھومتے ہیں۔

شاہی جنگوں کے برعکس یہ لڑائی انتخابی میدان میں لڑی جاتی ہے اور خوش قسمتی سے اس عمل سے اتنی معلومات اور اعداد و شمار حاصل ضرور ہو جاتے ہیں جن سے یہ مفروضے توڑے جا سکیں۔ اس کے ذریعے ہمیں کچھ اعتماد کے ساتھ یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگ، یعنی ووٹرز دراصل کیا سوچ رہے تھے اور انہوں نے انہی لوگوں کو ووٹ کیوں ڈالے۔

یکم دسمبر کو پیپلز پارٹی 49 برس کی ہو گئی ہے۔ اپنی انتشار سے بھرپور تاریخ میں اس پارٹی نے عظیم رہنماؤں کو پیدا کیا۔ مگر پی پی پی کے متعلق ہمارا فہم چند مفروضوں میں گھرا ہے۔ یہاں میں نے ان مفروضوں کو دور کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔

پہلا مفروضہ: پی پی پی ایک سندھی جماعت ہے

جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے پارٹی کی پہلی حکومت برطرف کر دیے جانے کے بعد سے پی پی پی پنجاب میں حکومت قائم نہیں کر سکی ہے۔ ضیاء کے بعد اس نے سات قومی انتخابات میں سے تین میں فتح حاصل کی مگر پنجاب میں ایک بار بھی نہیں۔

1988 میں پی پی پی بینظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں لوٹی، مگر پنجاب پی پی پی کے سخت مخالف، اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ رہا، یہ دائیں بازو کی جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد تھا جس میں نوجوان نواز شریف سب سے زیادہ غیر معمولی شخصیت تھے۔

بینظیر نے ایک بار پھر 1993 کے عام انتخابات کا معرکہ اپنے نام کیا، مگر اسے پنجاب اپنے جونیئر اتحادی پاکستان مسلم لیگ جونیجو گروپ کے حوالے کرنا پڑا۔ ایسا اس لیے کیوں کہ بدلے میں جونیجو گروپ نے وفاق میں بینظیر کی حمایت کی۔ 2008 کے انتخابات کے بعد پی پی پی کو دوبارہ اقتدار نصیب ہوا مگر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر مسلم لیگ ن ہی قابض رہی۔

کیا پنجاب پی پی پی سے نفرت کرتا ہے اور اس پارٹی کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر چکا ہے؟ کئی لوگ ایسا ہی مانتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ’پی پی پی ایک سندھی جماعت ہے جو پنجاب میں قوت نہیں رکھتی۔‘

مگر پی پی پی ایک سندھی جماعت نہیں۔ درحقیقت اگر یہ پارٹی کسی قومیت کا دعویٰ کرے بھی تو وہ پنجابی ہونی چاہیے۔ نیچے دیے گئے پارٹی کے صوبائی ووٹ بینک کے اعداد و شمار ملاحظہ کیجیے۔

1970 کے انتخابات میں پی پی پی کو حاصل ہونے والے مجموعی ووٹوں کا تین چوتھائی حصہ پنجاب سے حاصل ہوا تھا۔ اگلے 6 عام انتخابات میں ووٹوں کی یہ تعداد دو تہائی کے آس پاس رہی۔ 2008 میں یہ نصف سے تھوڑی زیادہ تعداد تک رہ گئی، اور صرف گزشتہ 2013 کے انتخابات میں یہ تعداد نصف سے نیچے گر گئی۔ اور 2013 کے ہی انتخابات میں پہلی بار ہوا تھا کہ پی پی پی نے پنجاب سے زیادہ ووٹ سندھ سے حاصل کیے تھے۔

مگر پی پی پی پنجاب سے ملنے والے ووٹوں کو نشستوں میں تبدیل نہ کر سکی۔ مثلاً 1988 میں اس پارٹی نے 51 لاکھ ووٹ حاصل کیے اور 52 نشستیں جیتیں۔ مگر اگلے انتخابات میں 53 لاکھ 50 ہزار ووٹ حاصل کرنے کے باوجود بھی صرف 14 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔

دوسرا مفروضہ: پی پی پی اپنے 'شہیدوں' کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہے

پارٹی کے پہلے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو 'روٹی کپڑا اور مکان' کا مقبولِ عام نعرہ دے کر متحرک کیا، جس نے کمال کر دکھایا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پارٹی کے بانی کی شخصیت میں کرشماتی پہلو شامل کرنے میں تنہا یہ نعرہ ذمہ دار تھا۔

مگر آگے چل کر یہ نعرہ کہیں کھو گیا اور اس کی جگہ جیے بھٹو نے لے لی۔ اب پی پی پی کو 'شہیدوں کی پارٹی' کے نام سے جانا جاتا ہے جو بار بار ان اموات کا سہارا لینا پسند کرتی ہے کیوں کہ یہی ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے.

