آج بھی ماضی کی کچھ ایسی یادیں یوں ذہن میں بسی ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتیں۔

سال 1955 کی بات ہے، میں کافی چھوٹا تھا اور اپنی والدہ کے ہمراہ ان کے پاسپورٹ پر اپنے بیمار نانا سے ملنے بمبئی گیا تھا۔

جبکہ اپنے ماموں کی شادی میں شرکت کرنے اگلے سال پھر وہاں گیا۔

مگر جب 1964 میں وہاں گیا تب تو کافی کچھ بدل چکا تھا۔

میں ایک 22 سالہ ایم اے کا طالب علم تھا اور اس وقت میرے پاس اپنا پاسپورٹ بھی تھا۔

ان دنوں، پاکستانیوں کو دو اقسام کے پاسپورٹس جاری کیے جاتے تھے، پہلا وہ جو خصوصاً بھارت جانے کے لیے جاری ہوتا اور دوسرا بین الاقوامی پاسپورٹ تھا جو دیگر ممالک جانے کے لیے جاری کیا جاتا۔

بین الاقوامی پاسپورٹ کا حصول آسان نہیں تھا۔ جب بالآخر آپ کو وہ پاسپورٹ مل جاتا تو اس میں مختلف ممالک کی ایک پوری فہرست درج ہوتی، اور اس پاسپورٹ کے ساتھ آپ جن ممالک جا سکتے تھے ان پر دستی ٹھپے لگے ہوتے تھے۔

میں نے بمبئی کے پچھلے دو سفر ایس ایس سبرمتی نامی ایک بحری بیڑے میں کیے تھے۔

1964 کے سفر میں جب میں تنہا سفر کر رہا تھا تو فیصلہ کیا کہ اس بار کچھ الگ کیا جائے۔

اس بار میں نے لاہور سے امرتسر ٹرین کا انتخاب کیا، جسے بعد میں سمجھوتہ ایکسپریس کا نام دیا گیا تھا۔

میں اس طویل سفر اور اس میں موجود نئے ایڈوینچرز کو سوچ کر کافی پر جوش تھا۔

میں نے کراچی سے لاہور کی ٹرین پکڑی جہاں سے میں امرتسر کے لیے روانہ ہوا۔ امرتسر سے میں لکھنؤ جانے والی ہوراہ میل میں سوار ہوا، جہاں سے الہ آباد جانے والی ایک دوسری ٹرین پر سوار ہوا۔ بالآخر پھر وہاں سے بمبئی جانے والی ایک ایکسپریس ٹرین میں سوار ہوا۔

ان دنوں، آپ لاہور سے بھارت کی کسی بھی جگہ کی ٹرین کا ریٹرن ٹکٹ خرید سکتے تھے۔ اسی طرح پاکستان کی کسی بھی جگہ کی ٹرین کا ریٹرن ٹکٹ امرتسر اسٹیشن پر دستیاب ہوتا تھا۔

مگر میں نے ون وے ٹرین ٹکٹ خریدا تھا کیونکہ میں بمبئی سے واپس کراچی اسی پرانی اور خوبصورت سبرمتی میں بحری راستے سے لوٹنا چاہتا تھا۔

ماضی میں ویزا ملنا کافی آسان تھا؛ جو بھی ویزا درخواست دیتا تو اسے باآسانی ویزا جاری کر دیا جاتا۔

البتہ، 1955 میں ویزا کی فیس کافی زیادہ تھی۔ اس کے لیے 15 روپے کی ادائیگی کرنی ہوتی تھی، اتنا پیسہ کراچی اور بمبئی کے درمیان بحری جہاز کے ایک طرفہ سفر کے تہائی حصے کے برابر تھا۔

دونوں ملکوں کے مسافر 1964 میں اب 100 روپے ادا کر رہے تھے، جو کہ شاید ان دو ریاستوں کے درمیان تعلقات میں 'جیسے کو تیسا' کے حساب کی واحد مثبت چیز تھی۔

