رینجرز کے لیے پنجاب کیسے مختلف ہوگا؟

25 فروری 2017

ای میل

رینجرز ایک مشن کے ساتھ اب لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں کا رخ کر رہے ہیں ویسے ہی جیسے کراچی میں ایک مقصد لے کر اترے تھے۔ ہوسکتا ہے یہ موقع عام سطح پر سکھ کے سانس کا باعث بنے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جشن منانا شروع کردیں۔

یہ تو صاف ہے کہ یہاں بھی معاملات کے انچارج صورتحال کو اس نہج تک بدتر ہونے سے روکنے کے لیے مناسب اور مؤثر اقدامات اٹھا نہیں پائے تھے جہاں نا چاہتے ہوئے بھی آرٹیکل 245 کا استعمال لازمی بن جاتا ہے۔

جو سویلین حکومت کی مثالی بالادستی کے تناظر میں رینجرز کو ’مدد کے لیے’ بلانے کا باعث بننے والے واقعات کا جائزہ لینا بھی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوگا۔

ایسے وقت میں جب ان علاقوں میں امن اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے کام میں رینجرز کو دھکیلنے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے تو پنجاب اور کراچی کے مختلف حالات کا تقابل کرنے کے لیے مزید بامقصد وجہ ہونی چاہیے۔ اس تقابل کو کیا درست ثابت کرسکتا ہے؟ شاید، ان میں موجود فرق ہمیں رینجرز کے لیے اسائنمنٹ کی نوعیت اور پنجاب کے لیے ان مخصوص طریقوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں جنہیں اختیار کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

فطری طور پر کراچی میں دلچسپی لینے والے اور اس کے جسمانی طور پر قریب تر رہنے والوں اور اس کا جذباتی مشاہدہ کرنے والوں کی جانب سے میری تصحیح کیے جانے کا رسک لیتے ہوئے کہوں گا کہ اس بڑے شہر نے رینجرز کے آگے ایک نسبتاً سادہ معاملہ رکھا تھا۔ یہ بات تو ایک طویل عرصے سے ہی ثابت ہو چکی تھی کہ اس شہر کی انچارج صوبائی حکومت صحیح سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہی تھی۔ حکومت کی ناکامیاں وزیر اعلٰی کی صورت میں دیکھی جا سکتی تھیں جن کی مسلسل غلطیوں نے ہر کسی کو مودبانہ تنقید کی حدیں عبور کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

میڈیا دن میں ہر سیکنڈ، روایتی غلطیوں سے بھری پیپلز پارٹی کو بے نقاب کرتا تھا۔ بظاہر پارٹی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کراچی، جو سیاسی جماعتوں یا نسلی گروہوں کے قبضوں سے واضح طور پر کئی حصوں میں بٹا ہوا تھا، پر کس طرح حکومت کرنی ہے جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سہولت ہوئی جو کہ سیاسی غیر جانبداری کے دعویدار تھے اور کھلم کھلا غیر سیاسی حل کا ارادہ رکھتے تھے۔

کراچی میں موجود علاقے — جن میں سے کچھ کے اندر تو دیگر کے مقابلے قدم رکھنا بھی کافی مشکل تھا — ہی یہ ظاہر کر رہے تھے یہ چیلنج کس قدر غیر معمولی نوعیت کا تھا۔ دوسری جانب، سیاہ و سفید کے فرق نے اس ادارے کے لیے کام آسان کر دیا ہوگا جو کسی بھی مسئلے کو ایک ایسے سپاہی کے یقین کی نظروں سے دیکھنے کی تربیت رکھتا ہے جو اپنے مشن اور مقصد سے سچائی سے عہد رکھتا ہے۔

کوئی آخر کس طرح اس شورش کا موجودہ یک لسانی لاہور اور پنجاب سے تقابل کر سکتا ہے؟ صوبے بھر میں ایک طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ طاقت کی نیچے تک منتقلی نہیں ہے سو مقامی منتظمین پر الزام لگانا آسان نہیں۔ کراچی کے برعکس لاہور میں لسانی بنیادوں پر بٹے ہوئے علاقے نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح کراچی میں چھاپہ مارنے والوں کے لیے مشبتہ افراد دستیاب تھے، ویسا یہاں نہیں ہے۔