مگر کیا یہ کار آمد ہے؟ کیا لوگ پی پی پی کو ووٹ اس کے مرحوم رہنماؤں کی محبت اور ہمدردی میں ڈالتے چلے آ رہے ہیں؟

کئی نقاد چاہتے ہیں کہ ہم ایسا مانیں، مگر مجھے اس بات پر شبہ ہے، اور چند مددگار حقائق بھی ہیں۔ اگر ہمدردی سے کسی پارٹی کو ووٹ حاصل ہوتے تو 2008 کے انتخابات سے قبل بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پی پی پی کے پاس ووٹوں کا سیلاب آجاتا.

پی پی پی انتخابات میں فتح یاب ضرور ہوئی مگر اس کی وجہ کیا ہمدردی کی لہر تھی؟ یہاں ووٹرز کے رویے کا قریب سے جائزہ لیا گیا ہے۔

2008 میں خیب پختونخواہ (کے پی) میں پی پی پی کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ مگر ایسا ہی عوامی نیشنل پارٹی (اےاین پی) اور مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی تو ہوا، جنہیں بالترتیب 8.3 فیصد اور 7.9 فیصد اضافی ووٹ حاصل ہوئے۔

درحقیقت 2008 میں جب متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے غبارے سے ہوا نکلی تو ہر پارٹی کو اس سے فائدہ ہوا۔ مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد، 2002 میں حاصل کیے گئے 14 لاکھ ووٹوں میں سے 10 لاکھ ووٹ کھو بیٹھا۔

پی پی پی کو کے پی میں ہونے والا فائدہ دیگر جماعتوں سے غیر معمولی حد تک زیادہ نہیں تھا. بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 2008 میں کے پی میں پارٹی کو حاصل ہونے والے ووٹ 1988 اور 1990 کے مقابلے میں اب بھی کم ہی تھے۔

پنجاب میں پی پی پی نے 2002 کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ تاہم 2002 میں پنجاب میں 1997 کے مقابلے میں پارٹی کا حصہ 4.4 فیصد تک بڑھا۔ اس کا مطلب یہ کہ درحقیقت پارٹی کے ووٹ بینک میں 2008 میں کمی آئی! تو ہمدردی کہاں کھو گئی؟

مگر پارٹی کو سندھ میں 2002 میں حاصل ہونے والے 22 لاکھ ووٹوں میں 15 لاکھ ووٹوں کا کثیر اضافہ ہوا، اور مجموعی تعداد 37 لاکھ بنی۔ مگر سندھ میں صرف چار نشستوں کا اضافہ ہوا اور یوں تعداد 27 سے بڑھ کر 31 ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی کو زیادہ ووٹ (یا اگر آپ کہنا چاہیں تو ہمدردانہ ووٹ) صرف ان علاقوں سے حاصل ہوئے جو اس جماعت کے پہلے سے گڑھ تھے۔

تو سندھ میں زیادہ ووٹ؟ جی ہاں مگر یہ فتح شکست کے برابر ہی تھی۔

اتفاقیہ طور پر سندھ میں ایک دوسری جماعت، ایم کیو ایم نے بھی ان انتخابات میں کافی کامیابی سمیٹی۔ ایم کیو ایم کے ووٹوں کی تعداد 2002 میں 9 لاکھ 30 ہزار سے بڑھ کر ناقابل یقین طور پر 25 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی۔

ان بڑھتے ووٹوں کی وجہ کیا تھی؟ وہ کچھ بھی ہوسکتی ہے مگر اس کی مخالف جماعت کے مرحوم لیڈر کے لیے ہمدردی نہیں۔

اس بات سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ لوگ لیڈر سے محبت یا ہمدردی کے عوض ووٹ نہیں دیتے۔

تیسرا مفروضہ: ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب پی پی پی مخالف ہوا

پی پی پی کی پہلی حکومت نے سوشلسٹ نظریات اختیار کیے، اور اس نے نہ صرف بڑی صنعتوں، بلکہ آٹے اور چاول کی ملوں جیسی چھوٹی صنعتوں اور نجی تعلیمی اداروں کو بھی قومی تحویل میں لے لیا۔

مرکزی پنجاب میں رہنے والے کئی پنجابیوں کا یہی ذریعہ معاش تھا، اس لیے وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ہو گئے اور جنرل ضیاء کی حمایت کی۔ اس طرح پنجاب میں پی پی پی کا زوال شروع ہوا اور 2013 میں پارٹی کا صوبے سے صفایا ہوا اور یہ بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔

کئی تجزیہ نگار پی پی پی کے زوال کو مذکورہ بالا انداز میں بیان کرتے ہیں۔ مگر کیا پنجاب بھٹو کی پالیسیوں کے رد رعمل میں پی پی پی مخالف ہوا؟

اعداد و شمار اس بات سے متصادم ہیں۔ نیچے دیے گئے چارٹ میں 1970 سے لے کر اب تک پنجاب میں پی پی پی کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تعداد پیش کی گئی ہے۔

پنجاب میں پی پی پی ووٹوں پر بھٹو کی پالیسیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ جنرل ضیاء کے بعد پہلے تین انتخابات میں پارٹی تقریبآ 50 لاکھ ووٹ حاصل کرتی رہی، جو کہ بالکل 1970 کی کارکردگی کے مساوی ہے۔

ان تمام انتخابات کے دوران ہر 10 پنجابی ووٹرز میں سے چار پی پی پی سے وفادار رہے۔ بھٹو کی نیشنلائزیشن، دیگر پالیسیوں، اور جنرل ضیاء کی ایک دہائی پر محیط ناگوار حکومت کے باوجود پنجاب نے پی پی پی سے اپنی امیدیں اور خواہشات وابستہ کیے رکھیں۔

تبدیلی کافی آگے چل کر 1997 میں آئی۔ پنجاب میں ہر دوسرے پی پی پی ووٹر نے انتخابی مرحلے میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور وہ پھر کبھی بھی اس جوش و جذبے کے ساتھ واپس نہیں لوٹے. 2013 تک ہر 10 پنجابی ووٹرز میں سے صرف ایک پی پی پی کا حامی تھا۔

چوتھا مفروضہ: سب زرداری نے کیا!

پی پی پی 1997 میں اپنے نصف ووٹرز کھو بیٹھی۔ 207 ممبران پر مشتمل قومی اسمبلی میں پی پی پی کے پاس صرف 18 نشستیں تھیں اور پنجاب میں ایک بھی نشست نہیں تھی، جبکہ 248 نشستوں والی پنجاب اسمبلی میں پی پی پی کے پاس شرمناک حد تک کم، یعنی صرف تین نشستیں تھیں۔

پی پی پی کے کٹر جیالے اس ہولناک موڑ کا پورا الزام آصف علی زرداری پرڈالتے ہیں، جو بھٹو کے گھر میں ایک انجان شخص تھا۔ انہیں محترمہ کی حکومت کو کمزور کرنے والے کرپشن اسکینڈلز کا مرکزی کردار بھی گردانا جاتا ہے.

زرداری پر بینظیر حکومت کے اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق لغاری سے تعلقات خراب کرنے کا بھی الزام لگایا گیا۔ سب سے آخر میں مگر سب سے ضروری، مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں زرداری کے ملوث ہونے کے بارے میں سازشی نظریات آخری کیل ثابت ہوئے تھے۔

جیالوں کو بینظیر کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ایک بلی کے بکرے کی تلاش تھی کیوں کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریات محترمہ سے وابستہ کر رکھے تھے اور انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے.

مگر یہ کینہ صرف ایک یا دو لوگوں، یا پھر ایک کرپٹ یا کرپشن کے ٹولے تک ہی محدود نہیں رہا۔ جیالوں کو نہ صرف ان کے سربراہان نے مایوس کیا بلکہ وقت نے بھی کیا، اور ان میں سے کئی لوگ اس بات کو تسلیم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

وہ لوگ یہ دیکھنے میں ناکام یا انکاری رہتے ہیں کہ اس وقت کون سی چیز دنیا کو پوری طرح سے بدل رہی تھی۔ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا اور اور جس کسی نے بھی حکومت کی سربراہی کی، اس نے بھی وہی پالیسی اختیار کی۔

یہ وہ عرصہ تھا جب سرد جنگ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی اور گلوبلائزیشن کا دور دورہ تھا۔ جدید لبرل پالیسیاں اب ایک عام سے بات بن چکی تھیں۔ مالی پالیسیوں کا تعین عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کر رہے تھے اور سرکاری شعبہ تیز رفتاری کے ساتھ سکڑتا جا رہا تھا۔

اداروں کو قوم پرست جذبات کے تحت تحفظ دینا ایک پرخطر سودا تھا اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنا ایک نیا فائدہ مند سودا۔ مزدور یونینز کو خطرے کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور نیشنلائزیشن یو ٹرن لے کر پرائیویٹائزیشن یعنی نجکاری میں بدل چکی تھی.