ان دنوں پاسپورٹس ہاتھوں سے تحریر شدہ ہوتے تھے۔

میرے 1964 کے پاسپورٹ میں ایک غلطی تھی۔

ایک کلرک، جس کی تحریر کافی خوش خط بھی تھی،اس نے نمدے کے سرے والے قلم سے تمام اندراج نہایت ہی صفائی سے پُر کیے تھے، مگر میرے خاندانی نام، نورانی کے آخر میں انگریزی حرف ’آئی‘ لکھنا بھول گیا تھا۔

میں نے اس پر احتجاج کیا مگر کاؤنٹر پر موجود آدمی نے بتایا کہ کسی بھی قسم کی ترامیم صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہیں اگر میں 10 روپے اضافی ادا کروں۔

مگر اس سے بھی بدتر بات یہ تھی کہ اس تمام مرحلے میں دو دن لگنے تھے کیونکہ اس کام سے متعلق شخص کے پاس پہلے سے ہی کام کا کافی بوجھ تھا۔

مگر وہاں موجود کچھ ایسے بھی ایجنٹس تھے جو درخواست گزاروں اور پاسپورٹ کے دفتری اسٹاف کے درمیان ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کررہے تھے، ان میں سے ایک نے مجھے بحث کرتے سنا۔

اس نے مجھے بتایا کہ درستگی 2 روپے کے عوض ہو سکتی ہے۔

میں جلد ہی اس پر راضی ہو گیا، چونکہ یہ رقم پہلے بتائی گئی رقم سے بہت کم تھی۔

میرا پاسپورٹ اسی کلرک کے پاس لے جایا گیا جو قلم کی مدد سے حروف کا اندراج کرتا تھا۔ یہ بندوبست ہم تینوں کے لیے مناسب ثابت ہوا۔

کراچی سے لاہور کے سفر میں کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہوئی، وہ سفر بھارت میں ہونے والے ٹرین سفر سے بالکل بر عکس تھا۔

امیگریشن اور کسٹمز کے مراحل سے گزرنے کے بعد میں امرتسر جانے والی ٹرین پر سوار ہوا۔

ٹرین ابھی چلنا شروع ہی کرتی کہ ایک خاتون اپنے والد کے ہمراہ میرے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئیں، ان کے والد لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو اتر پردیش میں واقع شاہ جہان پور اپنی سخت بیمار بہن کو دیکھنے جانا تھا۔

پریشان حال نوجوان خاتون کسی ایسے شخص کو تلاش کر رہی تھیں، جو ان کے والد کا خیال رکھ سکے، کیونکہ ان کے والد کی ہمراہی کرنے والے شخص نے آخری منٹ پر اپنا پروگرام تبدیل کر دیا تھا۔

چونکہ میری بھی منزل وہی تھی اس لیے میں ان کی ہمراہی کرنے پر راضی ہو گیا۔

بھارت جانے والی ٹرین نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا۔

ٹرین واہگہ پلیٹ فارم پر تھوڑی دیر کے لیے رُکی، جہاں پاکستان ریلوے پولیس اہلکار ٹرین سے اتر گئے۔

سرحدوں پر نہ خاردار تاریں تھیں اور نہ کسی ملک کی ریلوے لائن پر دروازہ موجود تھا۔

میں سرحد کے اوپر اڑتے پرندوں کو دیکھ پا رہا تھا۔ وہاں ایک آوارہ کتا بھی تھا جو پاکستان سے بھارت جا رہا تھا۔

سرحد کے درمیان ایک چوتھائی میل کے فاصلے پر دونوں جانب نصب تختیاں سرحدوں کی نشاندہی کر رہی تھیں۔

ٹرین میں سوار مسافروں کو جب کھیتوں میں سکھ کسان کام کرتے ہوئے دکھائی دینا شروع ہوئے، تو ہی انہیں احساس ہوا کہ وہ پڑوسی ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد ٹرین اٹاری پر رُکی جو کہ پاکستان سے آنے پر بھارت کا سب سے پہلا اسٹیشن ہے۔

اٹاری پر بھارتی ریلوے پولیس اہلکار ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ان کی وردیاں نمایاں طور پر ان اہلکاروں کو پہنی وردیوں جیسی ہی تھیں جنہیں ہم چند منٹوں پہلے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔

