امریکی یہودی موسیقار کا پاکستان میں گھر

ایرک الابیسٹرکواستاد ملازم حسین نےآلات موسیقی سکھائے،وہ متعدد بار پاکستان آ چکے ہیں، جسے وہ بہت امیر ملک بھی مانتےہیں۔

اپ ڈیٹ اپريل 19 2017 05:47pm

ایرک الابیسٹر امریکی موسیقار ہیں، وہ ہیں تو یہودی لیکن ان کی زندگی پر ایک پاکستانی کے گہرے اثرات ہیں، وہ اکثر ماضی میں کھو کر 1990 کے ان دنوں یاد کرتے ہیں، جب وہ ’خالص گورے‘ تھے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ان کی ملاقات پاکستانی طبلہ نواز استاد ملازم حسین سے نہیں ہوئی تھی، مگر استاد ملازم حسین سے ملاقات کے بعد ایرک الابیسٹر کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی۔

آج امریکی شہر نیویارک کے پڑوس میں واقع مِڈ وڈ میں ان کا میوزک اسٹوڈیو ہے، شہر کے اس علاقے کو ’لٹل پاکستان‘ (چھوٹا پاکستان) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جس میں بیٹھ کر وہ پاکستانیوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔

ان کے اسٹوڈیو میں داخل ہوتے ہی آپ کو احساس ہونے لگتا ہے جیسے آپ فوری طور پر نیویارک سے جنوبی ایشیا منتقل ہوگئے ہوں۔

اسٹوڈیو کی دیوار پر ایک اجرک لٹکی ہوئی ہے، فرش پر پاکستانی، افغانی اور ایرانی قالین بچھے ہوئے ہیں، جب کہ کمرے میں جابجا چھوٹے بڑے تکیے بکھرے پڑے نظر آئیں گے۔

کمرے کے ایک کونے میں موسیقی کے کئی آلات سجائے گئے ہیں، جہاں ایک پیانو، ڈرم کا ایک سیٹ، طبلہ، ہارمونیم اور کچھ لاؤڈ اسپیکرز رکھے ہوئے ہیں، جب کہ ان سازوں کے پیچھے بنے ہوئے ایک شیلف پر پاکستانی سروں کے شہنشاہ مہدی حسین کا پورٹریٹ سجا ہوا ہے۔

کمرے کے ایک قالین پر بیٹھ کر ایرک الابیسٹر ماہرانہ انداز میں طبلہ بجاتے ہیں جبکہ ان کے پاکستانی پڑوسی عبدالواحد ملک مہدی حسن کی غزل’ دل ویران ہے‘ گنگناتے ہیں، ایرک گانے کے بول سمجھتے ہیں، اور آہستہ سے انہیں گنگناتے بھی ہیں، مگر وہ ماہرانہ انداز میں ساز بجاتے ہیں۔

ایرک کے اسٹوڈیو میں مہدی حسن کی تصویر آویزاں ہے— فوٹو: حسین افضال
ایرک کے اسٹوڈیو میں مہدی حسن کی تصویر آویزاں ہے— فوٹو: حسین افضال

ساز سنگیت کی شروعات کیسے ہوئی؟

1990 میں جب بہت سارے پاکستانی امریکا ہجرت کر رہے تھے، انہوں نے اس صورتحال کو اپنے دادا کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال سے مختلف نہیں سمجھا، کیونکہ ان کے داد ا بھی مشرقی یورپ سے امریکا آئے تھے، ان کو اپنے خاندان کو پیچھے چھوڑنا پڑا۔

—فوٹو: حسین افضال
—فوٹو: حسین افضال

موسیقی سے ہٹ کر ایرک الابیسٹر ان حالات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک اہم پہلو تھا جس کی وجہ سے ان کا تجسس ان میں بڑھا، کیوں کہ بروکلین میں کئی پاکستانی مرد تنہا آباد ہوئے اور وہ موسیقی سے متعلق بھی جانتے تھے، جب کہ ان کے اور ایرک کے جذبات بھی ملتے جلتے تھے۔

ایرک الابیسٹر کے مطابق یہ احساسات ایک جیسے تھے جو یہ یہاں ہجرت کرنے والوں میں مشترکہ طور پر پائے تھے، ان مردوں نے گزرتے وقت کے ساتھ اپنی بیویوں کو بھی یہاں بلا لیا جبکہ متعدد نے شادیاں کرلیں۔

