کہتے ہیں ایک غیر مسلم بوڑھی عورت تھی جو آں حضرت ﷺ پر کوڑا پھینکا کرتی تھی، ایک دن کوڑا نہ پھینکا تو آپ اس کی خبر گیری کو چلے گئے۔ بیمار بوڑھی عورت کی خبر گیری کی اور بتایا کہ تمہیں روز کی طرح نہ پا کر پوچھنے چلا آیا۔ آپ کے حسنِ اخلاق سے اس بوڑھی عورت نے اسلام قبول کر لیا۔

آج غارِ ثور کی زیارت کا موقع ملا تو دل بھر آیا، کلیجہ منہ کو آنے لگا کہ کوڑا پھینکنے والوں کو تو میرے نبی نے کلمہ پڑھا دیا تھا لیکن پھر کون ہے جو ان گذر گاہوں کو آلودہ کرنے پر تلُا ہوا ہے۔

پلاسٹک کی تھیلیاں، خالی بوتلیں، جوس کے ڈبے، کینو کے چھلکے، راستوں پر غلاظت کے نشانات، کون ظالم ہے جس نے حضور کے راستوں میں سے ایک راستے پر کوڑے کے ڈھیر لگا رکھے ہیں؟ کچھ نابالٖغ اور ناسمجھ لوگوں نے دیواروں پر اور پتھروں پر جا بجا اپنے نام لکھ رکھے ہیں، مجھے اس عجیب و غریب عقیدت کی کچھ سمجھ نہ آئی۔

غارِ ثور کے اندر اور باہر اور راستے کے پتھروں پر اپنا نام لکھنے سے نہ جانے لوگوں کے کس ذوق کی تسکین ہوتی ہے اور وہ کس قبیل کے لوگ ہوتے ہیں جو ایسے مقامات پر اپنی نشانی کے طور پر ایک مستقل زخم چھوڑ آتے ہیں۔

غار ثور — تصویر رمضان رفیق
غار ثور — تصویر رمضان رفیق

غارِ ثور کے آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق
غارِ ثور کے آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق

غارِ ثور —تصویر رمضان رفیق
غارِ ثور —تصویر رمضان رفیق

سارا راستہ یہ تکلیف دل کے ساتھ چلتی رہی، بار بار سوچتا رہا کہ صفائی تو ہمارا نصف ایمان ہے، پھر ان مقدس گلی کوچوں کا یہ حشر کس نے کر دیا؟ جبلِ ثور پر چڑھیں تو اوپر دو غار ملتے ہیں۔ ایک غار نسبتاً کشادہ ہے، اس میں تین سے چار افراد کے بیٹھنے کی جگہ موجود ہے اور یہ خاصہ ہوا دار اور روشن ہے۔

اسی غار کے بالکل قریب ایک اور غار ہے، جس کا داخلی راستہ قدرے کشادہ ہے جبکہ نکلنے کا راستہ خاصا تنگ ہے جس میں سے لیٹ کر ہی نکلا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے غار کی صورت حال ایسی ہے جس کو باآسانی تمام اطراف سے بند کیا جا سکتا ہے، اور غالباً اسی غار کے باہر مکڑی نے جالا بنایا ہوگا کہ جس کو دیکھ کر حضور ﷺ کا پیچھا کرنے والے کفار واپس پلٹ گئے تھے۔

پہلے غار کے اندر اور باہر لوگوں نے اپنی یادگار کے طور پر خوب اپنے نام لکھ رکھے ہیں، یہ نام اس قدر گڈ مڈ ہو چکے ہیں کہ نام پڑھے بھی نہیں جاتے مگر جانے ایسا کرنے سے کون سی نفسیاتی تسلی ہوتی ہے جس کی بنا پر لوگ اپنا نام یہاں لکھنا چاہتے ہیں۔

غار ثور اور آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق
غار ثور اور آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق

غار ثور اور آس پاس کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق
غار ثور اور آس پاس کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق

پہلے غار کے اندر دو سے تین افراد کے نفل پڑھنے کی گنجائش ہے۔ گو کہ غار سے باہر بھی جائے نماز بچھی ہوئی ہیں، لیکن محبت والے اس غار کے اندر نفل پڑھنا چاہتے ہیں، لیکن ظلم کا آغاز وہاں پر ہوتا ہے جب کوئی کسی اور کو جگہ دینے کا روادار نظر نہیں آتا۔

سب کی خواہش ہے کہ اگر اس کے پاس جگہ آ گئی ہے تو وہ خوب جی بھر کر وہاں نفل پڑھے، کسی اور کو جگہ ملے یا نہ ملے اس کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہمت کی داد دینی چاہیے ان لوگوں کو بھی جو ان دھکوں اور شور میں بھی پوری توجہ کے ساتھ نوافل ادا کرتے ہیں۔

