2017 میڈیا اور ثقافت کیلئے کیسا رہے گا

پنڈتوں نے نئے سال کے حوالے سے کیا کہا، یہاں جانیے
اپ ڈیٹ جنوری 03, 2017 05:56pm

میڈیا اور ثقافت


'دہشت گردی جاری رہے گی'

وسعت اللہ خان، صحافی



1۔ ٹی وی ڈراموں کو شناخت دوبارہ ملے گی

ہندوستان اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات کے باعث بدقسمتی سے سینما پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم یہ خوش آئندہ ہے کہ پاکستان کا ٹی وی سرحد سے واپس ملک آچکا ہے۔

بھارتی ڈراموں کے فارمیٹ کی نقل کرنے کے بعد، پروڈیوسرز نے متنازع موضوعات پر ڈرامے بنانے کا رسک لیا جو کامیاب رہا۔

اگلے سال میں، حساس اور ممنوع موضوعات پر مزید ڈرامے بنائے جائیں گے۔

آخرکار، ناظرین کب تک اچھے ملبوسات پہنے مظلوم خواتین اور ظالم شوہروں کو دیکھیں گے؟

2۔ ریٹنگ سسٹم پہلے جیسا ہی رہے گا

گزشتہ سال کی طرح، نیوز چینلز کو بدستور حقیقت سے قریب آنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔

اگر اس سال کے آخر تک ڈائیریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) کی سروس بھی متعارف کروادی گئی، تب بھی اس کا ریٹنگ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

سیاسی تماشے حالات حاضرہ کے حوالے سے آپ کی اسکرینز پر نظر آتے رہیں گے۔

3۔ دہشت گردی سے متعلق تشدد میں کمی ہوگی

لیکن اس سے عام شہریوں کے ذہنوں میں مذہبی شدت پسندی سے متعلق بہت سے سوالات جنم لیں گے۔

حساس موضوعات پر بحث کرنا مشکل ہوگا جبکہ آواز اٹھانے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

لیکن سیاسی تنازعات میں سوشل میڈیا کا کردار اہم رہے گا۔

کیوں کہ 2018 الیکشن کا سال ہے، اس لیے سیاسی گفتگو کی سطح میں نیچے آجائے گی۔

ظاہر ہے سیاست دانوں کو ٹی آر پی کی بھی ضرورت ہے۔


'پاکستانی سینما کے لیے بڑی نعمت'

سلطانہ صدیقی، ہم ٹی وی کی مالک



1۔ میوزک سپورٹ انفراسٹرکچر پاکستان میں بحال ہوگا

کئی سال سے میوزک کو لائیو کنسرٹس اور البم کی ریلیز میں کمی کا سامنا ہے۔

لیکن اس سال یہ معاملہ تبدیل ہوگا، بلکہ اس میں اتنی بہتری آئے گی کہ صرف میوزک کے لیے ایک نیا چینل لانچ ہوگا۔

2۔ پاکستانی فلموں کیلئے امید افزاء مستقبل

گزشتہ سال ہونے والے مسائل کو لوگ بھول جائیں گے جبکہ پاکستانی فلمیں تیزی سے آگے بڑھیں گی، اور شاہ رخ خان کی 'رئیس' بھی ضرور ریلیز ہوگی۔

3۔ ڈائیریکٹ ٹو ہوم ٹی وی اس سال پاکستان میں لانچ نہیں ہوگا

تمام بڑھاوے کے باوجود، ڈی ٹی ایچ لائسنس کو سرخ ٹیپ لگا دی جائے گی۔

دوسری جانب، نیٹ فلیکس پاکستانی ڈراموں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے رہا ہے جس سے اب یہاں کے ڈرامے دوسرے ممالک کے ناظرین کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے، اور اس سے ڈراموں کے مواد کی تبدیلی کے آپشنز بھی سامنے آئیں گے۔

اگر کوئی چیز تبدیل نہیں ہوگی تو وہ مارننگ شوز ہیں۔


''چینی نام مقبول ہو جائیں گے'

ندیم ایف پراچہ، ثقافتی ناقد



1۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنے بیٹوں کا نام تیمور رکھے گی۔

2۔ 21ویں صدی کی پہلی دہائی کے شروع میں جن والدین نے بیٹوں کو اسامہ کا نام دیا تھا، 2017 میں وہ ان سے سوال کر رہے ہوں گے کہ جب ان کا نام اسامہ رکھا جارہا تھا، تو ان کے والدین کیا سلگا رہے تھے۔**

3۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے عربی ناموں کے بجائے چینی نام زیادہ مقبول رہیں گے۔

Email