ایرک ڈرم بجانے سے پہلے ہی واقف تھے تاہم انہوں نے بتایا کہ ان ہی مردوں میں ایک پنجاب کے علاقے پنڈی گھیب کے طبلہ نواز استاد ملازم حسین بھی تھے، جن سے بعد میں انہوں طبلہ بجانا سیکھا، اور اب وہ طبلے کو بڑی مہارت سے بجاتے ہیں۔

ایرک الابیسٹر نے استاد ملازم حسین سے ملاقات کے بعد پہلا سوال یہی کیا تھا کہ ’آپ مجھے بھی ڈرم بہتر بجانا سکھائیں گے؟‘

ایرک نے بتایا استاد ملازم حسین مجھے سکھانے کے لیے تیار ہوگئے۔

اس وقت ایرک الابیسٹر کی عمر 42 سال تھی، وہ سمجھتے تھے کہ 3 سال کا بچہ بھی ڈرم بجا سکتا ہے لیکن طبلہ بجانے میں محنت درکار ہوتی ہے۔

امریکی موسیقار نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے استاد کو کہا کہ طبلہ بجانا کوئی آسان کام نہیں، اور میں اسے سیکھنا بھی چاہتا ہوں، مگر میری عمر اب کافی زیادہ ہو چکی ہے۔

ایرک نے بتایا کہ وہ خوف زدہ تھے، اور وہ سیکھنے کے دوران اکثر طبلہ چھوڑ دیتے تھے، لیکن ایک اچھا استاد ہمیشہ اپنے شاگرد کا خوف ختم کرنے کے لیے ان کی مدد کرتا ہے۔

بعد ازاں ایرک نے استاد ملازم حسین سے نہ صرف طبلہ بجانا سیکھا، بلکہ انہوں نے جنوبی ایشیا کی ثقافت میں بھی دلچسپی لینا شروع کردی، اور 2003 میں اپنے استاد ملازم حسین کے مرنے کے بعد وہ ہرہفتے جنوبی ایشیا کے موسیقاروں سے اپنے ہی بنائے ہوئے اسٹوڈیو میں ملتے رہے، جس کو انہوں نے ’ایرک کی بیٹھک‘ کا نام دیا ۔

ایرک کی بیٹھک

اصل میں ایرک کی بیٹھک کیا ہے؟

ایرک خود ہی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ یہ دراصل ایک ایسی جگہ ہے، جہاں لوگ بیٹھ کر سماج سے متعلق باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ موسیقی کا تبادلہ کرتے ہیں، اور ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، یہاں پر لوگ ہر جمعے کو اکھٹے ہوتے ہیں۔

یوں سمجھ لیجیے کہ ایرک نے فنکاروں کی ایک چھوٹی کمیونٹی کو اکھٹا کیا، وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے جنوبی ایشیائی لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔

ایرک الابیسٹر نے خود سے ہی اردو پڑھنا شروع کی، وہ مانتے ہیں کہ ان کے سیکھنے کا عمل کافی سست ہے، مگر وہ اردو سیکھنا چاہتے ہیں،ایرک نے بتایا کہ وہ اردو کو اچھے طریقے سے سمجھ لیتے ہیں۔

وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اردو اور پنجابی میں کافی فرق ہے، اس حوالے سے وہ ابتداء میں پنجابی اور اردو میں فرق بھی نہیں کرپاتے تھے ، بہرحال ایرک غلطیوں کے ساتھ اردو بولنے کی کوشش کے دوران اپنی زبان میں مسلسل بہتری لا رہے ہیں۔

ہمارے اسرار پر انہوں نے ایک دو جملے اردو کے بولتے ہوئے کہا’ پاکستان ایک بہت امیر ملک میوزک کے بارے میں، پیسے کے بارے میں نہیں، لیکن میوزک کے بارے میں بہت امیر ملک ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ موسیقاروں کے ساتھ روابط بڑھنے کی وجہ سے ان کی شخصیات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ایرک نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے موسیقار موسیقی شروع کرنے سے قبل پہلے پوچھتے ہیں ’اجازت ہے‘ اور اس کے بعد ہی وہ ساز بجانا شروع کرتے ہیں۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا، مگر دیسی اور پاکستانی کمیونٹی کے ایسے طرز عمل نے انہیں تبدیل کردیا، جس سے وہ دوسروں اور خود سے بڑے لوگوں کی زیادہ عزت کرنے لگے ہیں۔

