اسلام آباد: رواں مالی سال (17-2016) کے پہلے 9 ماہ کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کے معاشی خسارے میں 40 فیصد یا 3.88 ارب ڈالرز (تقریباً 407 ارب 21 کروڑ روپے) کی کمی دیکھنے میں آئی۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اقتصادی سروے رپورٹ 17-2016 میں اسے ملک کے قبائلی علاقوں سمیت دیگر حصوں میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے باعث سیکیورٹی کی صورتحال میں ہونے والی واضح بہتری سے منسوب کیا گیا۔

حالیہ سروے جس میں قومی معیشت کو ہونے والے خسارے کو ’افغانستان میں جاری جنگ اور دہشت گردی کے پاکستانی معیشت پر اثرات‘ کے تحت بیان کیا گیا، اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا کہ مالی سال 2012 سے معاشی خسارے میں کمی سامنے آئی ہے جبکہ 2011 میں یہ خسارے 23.77 ارب ڈالرز تک تجاوز کرچکے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال ابتر سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے معاشی خسارے 30 فیصد کم ہوسکے تھے اور یہ 6.49 ارب ڈالرز تک پہنچ پائے تھے۔

ستمبر 2001 میں امریکی سرزمین پر دہشت گرد حملوں کے بعد عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے نتیجے میں حکومت نے 123.13 ارب ڈالرز کے مجموعی خسارے کا تخمینہ لگایا تھا۔

سروے کے مطابق، معاشی خسارے میں ہونے والی کمی ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے حکومتی کوششوں کی افادیت کو واضح کرتی ہے۔

سروے میں کہا گیا کہ ’افغانستان میں جاری کشیدگی اور عدم استحکام، جو خطے کے امن اور ترقی کو متاثر کرنے کا سبب بنا ہے، کے باوجود گذشتہ چند سالوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال میں قابل قدر بہتری دیکھنے میں آئی ہے، یہ کامیابی نیشنل ایکشن پلان کے فریم ورک کے تحت انسداد دہشت گردی کی حکومتی کوششوں اور مسلح افواج کی جانب سے کیے گئے آپریشن ضرب عضب اور سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خفیہ آپریشنز کا نتیجہ ہے‘۔

سروے میں مزید کہا گیا کہ ’ضرب عضب کی کامیاب تکمیل کے بعد ملک بھر میں باقی رہ جانے والے خطرات کے خاتمے کے لیے آپریشن رد الفساد کا آغاز ہوا‘۔

واضح رہے کہ یہ خسارہ برآمدات میں کمی، دہشت گرد حملوں کا نشانہ بننے والے متاثرین کو ادا کیے جانے والے معاوضے، دہشت گردی کی وجہ سے بے گھر افراد کی بحالی، معاشی اور سماجی انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی، صنعتی پیداوار میں ہونے والی کمی اور ٹیکسز میں کمی وغیرہ پر صرف ہوتے رہے۔

پاکستان افغانستان میں جاری جنگ کو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

سروے میں مزید کہا گیا کہ ’ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں ہونے والے اچانک اضافے نے تمام اہم شعبوں میں مجموعی ترقی کو متاثر کیا‘۔

رپورٹ کے مطابق ’عمومی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے کاروباری اخراجات میں اضافے سمیت انشورنس کے اخراجات اور دنیا بھر میں جانے والے برآمداتی آرڈرز کی سپلائی تاخیر کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات اپنے حریفوں کے سامنے قدر کھو بیٹھیں اور گذشتہ دہائی کے دوران معاشی ترقی اُس رفتار سے نہ بڑھ سکی جیسی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘۔

سروے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اور متاثر انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے قیمتی قدرتی وسائل صرف ہوتے رہے‘۔


یہ خبر 26 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