اقوام متحدہ نے فوجی عدالتوں کی بحالی پر سوالات اٹھا دیے

شائع April 19, 2017

لاہور: اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کمیٹی (کیٹ) نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی دوبارہ بحالی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں، اس کے علاوہ جن معاملات پر سوال اٹھائے گئے ان میں 'مستقل جبری گمشدگیاں' اور 'حراست کے دوران قیدیوں پر تشدد' شامل ہے۔

یہ سوالات اقوام متحدہ کی کمیٹی نے پاکستان میں انسانیت سوز، توہین آمیز سلوک یا سزا اور تشدد کے خلاف کنونشن سے متعلق جینوا میں ہونے والے اپنے نوعیت کے پہلے اجلاس میں اٹھائے، پاکستانی وفد نے لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے اس پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔

پاکستانی وفد کی سربراہی انسانی حقوق کے وزیر سینیٹر کامران مائیکل کررہے تھے، ان کے ساتھ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے انسانی حقوق بیرسٹر ظفراللہ خان اور وزارت خارجہ کی جانب سے صائمہ سلیم موجود تھیں۔

کامران مائیکل نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 9، 10 اور 14 تشدد کے استعمال سے روکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ریاست یہ تسلیم کرتی ہے کہ تشدت پرانا طریقہ کار ہے جو انسانی وقار کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن کی شرائط کی بالادستی کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے وعدوں پر قائم ہے'۔

کمیٹی نے کیٹ کے الیسیوبرنی کے ایک نیوز آرٹیکل کے حوالے سے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کا دعویٰ پیش کیا کہ پاکستانی جیلوں میں بیشتر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ حراست کے دوران جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

پاکستان کیلئے کیٹ کی نمائندہ گرایر نے پاکستانی وفد سے پوچھا کہ اس قسم کے کیسز کے ازالے کیلئے خود مختار طریقہ کار کیا ہے؟

انھوں نے تشدد کے کیسز میں قیدیوں کے قانون کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کو تحریر کیے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اس کا شکایت نمبر کیا ہے؟ کیا یہ اعداد و شمار حمایت کرتے ہیں؟

گرایر اور اے بلمیر نے شہریوں کے ٹرائل کیلئے فوجی عدالتوں کے اختیارات کے مسئلے کو بھی اٹھایا، انھوں نے پوچھا کہ یہ ٹرائلز خفیہ کیوں ہورہے ہیں اور نگرانوں کو ان کی جانچ کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی؟

انھوں نے نشاندہی کی کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیے جانے والے مقدمات کا تحریری فیصلہ نہیں آتا۔

گرایر نے پوچھا کہ کیا حکومت انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ پولیس کی جانب سے دباؤ کے تحت حاصل کردہ اعترافی بیان سے متعلق اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور پوچھا کہ ریاست نے ایسے نجی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟

اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام پر تحفظات کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ کے ساروپ اعجاز نے نشاندہی کی کہ حکومت نے اپنے دعوے پورے نہیں کیے کہ وہ سول عدالتی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کرائے گی۔

بین الاقوامی کمیشن برائے ججز کی ریما عمر نے نشاندہی کی کہ گذشتہ سال ریاست کی جانب سے کیٹ کو فراہم کی جانے والی رپورٹ میں ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں ہے جس میں تشدد کے مقدمے میں کسی ریاستی افسر کو سزا دی گئی ہو۔

انھوں نے بارہا پاکستانی وفد سے شکایتوں کی تعداد، پروسیکیشن کی تعداد اور مجرموں کی تعداد کے بارے میں دریافت کیا، جس میں انٹیلی جنس اور فوجی افسران بھی شامل ہیں'۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی سائرہ بلال کا کہنا تھا کہ کیٹ نے کچھ مشکل سوالات اٹھائے ہیں جن کے جواب نظام میں اصلاحات کی صورت میں ہی ممکن ہیں، جہاں بہت لمبے وقت تک تشدد کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے 2010 میں تشدد کے خلاف کنونشن کی توثیق کی تھی اور اس معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ گذشتہ سال اقوام متحدہ کی کمیٹی کو پیش کی تھی۔

پروگرام کے پہلے سیشن میں کیٹ نے مذکورہ رپورٹ کی وضاحت کیلئے متعدد سوالات پوچھے، تاہم ریاستی وفد ان سوالات کا جواب بدھ (19 اپریل) کو اس حوالے سے ہونے والے دوسرے سیشن میں دے گا۔

یہ رپورٹ 19 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 6 فروری 2026
کارٹون : 5 فروری 2026