ایرک کی جانب سے اس عزت کا عکس اس وقت نمایاں نظر آیا، جب وہ پاکستان کے ان موسیقاروں اور گلوکاروں سے متعلق گفتگو کرنے لگے، جن سے وہ متاثر ہیں، خصوصی طور پر میڈم نورجہاں کے بارے میں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ انہیں سنتے ہیں تو ان کی کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے مچھلی کانٹے میں پھنس جائے۔

وہ اپنے استاد، دوست اور محسن استاد ملازم حسین کے حوالے سے کہتے ہیں، انہوں نے زندگی کے کئی سال امریکا میں گزارے، اور شاید استاد ملازم حسین نے ایرک کے ہاں ہی اچھا خاص وقت گزارا۔

ایرک کہتے ہیں کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی خاندانی زندگی بہتر کرنے میں مدد کی، استاد ملازم حسین نے ایرک کو ایک بیٹی کے اچھے والد ہونے میں مدد فراہم کی، وہ ان کی بیٹی کے لیے ایک چچا اور بیوی کے لیے دیور کی طرح رہے۔

ایرک 4 بار پاکستان آ چکے ہیں — فوٹو: بشکریہ شاہد خان
ایرک 4 بار پاکستان آ چکے ہیں — فوٹو: بشکریہ شاہد خان

پاکستان : دوسرا گھر

ایرک الابیسٹر بتاتے ہیں کہ بدقسمتی سے استاد ملازم حسین پاکستان میں موجود اپنے اہل خانہ کو بہت کم وقت دے پائے، ان کا بیٹا ان سے کبھی نہیں ملا، اور ان کی بیٹی اپنے والد سے متعلق کچھ نہیں جانتی، کیوں کہ جب وہ بہت ہی چھوٹی تھیں تب استاد ملازم حسین چل بسے تھے۔

ایرک نے ڈان کو بتایا کہ استاد ملازم حسین اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطے میں رہتے تھے، اور کبھی کبھار ایرک بھی ان کے اہل خانہ سے بات کرتے تھے،اور ملازم حسین کے فوت ہونے کے بعد ایرک ان کے خاندان سے ملنے کے لیے پاکستان آتے رہے، اب تک وہ پاکستان کے 4 دورے کر چکے ہیں۔

ایرک طبلہ بجاتے ہیں جبکہ ان کے پڑوسی عبدالماک واحد ہارمونیم پر سر بکھیرتے ہیں — فوٹو: حسین افضال
ایرک طبلہ بجاتے ہیں جبکہ ان کے پڑوسی عبدالماک واحد ہارمونیم پر سر بکھیرتے ہیں — فوٹو: حسین افضال

ایرک نے گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلی بار 2006 میں پاکستان آئے اور ایک رکشہ کے ذریعے استاد ملازم حسین کے گھر پہنچے، جہاں ان سے متعلق سب کو پتہ تھا، وہ وہاں پہنچے اور رونا شروع کردیا۔

ایرک کا کہنا تھا کہ رکشہ ڈرائیور کو بھی پتہ تھا کہ میرا طبلہ نواز استاد ملازم حسین سے گہرا تعلق تھا۔

ایرک الابیسٹر نے بعد ازاں بھی پاکستانی دورے جاری رکھے، ایک بار وہ اپنی بیٹی کے ساتھ استاد ملازم حسین کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے آئے، ایرک کی بیٹی بھی موسیقار ہیں۔

ایرک کہتے ہیں کہ ’استاد ملازم حسین کے گاؤں میں ان کا دوسرا گھر ہے‘۔

وہ اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان میں طویل عرصے تک رہنا چاہتے ہیں، مگر انہیں طویل المدتی ویزا نہیں مل رہا، انہوں نے بتایا کہ وہ کم سے کم پاکستان میں ایک وقت میں ایک ماہ تک رہنے کے لیے ویزا حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

دوسری جانب ایرک الابیسٹرامریکا میں موجود ’ایرک کی بیٹھک‘ میں پاکستان سمیت خطے سے آئے ہوئے تمام موسیقاروں اور گلوکاروں کو خوش آمدید کہتے ہیں، جس میں وہ وہاں آنے والے لوگوں کے ساتھ اپنے دوسرے گھر پاکستان سے متعلق باتیں کرتے ہیں۔


ترجمہ : ساگر سہندڑو (یہ مضمون انگریزی میں پڑھیں)