جبکہ اسٹیشن پر موجود قلیوں کی وردیاں بھی کچھ الگ نہ تھیں اور نہ ہی اس چائے کے اسٹال والے کی آواز اور انداز مختلف تھا۔

وہ بھی اسی طرح زور زور سے ’چائے گرم‘ کی صدائیں لگاتے۔ ہاں البتہ یہ فرق تھا کہ وہ چائے کو ڈسپوزایبل پکی مٹی کی پیالیوں میں پیش کر رہے تھے۔

جیسے ہی ٹرین رکی، میں نے لوگوں کو امیگریشن کاؤنٹرز کی جانب دوڑتے دیکھا۔ میں ایسا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میرے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص تھا۔

میں آہستہ آہستہ چلنے پر مجبور تھا۔ ان دنوں میں میں سینئر سٹیزنز یا بزرگان کو حاصل مراعات کا تصور موجود نہیں تھا۔

ٹرین میں بڑی تعداد میں مسافر سوار تھے جن کے لیے وہاں موجود صرف تین کاؤنٹرز کافی نہیں تھے۔ میں صرف ایک ہی رعایت حاصل کر سکا وہ یہ تھی کہ انہوں نے اس عمر رسیدہ شخص کو بینچ پر بیٹھنے کی اجازت دی، جبکہ میں اپنے ہاتھوں میں دو پاسپورٹ تھامے لائن میں کھڑا ہو گیا۔

مگر ہمارے پاسپورٹ پر انٹری ویزا کا اسٹیمپ لگنے میں اتنا وقت لگ گیا تھا کہ ہوراہ میل امرتسر اسٹیشن چھوڑ چکی تھی۔

مگر میرا پھر حوصلہ بحال ہوا کیونکہ لاہور سے جو ہم نے ٹکٹ خریدا تھا اس کی مدد سے ہم کسی بھی ٹرین میں سفر کر سکتے تھے۔

اس طرح تھوڑی تسکین ملی جو زیادہ دیر نہ ٹک پائی۔

کسٹمز ایک اور صبر آزما مرحلہ تھا۔ اس وجہ یہ تھی کہ ایک ہنس مکھ سکھ افسر نے میرے سوٹ کیس میں سے تمام سامال نکال دیا تھا اور میرے پاس موجود ٹی ایس الیوٹ کی لکھی ایک کتاب، مرڈر ان دی کیتھڈرل کے بارے میں پوچھنے لگا، اس چکر میں سیلدھا ایکسپریس بھی چھوٹ گئی۔

میں پریشانی کے عالم میں تھا مگر ہمارے قلی نے ہمدردانہ طور پر مجھے بتایا کہ یہاں سے کالکا میل ہمیں امبالا لے جائے گی، جہاں سے ہم ایک دوسری ایکسپریس ٹرین پکڑ سکتے ہیں۔

کالکا میل تاخیر سے نکلی اور لدھیانہ پر خلاف دستور طویل اسٹاپ کیا۔ یہ نام میرے لیے مکمل طور پر انجان نہیں تھا اس کی وجہ تھی کہ یہ شہر میرے پسندیدہ اردو شاعروں میں سے ایک ساحر لدھیانوی کا آبائی شہر تھا۔

ہمارے امبالا پہنچنے تک ہم سے ہماری ٹرین ایک بار پھر چھوٹ گئی تھی۔

مگر یہاں ایک نئی بات ہوئی، جو اس بار ہمارے حق میں تھی۔ امبالا اسٹیشن پر موجود ایک قلی نے مجھے بتایا کہ جو ہوراہ میل امرتسر سے ہمارے بغیر چلی گئی تھی وہ انجن فیل ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ وہ ٹرین 10 منٹوں میں امبالا پہنچنے والی ہے۔

جب ٹرین پہنچی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، پوری ٹرین مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ ایسا کوئی راستہ بھی خالی نہیں تھا جہاں سے میں عمر رسیدہ شخص اور ہمارے سامان کے ساتھ ٹرین پر سوار ہو پاتا۔

مگر قلیوں کو ہر شارٹ کٹ معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا قلی ہمیں اٹینڈنٹ کمپارٹمنٹ میں لے گیا، جو کہ انگریز دور کی ایک وراثت تھی، کیوں اس دور میں ملازمین کے لیے ایک الگ ڈبہ مختص ہوتا تھا جبکہ ان کے صاحب اور میم صاحب درجہ اول میں سفر کرتے تھے۔

