آپ ذرا اپنے ارد گرد لوگوں سے پوچھیے کہ پاکستان کو لاحق تین بڑے خطرے کون سے ہیں۔ تو عام آدمی، حد سے زیادہ بولنے والے اینکرز، ملا، جنرل اور سیاستدان آپ کو کرپشن، خراب طرز حکمرانی اور مذہبی دہشتگردی سے لے کر ہندوستانی اور امریکی سازشوں، اخلاقیات کے فقدان تک سب کچھ گنوا دیں گے۔

مگر چند ایسے بھی ہیں جنہیں ملک کی بڑھتی آبادی کے بارے میں فکر راتوں کو سونے نہیں دیتی۔ چند پڑھے لکھے لوگ اس بارے خدشات تو رکھتے ہیں مگر صرف اکسانے پر ہی اپنی فکر ظاہر کرتے ہیں۔

خوش قسمتی سے، شدید مذہبی قسم کے لوگ، جن کی اس سرزمین پر بھرمار ہے، اس بے فائدہ فکر سے آزاد ہیں۔ ان کے نزدیک کثیر آبادی بہتر چیز ہے۔ شدید مذہبی کہتے ہیں کہ دنیا میں جنم لینے والا ہر انسان اپنا رزق اپنی تقدیر میں لکھوا کر آتا ہے۔

چلیں اس کے برعکس صورتحال کے واضح شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے مان لیتے ہیں کہ یہ بات درست ہے۔ بھلے ہی معجزانہ طور پر آسمان سے خوراک اور پانی برسنے لگے مگر ایک مسئلہ پھر بھی برقرار رہے گا، جس کا حل ناممکن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کثرتِ آبادی سے پاکستان کی زمینی گنجائش ختم ہوتی جائے گی۔ موجودہ آبادی کی نسبت شرح آبادی میں تیزی سے اضافے کا ہی ایک تقاضا یا سائنسی قانون ہے۔

مذکورہ اضافے کے اس اصولِ ریاضی سمجھنے میں آپ کو ایک پرانی فارسی کہانی مدد دے گی۔

ایک زمانے میں ایک عقلمند درباری نے اپنے بادشاہ کے حضور ہاتھی دانت سے بنے مہروں کی عمدہ شطرنج پیش کی۔ اس کے بدلے میں انہوں نے بادشاہ سلامت سے شطرنج کے پہلے خانے کے عوض ایک دانہ چاول مانگا، دو دانے دوسرے خانے اور چار دانے تیسرے خانے کے عوض مانگے اور یوں ہی دیگر شطرنج کے خانوں کے لیے بھی۔

ان دنوں بادشاہوں کے پاس ریاضی کی ڈگریاں تو تھیں نہیں اور اس بادشاہ سلامت کی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی۔ بے وقوف بادشاہ نے حامی بھر لی اور گودام سے چاول لانے کا حکم دے دیا۔ جب شرائط پر عمل کیا جانے لگا تو دسویں خانے پر اناج کے دانوں کی تعداد 512 بنی، 14 ویں خانے پر دانوں کا وزن ایک کلو گرام کے برابر بنا، اور 20 ویں پر 128 کلو گرام کا وزن بنا.

ابھی آخری خانے (64 ویں) تک پہنچا ہی نہیں گیا تھا کہ شاہی ریاست کے چاول کا پورا گودام ہی خالی ہو گیا تھا۔

کہانی کا سبق: اگر کسی چیز کو دگنا کیا جائے اور دوگنے کو پھر سے دوگنا کیا جائے تو یہ اعداد آسمانوں سے آگے چھونے لگتے ہیں۔

چلیے پھر سے پاکستان لوٹ آتے ہیں۔ 1947 میں پاکستان کی آبادی 2 کروڑ 70 لاکھ تھی اور اب یہ تعداد 20 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 25 سالوں میں آبادی دوگنی ہوتی گئی۔

