اسلام آباد: مردم شماری کے فارم میں سکھ برادری کی علیحدہ شناخت کے لئے خانہ نہ ہونے پرسکھ رہنما رادیش سنگھ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 22، 25 اور 36 میں مجھے اس بات کا حق دیا جاتا ہے کہ ہمارے ساتھ کہیں بھی زیادتی ہو رہی ہے تو میں اسے عدالت میں چیلنج کر سکتا ہوں۔

ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں گفتگو کرتے ہوئے رادیش سنگھ کا کہنا تھا کہ 1998 کی مردم شماری کے فارم میں سکھ برادی کو الگ شناخت نہیں دی گئی اور ہم نے اس معاملے پر آواز نہیں اٹھائی جس کے بعد فارم میں سکھ برادری کے خانے کو ختم کر دیا گیا۔

سکھ رہنما کے مطابق پاکستان میں سکھ بے شک کم تعداد میں بستے ہیں لیکن اس بات کی معلومات رکھنا مردم شماری کے عملے کا فرض ہے کہ پاکستان میں کونسا مذہب، کونسی زبان کتنی بولی جاتی ہے اور لوگ کس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں؟

رادیش سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ سکھ ایک بین الاقوامی کمیونٹی ہے مردم شماری کے فارم میں سے ان کا خانہ کیوں ختم کر دیا گیا ؟ بین الاقوامی طور پر ہماری ایک پہچان ہے اور مردم شماری والوں نے ہماری پہچان کو ہی مٹا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:مردم شماری:دوسرے مرحلے میں سکھ مذہب کا خانہ شامل کرنےکا حکم

اس حوالے سے رکن مردم شماری ٹیم حبیب اللہ خٹک نے کہا کہ 1981 کی مردم شماری میں سکھ برادری کے لئے ایک خانہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے 1951،1961،1972 اور 1998 کی مردم شماری میں انھیں دیگر کے خانے میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی کل آبادی میں سے سکھوں کا تناسب 0.003 فیصد تھا۔

حبیب اللہ خٹک نے مزید کہا کہ کیوں کہ سکھ مذہب کے پیروکاروں کی تعداد پاکستان میں زیادہ نہیں تھی اس لئے مردم شماری کی ایڈوائزری کمیٹی نے ان کو دوسرے مذاہب کے ساتھ دیگر کے خانے میں شامل کیا۔

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے مردم شماری کے اگلے مرحلے میں سکھوں کا خانہ فارم میں شامل کرنے کے حکم پر حبیب اللہ خٹک نے کہا کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ ہم ملک کے 63 اضلاع میں گنتی کا مرحلہ اگلے اٹھ سے دس دن میں مکمل کر لیں گے اس لئے ہمارے لئے مشکل ہو گا کہ سکھ مذہب کو علیحدہ خانہ دے کر دوبارہ گنتی کریں۔

رکن مردم شماری ٹیم کے مطابق اس پرعدالت نے حکم دیا کہ جن 63 اضلاع میں مردم شماری جاری ہے اس میں یہ عمل رہنے دیا جائے لیکن اس طرح ہمیں تکنیکی طور پر مسئلہ ہو گا کیوں کہ ان 63 اضلاع میں سکھ فارم میں دیگر کے حصے میں ہوں گے اور کچھ اضلاع میں جاری ہونے والے فارم میں سکھوں کے خانے میں ان کا اندراج ہو گا جس سے ہم سکھوں کی مکمل تعداد سامنے نہیں لا پائیں گے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ شماریات کو مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں سکھ مذہب کا خانہ شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سکھ برادری کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

محکمہ شماریات کی جانب سے ممبر حبیب اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت عالیہ کو بتایا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ جاری ہے جس کے باعث سکھ مذہب کا کالم فارم میں شامل نہیں کرسکتے۔

تاہم بحث مکمل ہونے پر عدالت نے محکمہ شماریات کو مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں سکھ مذہب کا اندراج کرنے کا حکم دے دیا۔