اس ڈبے میں ہمارے ساتھ تین پولیس اہلکاروں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔

قلی نے ہم سے ڈیل کی۔ ہم نے اسے ہم دو افراد کے 10 روپے ادا کیے اور معمر شخص کو برتھ دی گئی، جبکہ میں اس کے سامنے والی برتھ پر لیٹ گیا۔ اس طرح میرا ہمسفر زیادہ محفوظ اور آرام محسوس کر رہا تھا۔

ابھی گارڈ نے سیٹی بجائی اور ہری جھنڈی دکھائی ہی تھی کہ اتنے میں تین کالج کے طالب علم ڈبے میں داخل ہو گئے جس پر پولیس اہلکار کافی برہم دکھائی دیے۔

ان میں سے ایک نے اپنا تعارف ریلوے پولیس کے ڈپٹی سپرنڈنٹ کے بیٹے کے طور پر کروایا۔

مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ وہ لڑکا پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا تھا۔ اس کی چال کام کر گئی اور پولیس اہلکار چپ چاپ ایک جگہ بیٹھ گئے۔

میں اپنی قومیت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اچانک عمر رسیدہ شخص نے مجھ سے پوچھ لیا کہ ’’ہم لاہور سے کس وقت نکلے تھے؟‘‘

ان میں سے ایک لڑکے نے اپنے لہجے میں تھوڑی تلخی لا کر مجھ سے کہا، ’’اوہ، تو آپ پاکستان سے آئے ہیں!‘‘

اس نے قیاساً کہا، ’’آپ نے تو ضرور پنڈت جی کی موت پر جشن منایا ہوگا؟‘‘

اسی سال ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایک یا دو ماہ قبل وفات پا چکے تھے۔

گو کہ میں اندر سے گھبرایا ہوا تھا مگر میں نے قلی کو دیکھ کر جواب دیا کہ،’’جی نہیں، ہم کسی کی موت پر جشن نہیں مناتے ہیں، حتٰی کہ اپنے دشمنوں کی موت پر بھی نہیں۔ جہاں تک پنڈت جی کی بات ہے، ہم ان میں موجود کئی خاصیتوں کی وجہ سے ان سے کافی متاثر ہیں۔ میں نے بڑے شوق سے ان کی ساری کتابیں پڑھی ہیں۔‘‘

ہمیں پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بھی باآسانی چلتی ٹرین سے پھینکا جاسکتا تھا۔

وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ، ’’پنڈت جی نے کون سی کتابیں لکھی ہیں؟‘‘ پاکستان کے طلبا کی طرح ہی وہ بھی کتابوں کے بارے میں زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔

جب میں نے انہیں ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ اور ’گلمپسز آف ورلڈ ہسٹری‘ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا تب وہ مجھے حیران ہو کر دیکھنے لگے۔

میں اس وقت خود کو کافی مطمئن محسوس کرنے لگا۔

جلد ہی ان میں سے ایک لڑکے نے مجھے یاد دلایا، ’’آپ نے چاچا جی کے سوال کا جواب نہیں دیا ہے‘‘۔ میں نے اس عمر رسیدہ شخص کو بتایا کہ ہم دن کے 12 بجے لاہور سے نکلے تھے۔

اس کے بعد تو جیسے میرے اوپر پاکستان کے بارے میں سوالات کا بند ہی ٹوٹ گیا ہو، جو کہ بڑے ہی سادہ اور تجسس سے بھرے تھے۔

ان کی تلخی تو جیسے پگل چکی تھی بعدازاں انہوں نے خوش لہجے میں تمام گفتگو کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے جو عشائیے کا آرڈر دیا تھا اس میں مجھے بھی شریک کیا۔

عمر رسیدہ شخص کو باتھ روم استعمال کرنا تھا مگر اس سے پہلے کہ میں ان کی مدد کرتا ہمارے نئے دوست ان کی مدد کرنے دوڑے آئے۔