ان طاقتور عالمی لہروں میں پی پی پی کا 'روٹی کپڑا اور مکان' کہیں کھو سا گیا۔

حتیٰ کہ اگر یہ جماعت اب بھی ماضی کا قصہ نہیں بنی تھی، مگر تب بھی پرانے نعرے نئے دور کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ دھوکہ جیالوں کا مقدر بن چکا تھا.

1993 سے 1997 کے درمیان پی پی پی کا دور حکومت صرف اس کی حکومت کی ناکامی نہیں تھی بلکہ اس دوران پرانی سوشلسٹ طرز کی سیاست بھی اختتام پذیر ہوئی، اور پارٹی اسی طرزِ حکومت کے لیے جانی جاتی تھی.

یہ پارٹی کے لیے خسارے کا دور تھا۔ اس دوران اسے نہ صرف 1997 کے انتخابات میں شکست ہوئی بلکہ اس نے اپنی ایجاد کردہ سیاست کو بھی کھو دیا تھا۔

پانچواں مفروضہ: 2018 میں پی پی پی دوبارہ جیتے گی

یہ مفروضہ زیر تشکیل ہے اور اس مفروضے کو مسلم لیگ ن کی حکومت گرانے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ناکامیوں سے تقویت مل رہی ہے۔

2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی پی پی پی کے حصے کے ووٹ لینے میں کامیاب رہی، مگر کیا عمران خان کی ناکامی کے بعد کیا بلاول ایک بار پھر ہارا ہوا میدان جیت سکتے ہیں؟

1997 میں شکست کے بعد پی پی پی نے سرپرستانہ سیاست کا آغاز کر دیا۔ جہاں 'روٹی کپڑا اور مکان' ایک سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، وہاں پارٹی امیدواروں نے اپنے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو اپنے حامیوں اور ووٹروں کی تھانہ کچہری میں معاونت کے کاموں میں وقف کر دیا، اور ان کے لیے ایسی دیگر ’خدمات‘ میں مصروف ہو گئے جو اس طرح کی سیاست کی ایک خاص پہچان ہیں۔

پی پی پی نے 2002 اور 2008 میں کامیابی حاصل کی مگر ان دونوں انتخابات کے دوران پنجاب میں سرپرستانہ سیاست کے اصل کھلاڑی میدان میں تھے ہی نہیں۔ 2002 میں شریف برادران جلاوطن تھے اور ان کے مقامی رہنما فوجی حکومت کی زد میں تھے۔ 2008 میں مسلم لیگ ن نے کچھ ہی عرصہ قبل اپنی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع تو کیا، مگر یہ جماعت منتشر تھی کیوں کہ پارٹی ممبران اس کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار تھے.

پی پی پی نے 2008 میں ان کمزوریوں کو اپنے حریف کے خلاف استعمال کیا اور اسلام آباد تک اپنی راہ ہموار کر لی، مگر وہ مسلم لیگ ن کو اس کے ہوم گراؤنڈ پنجاب میں شکست نہیں دے پائی۔

2013 تک مسلم لیگ ن اپنی حالت کافی بہتر کر چکی تھی اور کوئی دوسری جماعت اس کا مقابلہ کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔ پنجاب میں دوسرے نمبر پر آنے کے لیے بھی پی پی پی کے پاس پی ٹی آئی کی صورت میں ایک مقابل میدان میں تھا جس نے پی پی پی کو بری طرح سے شکست سے دوچار کیا۔

پی پی پی 1997 کے بعد اپنی 'روٹی، کپڑا اور مکان' والی سیاست کو دوبارہ تخلیق نہ کر سکی، اور نہ ہی پنجاب میں سرپرستانہ سیاست میں مہارت حاصل کر سکی۔ اس نے صرف اپنے قائدین کی "عام لوگوں کے لیے دی ہوئی عظیم قربانیوں" کا نام استعمال کر کے لوگوں کے جذبات جگانے کی کوشش کی، مگر یہ طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔

پارٹی کو یا تو اپنی سیاست کو دوبارہ تخلیق کرنا ہوگا، یا پھر تھانہ کچہری کی سیاست کے چیمپیئن کو اس کے ہی کھیل میں ہرانا ہوگا.

دونوں چیلینجز انتہائی کٹھن ہیں. کیا پی پی پی ان کو حاصل کر سکتی ہے؟


اس مضمون میں دیے گئے تمام اعداد و شمار قومی اسمبلی کے انتخابات کے ہیں۔


آپ نے 2013 میں جس سیاسی جماعت کو ووٹ دیا تھا کیا وہ آپ کی توقعات پر پوری اتری؟ نیچے کمنٹس میں یا [email protected] پر اپنی رائے سے آگاہ کیجیے۔