کرپشن کیس: شرجیل میمن کی عبوری ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2017

ای میل

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کرپشن کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

محکمہ اطلاعات میں بدعنوانی کے مقدمے میں ضمانت ملنے پر سندھ ہائی کورٹ کے باہر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ وہ آزاد عدلیہ کے بھی شکرگزار ہیں۔

یاد رہے کہ شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی تھی، تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد وہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم نیب راولپنڈی کے اہلکاروں نے شرجیل میمن سے 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد انہیں رہا کردیا تھا۔

جس کے بعد 20 مارچ کو شرجیل میمن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض اپنی حفاظتی درخواست ضمانت میں 5 اپریل تک کی منظوری حاصل کرلی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ پیپلز پارٹی رہنما کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس اکتوبر 2016 میں دائر کیے گئے تھے، جب وہ بیرون ملک موجود تھے۔

مزید پڑھیں: شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت 5 اپریل تک منظور

صحافیوں سے بات چیت میں پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمات قائم کیے گئے تاہم انہوں نے خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی ادارہ پاکستان لے کر نہیں آیا بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔

’ضمانت کو ڈیل کہنا توہینِ عدالت‘

گذشتہ روز کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے دہشت گردوں کے علاج معالجے کے کیس میں سابق وزیر پیٹرولیم اور پی پی پی رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی اور کرپشن مقدمات میں ان کی ضمانت پر تبصرہ کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسے 'ڈیل' قرار دینا شرمناک بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'نیب صرف سندھ کے ارکان اسمبلی کو نشانہ بنارہی ہے'

انہوں نے کہا کہ ضمانت کو ڈیل قرار دے کر ڈاکٹر عاصم کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ ضمانت و رہائی کے عدالتی فیصلے کو ڈیل قرار دے رہے ہیں وہ دراصل توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں‘۔

’وزیر داخلہ چوہدری نثار کو مناظرے کا چیلنج‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کس فارمولے کے تحت ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا۔

شرجیل میمن نے سوال کیا کہ ’کیا چوہدری نثار کے ماتحت ادارے نہیں جانتے تھے کہ میں ملک سے باہر ہوں جو میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا؟‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ چوہدری نثار نے ای سی ایل کو اپنی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتی۔

پیپلزپارٹی رہنما نے مزید کہا کہ ’میں چوہدری نثار کو چیلنج کرتا ہوں اگر انہیں شرم و حیا ہے تو نواز شریف، اسحق ڈار اور نواز شریف کے بیٹوں کا نام ای سی ایل میں ڈالیں‘۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ’یہ نوے کی دہائی نہیں، اب نوے کی دہائی کی سیاست اور طریقے نہیں چلیں گے، اگر پاکستان مسلم لیگ نواز کو لڑنا ہے تو سامنے آئے اور اداروں کے پیچھے بیٹھ کر نہ لڑے‘۔