لاہور کے باہر چند عام تاثر میں سمجھے جانے والے مشتبہ افراد ہیں، جنوبی پنجاب میں واقع عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں، جن پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے، پر نا ختم ہونے والے بحث و مباحثے تو کیے گئے مگر ابھی تک حقیقی طور پر بہت کچھ واضح ہونا باقی ہے۔ یہ انتہائی حساس علاقہ ہے۔

کوئی نہیں جانتا ہے کہ اگر صوبے کے کسی خاص علاقے کو دیگر علاقوں سے الگ کر کے نشانہ بنایا گیا تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا رد عمل کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کہ وہ علاقہ جنوبی پنجاب میں ہوا تو وہاں موجود عناصر 'تختِ لاہور' کے خلاف اپنی طویل جدوجہد کے لیے ملتان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی ’امتیازی‘ کارروائی کا غلط استعمال ضرور کرنا چاہئیں گے۔ پنجاب کے کسی دوسرے علاقے میں کارروائی کر کے امتیازی رویے کے احساس کو فوری طور پر ختم کرنا ہر کسی کے لیے مشکل ہوگا۔

چوں کہ اس معاملے میں تقسیم زیادہ نہیں ہے، لہٰذا اس صفائی مہم میں قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ان عناصر کی شناخت کر پانا بہت ہی مشکل ہوگا کہ جنہیں جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ چند عناصر اسی نظام کا حصہ ہوں جو صوبے میں ارتقاء پا چکا ہے۔ جب ایسا ہوا تو مضبوط مسلم لیگ ن کی حکومت کے لیے کوئی دوسری راہ لینا آسان نہیں ہوگا اور اس طرح قریب ایک سال بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر اس کے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مضبوط ترین اور خود اعتمادی سے بھرپور شہباز شریف کی حکومت اپنے اتحادیوں کے سامنے خود کو اتنا بے بس ظاہر نہیں کر ہائے گی کہ اپنے اتحادیوں کو مشکل گھڑی میں ساتھ دینے کے لیے قائل کر سکے۔

پنجاب کے لوگ ان دیگر علاقوں کی کہانیوں کے درمیان، جہاں رینجرز پہلے امن امان قائم کر چکے ہیں، اپنے صوبے میں عنقریب ہونے والی کارروائی کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ مگر یہ کہانیاں سن کر ایسا کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ صوبے کو اس سنگین صورتحال سے پوری طرح نکالنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان اقدامات کے بارے میں کچھ پیش گوئی کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ جن کے خلاف یہ آپریشن ہونے جا رہا ہے وہ بڑی حد تک آبادی کے درمیان گھلے ملے ہوئے ہیں۔

یہاں ایسے بھی مشتبہ افراد ضرور ہوں گے جو واضح اور چوکس کارروائی کے لیے معصوم آبادی سے الگ ہو کر نظر آئیں۔ مسلم لیگ ن اس بارے میں اپنے طور پر تھوڑی غیر یقینی صورتحال میں نظر آتی ہے کہ اپنی زندگی میں اس نئے فیصلہ کن مرحلے سے کس طرح گزرا جائے۔ حکومت ایک عرصے سے تازہ پالش کر کے وہ مشتبہ افراد تیار کر رہی ہے کہ جن کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لگایا جا سکے۔

حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کو باہر سے آنے والے کا لیبل لگانے پر زور دیا جاتا رہا، کہ جن کے پاس شریکِ جرم ساتھی تو نہیں تھے، البتہ سہولت کار ضرور تھے، کہ جیسے وہ افراد جرائم میں پوری طرح سے شریک ساتھی سے کم خطرہ ہوں۔

روایتی مشتبہ افراد کی اس شناخت کے علاوہ مسلم لیگ ن اپنے پرانے دوستوں سے خود کو دور کرنے پر مجبور ہوئی ہے، اور اس طرح یقینی طور پر حکومت کو دائیں بازو کی جانب سے زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہو سکتا ہے کہ ایک وقت آئے کہ جب یہ آپریشن وزیر اعلیٰ کو اپنا مخصوص رویہ بدلنے پر مجبور کر دے جو اپنے اختیار سے باہر لوگوں کو اقدامات سمجھانے کے بجائے ایکشن کرنے کے عادی ہیں۔ یہ سب ایسے شخص کے لیے نیا ہوگا جو احکامات جاری کرنے کے حوالے سے مقبول ہے۔

لکھاری لاہور میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 24 فروری 2017 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