اب چلیے ایک لمحے کے لیے فرض کرتے ہیں کہ ایسے افراد اپنی روش جاری رکھتے ہیں اور دوگنے ہونے کا سلسلہ بلا ناغہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح پھر 25 برسوں بعد 40 کروڑ پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈرز ہوں گے۔ اور اگر ایک صدی انتظار کر لیا جائے تو یہ تعداد دنیا کی موجودہ آبادی 7 اعشاریہ 2 ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

اور اگر اس کے بعد مزید 25 برس، مطلب آج سے 150 برس کے بعد تو آبادی کی حالت مزید ڈرامائی صورتحال اختیار کر لے گی۔ ذرا تصور کریں کہ پاکستان کی 8 لاکھ مربع کلومیٹرز کی سرزمین پوری طرح سے بھر چکی ہے۔ یہاں تک کہ چلنے پھرنے کی بھی جگہ نہیں بچی۔ ایسے حالات میں یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کس طرح مزید افزائش نسل کا عمل ممکن ہو پائے گا۔

وہ جنرل جو آج ریٹائرمنٹ کے بعد 93 ایکڑ (تقریباً 37 ہیکٹرز) زمینوں کے تحفے حاصل کرتے ہیں تب وہ اگر 93 مربع فٹ زمین بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو بھی کافی خوش قسمت ہوں گے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ حقیقی طور پر ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ ہر ماہر آبادیات بے حد مطمئن نظر آتا ہے کہ شرح پیدائش کم ہو رہی ہے اور آبادی کے دوگنے ہونے کے وقت میں بھی اضافہ ہو ریا ہے۔ بلاشبہ، سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق، پاکستان میں شرح پیدائش میں 2000 میں 32.11 کے مقابلے 2014 میں 23.19 تک گرواٹ آئی ہے۔

بری خبر یہ ہے کہ اتنی گرواٹ بھی کافی نہیں ہے۔ ماسوائے ایٹمی جنگ یا کسی معجزے کے، اگلے 35 سے 40 برسوں میں پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے سے اور کوئی روک نہیں سکتا۔ یوں رہنے کے لیے جگہ کی طلب میں بے پناہ تیزی آئی ہے، بلکہ موجودہ وقت میں بھی سرسبز زمینوں کے گاؤں شہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور ایک شہر کی وسعت دوسرے شہر تک پہنچی ہے۔ جیسے کراچی اور حیدرآباد ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جس طرح اسلام آباد اور راولپنڈی بالآخر اب باقاعدہ ایک ہی شہر بن چکے ہیں، اور اسلام آباد تیزی سے خود کو ٹیکسلا کی جانب پھیلاتا جا رہا ہے۔

پاکستان کی دوگنی آبادی کا مطلب یہ ہے کہ پینے کے پانی کی مقدار موجودہ مقدار کے مقابلے نصف ہو جائے گی، ہوا اور بھی زیادہ آلودہ ہو جائے گی، آلودگی سے زمین اور سمندر زہریلا ہو جائے گا اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت تقریباً نا ممکن ہو جائے گی۔

جیسے ہی غربت آسمان کو چھونے لگے گی تو سڑکوں پر بھکاریوں کے ہجوم نظر آئیں گے، مدرسے ناپ اور تعداد میں بڑھتے جائیں گے، اور بے روزگاروں اور ناقابلِ روزگاروں میں غصے اور محرومیوں سے اشتعال پیدا ہوگا۔ وہ باآسانی اس بات کو مان لیں گے کہ ان کے بدتر حالات کی ذمہ دار چند بین الاقوامی سازشیں ہیں۔

اگرچہ یہ بدترین حالات صرف چند برسوں کی دوری پر ہیں، مگر ہماری توجہ کا مرکز صرف وہ دہشتگرد، جن کی بال بیئرنگ سے بھری جیکٹ صرف چند درجن افراد کی ہلاکت کا باعث بنتی ہے، ہی بنے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ یہاں چولہے کے قریب پھدکتے دو مینڈکوں کی کہانی سبق آموز ثابت ہوگی۔

