ٹرمپ کی ٹوئٹر پر غلطی مذاق بن گئی

اپ ڈیٹ 31 مئ 2017

ای میل

امریکی صدر دانستہ یا نادانستہ طور پر خبروں کا حصہ بنے رہتے ہیں—فوٹو: رائٹرز/ فائل
امریکی صدر دانستہ یا نادانستہ طور پر خبروں کا حصہ بنے رہتے ہیں—فوٹو: رائٹرز/ فائل

امریکا کے 45 ویں اور معمر ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متنازع بیانات، پیغامات اور احکامات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔

انہوں نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب سے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز کیا، جس کے بعد وہ اسرائیل، فلسطین اور ویٹی کن سمیت دیگر ممالک کے دوروں پر بھی گئے۔

امریکی صدر کے یہ دورے عالمی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر بےشمار تبصروں کا سبب بنے۔

تاہم 30 مئی کی رات کی گئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹوئیٹ انٹرنیٹ پر موضوع بحث بن چکی ہے۔

اس ٹوئیٹ میں ٹرمپ کہنا تو چاہتے تھے کہ 'میڈیا کی مسلسل منفی کوریج کے باوجود' تاہم وہ لفظ 'کوریج' کو جلد بازی یا غلطی میں 'Covfefe' لکھ بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا صحافیوں کے عشائیے میں شرکت سے انکار

ٹرمپ کی اس ٹوئیٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لفظ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا جبکہ مذکورہ ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ کرنے سے قبل 122 ہزار دفعہ ری ٹوئیٹ کیا جاچکا تھا۔

بعد ازاں ایک غلط لفظ کی مقبولیت پر ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک اور ٹوئیٹ کی گئی، جس میں کہا گیا کہ کون اس لفظ کے اصل معنی ڈھونڈ سکتا ہے؟

دنیا کے سپر پاور ملک کے صدر کی جانب سے اس ٹوئیٹ کو بھیجے جانے کی دیر تھی کہ ٹوئٹر کے دنیا بھر میں موجود صارفین اس کھوج میں لگ گئے کہ آخر ٹرمپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودیہ،اسرائیل اور ویٹی کن کے دورے کا اعلان

دنیا بھر کی زبانوں پر عبور رکھنے والے گوگل ٹرانسلیٹ نے اس لفظ کا تعلق سماؤن زبان سے بتایا۔

ایک پاکستانی ٹوئٹر صارف نے خیال ظاہر کیا کہ ٹرمپ شاید کافی سے متعلق بات کرنا چاہتے تھے۔

تو دوسرے نے ملکہ برطانیہ کی اس لفظ کے حوالے سے حیرت کو ٹوئیٹ کیا۔

غیر ملکی ٹوئٹر صارفین اس لفظ کو مختلف صورتحال میں لاگو کرتے دکھائی دیئے، کچھ کو تو اس بات کی فکر بھی لاحق ہوگئی کہ امریکی صدر کے متعارف کرائے گئے اس نئے لفظ کی ہجے کیا ہوں گے؟

خیال رہے کہ امریکی صدر اپنے ذخیرہ الفاظ کے حوالے سے 2015 میں ایک دعویٰ بھی کرچکے ہیں جو اس غلطی کے بعد دوبارہ انٹرنیٹ پر شیئر ہوتا دکھائی دیا۔

صدر منتخب ہونے سے قبل دیئے گئے اس بیان میں ٹرمپ کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ وہ بہترین الفاظ جانتے ہیں اور ان کا ذخیرہ الفاظ بہترین ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے تو یہ مشورہ بھی دیا کیا کہ ٹرمپ کے متعارف کرائے گئے لفظ کے نام پر نیا پوکیمون کریکٹر تیار کردیا جانا چاہیئے۔

اس ٹوئیٹ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے سالٹ بے سے بھی تقابل کیا گیا۔

دنیا بھر کے صارفین کی جانب سے اس لفظ پر تبصروں اور اظہار خیال پر ایک صارف کا لکھنا تھا کہ 'کون جانتا تھا کہ سات حرف پر مشتمل ایک لفظ دنیا بھر کو متحد کردے گا؟'۔

جبکہ ایک صارف کی جانب سے تو یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ 30 مئی کو قومی چھٹی اور یوم covfefe کا درجہ دے دیا جانا چاہیئے۔

دنیا کے معروف کمپنیاں بھی اس موقع پر خاموش نہ رہیں اور مشہور فاسٹ فوڈ چین کے ایف سی نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ 'وہ یقین نہیں کرسکتے کہ کھانے میں ذائقہ شامل کرنے والا خفیہ جز سامنے آگیا جس کا نام 'Covfefe' ہے۔

آسٹریلیا نیوز ویب نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اس حوالے سے خاصا دلچسپ تبصرہ کیا اور 'Make America great again' کے جملے میں بھی 'Covfefe' کا اضافہ کردیا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اس لفظ کو مسلسل استعمال کیے جانے کے بعد 'Covfefe' لفظ کا اندراج انگریزی کی عوامی زبان پر مشتمل لغت میں بھی ہوگیا۔

جہاں اس کے معنی بیان کرتے ہوئے ٹرمپ کے چھوٹے ہاتھوں کا تمسخر اڑایا گیا، اربن ڈکشنری کے مطابق یہ لفظ وہ ہے 'جب آپ کوریج لکھنا چاہتے ہوں مگر آپ کے ہاتھ اتنے چھوٹے ہوں کے کی بورڈ کے تمام کریکٹرز کو چھو نہ پائیں'۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات طویل عرصے سے متاثر ہیں، اس محاذ آرائی کا آغاز ٹرمپ کے اس بیان سے ہوا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’ میڈیا ان کے خلاف جھوٹی خبریں چلاتا ہے‘۔

امریکی صدر اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میڈیا کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، جبکہ 26 فروری کو وائٹ ہاؤس کی بریفنگ سے اہم امریکی نشریاتی اداروں کے نمائندوں کو شرکت سے روکنے کی صورت میں بھی اس کشیدگی کا کئی بار برملا اظہار سامنے آچکا ہے۔