اگلی صبح شاہ جہاں اسٹیشن پر انہوں نے معمر شخص کو ٹرین سے اترنے میں مدد کی اور ساتھ ہی ان کا سامان اٹھانے کے لیے ایک قلی کا بھی بندوبست کیا۔

ان کا داماد انہیں لینے وہاں آیا ہوا تھا اور جس نے انہیں یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ان کی علیل بیٹی کی حالت اب کافی بہتر ہے۔

انہوں نے بڑے تپاک سے مجھے گلے سے لگایا اور دیگر افراد سے ہاتھ ملایا۔ ہم دوبارہ ٹرین پر سوار ہو گئے اور ٹرین نے ایک بار پھر چلنا شروع کردیا۔

مجھے تھوڑا بہت معلوم ہوا کہ ایک اور مسئلہ میرا منتظر تھا۔

وہاں موجود ریلوے پولیس اہلکاروں کی جگہ دوسرے پولیس اہلکار آ گئے تھے۔

وہاں سے جانے والے پولیس اہلکاروں نے نئے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ مجھ سے اس ڈبے میں سفر کرنے کے پیسے مانگ سکتے ہیں۔

میں نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور اس معاملے کو نمٹنے میں زیادہ مشکلات بھی درپیش نہیں آئیں کیوں کہ میرے دوست بھی دفاع کرنے میدان میں آ گئے۔

ان میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ، ’’یہ پاکستان سے مہمان بن کر آئے ہیں اور مہمانوں سے اس طرح پیش نہیں آتے۔ آپ کو خود پر شرمندہ ہونا چاہیے،‘‘ اس نوجوان نے ایک بار بتایا کہ اس کا والد ریلوے پولیس میں ایک اعلٰی عہدے پر فائز ہے۔

اہلکاروں کو سخت لہجے میں کہا، ’’وہ مجھے لینے آئیں گے اور پھر تم کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ ایک بار پھر چال نے کام دکھایا اور پُرامن بقائے باہم، ایک ایسی وصف جس کا استعمال سرد جنگ کے دنوں میں اکثر ہوتا تھا، کی راہ ہموار ہوئی۔

ان اہلکاروں کو یہ جاننے میں کافی دلچسپی تھی کہ پاکستان میں موجود ان کے ہم منصب اہلکاروں کی تنخواہیں کتنی ہیں مگر جب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے ان کی تنخواہوں اور مراعاتوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں، تو یہ سن کر مایوس ہوئے۔

میں نے بتایا کہ، ’’ ہاں، میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ ان کی وردیاں آپ کی وردیوں جیسی ہیں۔‘‘ انہیں یہ بات کچھ خاص دلچسپ نہ لگی۔

ان میں سے ایک نوجوان لڑکے نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ وہ ہمارے پولیس والوں سے تو کم ہی کرپٹ ہوں گے؟‘‘

دراصل یہ اس کا سوال نہیں تھا بلکہ یوں اس کا مقصد صرف وردی میں ملبوس اہلکاروں کو تنگ کرنا تھا۔

جیسے ہی ہوراہ میل لکھنؤ کی چار باغ اسٹیشن پر پہنچی تو ان نوجوانوں نے بہت ہی گرم جوشی کے ساتھ مجھے الوداع کیا۔ انہوں نے پچھلے اسٹیشن سے میرے لیے ناشتہ خریدا مگر پولیس اہلکاروں کے لیے قطعی نہیں۔

حیران کن طور پر، پولیس اہلکار کا رویہ بھی دوستانہ ہو چکا تھا۔

انہوں نے مجھے ایک قلی کا بندوبست کر کے دیا اور اس کے بازو پر بندھی لوہے کی پٹی پر درج ریٹ سے زیادہ پیسے دینے سے خبردار کیا۔

لڑکوں نے میرا پوسٹل پتہ اپنے پاس لکھا اور مجھے خط لکھنے کا وعدے کیے۔

مگر ٹرین کے سفر کے دوران بننے والے دوستانہ رشتے قائم کہاں رہتے ہیں۔

کوئی خط نہ وہاں سے آیا نہ یہاں سے گیا۔

ہاں یادیں ہمیشہ قائم و دائم رہیں، کم از کم جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