ایک مینڈک گرم پانی کے برتن میں جا گرتا ہے۔ گرم پانی اسے اس قدر ہلا کر رکھ دیتا ہے کہ وہ فوراً پھدک کر برتن سے باہر کود جاتا ہے، یوں اس کی جان بچ جاتی ہے۔ دوسرا مینڈک پانی کے اس برتن میں جا گرتا ہے جس میں پانی دھیرے دھیرے گرم ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ پانی میں آرام آرام سے تیرتا رہتا ہے اور جلد بازی میں برتن سے باہر نہیں کودتا۔ بالآخر پانی اس قدر گرم ہو جاتا ہے کہ اس کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کا سبق بہت ہی سادہ اور صاف ہے کہ طویل المدتی خطروں کے مقابلے میں اچانک لگنے والے جھٹکوں سے زیادہ بہتر انداز میں بچا جا سکتا ہے۔

ایسی صورتحال سے ہم خود کو کیسے بچاسکتے ہیں؟ پہلے اقدام کے طور پر ہمیں اپنے خفیہ رکھے گئے قومی راز کو ظاہر کرنا لازمی ہے— وہ یہ کہ بچے کیسے بنتے ہیں۔ صرف تبھی ہم عوامی سطح کی میڈیا، اور اسکولوں اور کالجوں میں امتناع حمل پر گفتگو کر سکتے ہیں۔

ان معاملات پر حیرت انگیز حد تک لاعلمی کے باعث پاکستانی خواتین میں امتناع حمل کی روک تھام کی شرح انتہائی کم ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال بچوں کی تعداد کے فیصلے پر ان کی بے اختیاری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یوں پاکستان میں شرح پیدائش بنگلہ دیش، ہندوستان، سری لنکا اور باقی جنوبی ایشیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مشرقی شرم و حیا کے تقاضوں کی آڑ میں ان موضوعات پر گفتگو ہی نہیں ہو پاتی اور آج تمام اقسام کے فضول خیالات و نظریات ناقابلِ تبدیل انداز میں قائم و دائم ہیں۔ جب بے شمار پولیو رضاکاروں کو پولیو کے قطرے — جن کے بارے میں یہ ٖغلط تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ تولیدی عمل کو متاثر کرتے ہیں— پلانے پر قتل کیا جا چکا ہے تو حیرت کس بات کی ہے؟

حکومت کی زبردست بزدلی تو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ مذہبی جنونیوں کے قہر کے ڈر سے پاکستان نے کئی برس پہلے ہی خاندانی منصوبہ بندی کی وزارت کو ختم کر دیا تھا۔

گوگل کرنے پر محمکہ بہبود آبادی کی ویب سائٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ تمسخر آمیز نام یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستانیوں کی چاہے جتنی بھی تعداد ہو، محکمہ بہبود آبادی ان کی بہبود کی جدوجہد کرے گا اور اس میں کامیاب ہوگا۔

میں اس ویب سائٹ کا کوئی اردو ورژن تلاش نہیں کر پایا۔ سوائے اخبارات میں اشتہارات کی اشاعت کے، جن سے کوئی زیادہ فرق بھی نہیں پڑتا، مجھے نہیں معلوم کہ یہ محکمہ اور کوئی کام کرتا بھی ہے یا نہیں۔

افزائش نسل کی زیادتی کے باعث آنے والی آفت کا رخ موڑنے کے لیے کسی قسم کی پیچیدہ سائنس کی ضرورت نہیں، لیکن عام فہم ضرور درکار ہے۔ اس کے لیے حوصلہ بھی درکار ہے جسے سمیٹنے میں ہمارے رہنما— دونوں سول اور فوجی— ابھی تک ناکام رہے ہیں۔

ضرب عضب سے کہیں زیادہ ہمیں ضرب تولید کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس اپنا مستقبل بچانے کی تب تک اور کوئی راہ نہیں ہوگی جب تک ہم دوسرے مینڈک کی قسمت سے سبق حاصل نہیں کر لیتے۔

یہ مضمون 18 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