پہاڑ کی اس چوٹی پر چڑھ کر، ان غاروں کے اندر جا کر آں حضور ﷺ کی زندگی کے ایک باب کو یاد کیا جا سکتا ہے۔ وہ دشواریاں جو ہمارے نبی ﷺ نے دیکھیں ان کو محسوس کیا جا سکتا ہے، سچ پوچھیے تو ہمیں جس طرح آسانی سے اسلام ملا ہے ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔

لیکن وقت کے اس لمحے کو یاد کیجیے جب شہر کے بڑے بڑے جنگجو تلواریں سونتے آپ کے درپے ہوں، اور آپ ان کے قدموں کی آہٹ کو سن سکتے ہوں، ایسی جگہ میں چھپے ہوں جہاں سے نکل بھاگنے کو کوئی راستہ بھی موجود نہ ہو، اس تنگ غار میں کھڑا دیر تک میں حضور ﷺ پر گزرنے والی اس گھڑی کو یاد کرتا رہا۔

مجھ میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ ایک طرف سے نکل کر دوسری سمت جا نکلتا۔ ایسی کیفیات میں گھرے جب ایک ایک پتھر کے بارے میں یہ احساس ہو کہ یہاں سرورِ کائنات کے قدم پڑے ہوں گے، تو دل کی کیا حالت ہو سکتی ہے، ایک مسلمان کا دل ہی سمجھ سکتا ہے۔

ان لمحوں میں کسی کو گلہ کیا دیا جا سکتا ہے، تخیل کی وادیوں میں حضور ﷺ کے راستوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے، بوجھل دل کے ساتھ میں نیچے اتر آیا، جہاں سعودی حکومت کے کچھ ذمہ داران لوگوں کو اوپر نہ چڑھنے کی ترغیب دینے میں مشغول تھے۔ غالباً یہ اس وقت موجود نہ تھے جب میں نے صبح اوپر جانے کی ٹھانی تھی.

غار ثور اور آس پاس کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق
غار ثور اور آس پاس کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق

ٖغار ثور اور آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق
ٖغار ثور اور آس پاس کا علاقہ— تصویر رمضان رفیق

غار ثور— تصویر رمضان رفیق
غار ثور— تصویر رمضان رفیق

میں نے ان سے پوچھا، حضور اوپر جانے یا نا جانے کی بحث اپنی جگہ، مگر یہ بتائیے کہ اس جگہ پر صفائی کیوں نہیں؟ انہوں نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں، میں نے انہیں ٹوکا کہ حضور میرا سوال بہت سادہ ہے، یہاں صفائی کیوں نہیں اور یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ ان کے جواب کا خلاصہ ایک فقرے میں یوں ہے کہ ہم تو یہ چاہتے ہی نہیں کہ لوگ اوپر جائیں۔

اس کے بعد وہ ایک اردو میں بنی دو منٹ کی ویڈیو دیکھنے پر اصرار کرنے لگے جو میں نے دیکھی، اس میں اوپر چڑھنے سے منع کرنے کے حوالے سے لوگوں کو سمجھایا گیا تھا۔

اپنے مؤقف کو جاندار بنانے کے لیے انہوں نے ویڈیو میں ایک لاش کی تصویر بھی شامل کر رکھی تھی جس کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہلاک بھی ہوگئے ہیں۔ اس تنبہیی مرکز میں پانچ چھے افراد شامل تھے، جن کا کام لوگوں میں لٹریچر کی تقسیم اور لوگوں کو سمجھانا شامل تھا۔

میرے خیال میں یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے، جو ارد گرد ماحول کو صاف کرنے سے اور صفائی سے متعلقہ سہولتیں فراہم کرنے سے بھی گریزاں نظر آ رہی تھی۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ میرا دل رو رہا تھا، ان لوگوں کے لیے جو شاید محبت کے معنی سے بھی آشنا نہیں ہیں، نیچے لوگ سمجھا رہے کہ بھائی اوپر نہ چڑھو اور آپ اوپر چڑھ رہے ہیں حضورﷺ کی محبت میں، تو کیا محبت فقط یہ ہے کہ اوپر چوٹی سر کر لی جائے اور اس پر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑ دیا جائے؟ وہاں کسی پتھر پر اپنا نام لکھ دیا جائے؟

ایک دفعہ ضرور سوچیے کہ جس بارگاہ میں سر جھکا کر باادب جانا ہے، جہاں کے چرند پرند ہر شے کا احترام کرنا ہے، حرمین میں کسی جاندار کو ایذا نہیں پہنچانا ہے، وہاں گندگی پھینک آنا کون سی محبت ہے؟

دل میں بار ہا خیال آتا ہے کہ اپنے راستوں میں کوڑا پھنکنے والوں کو تو میرے حضورﷺ نے مسلمان کر دیا تھا، پھر یہ کون ہیں جو ان کے مقدس راستوں پر کوڑا پھینک رہے ہیں۔