انسداد دہشت گردی کارروائیوں کیلئے خواتین اہلکاروں کی بھرتی

04 جون 2017

ای میل

کراچی: سندھ پولیس نے 40 سے زائد خواتین کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں اور خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ریپڈ رسپانس فورس میں بھرتی کرلیا۔

پولیس حکام کے مطابق بڑے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے جنہیں مختلف ٹیسٹ، انٹرویوز اور میڈیکل ٹیسٹ کے بعد منتخب کیا گیا جو بعد ازاں پاکستان آرمی سے ٹریننگ حاصل کریں گی۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ ان خواتین کو 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعد باقاعدہ طور پر فورس میں بطور کانسٹیبل شامل کر لیا جائے گا۔

سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق پولیس میں بھرتی کے عمل کے دوران 1461 مرد اہلکاروں کے علاوہ 46 خواتین اہلکاروں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مردانہ معاشرے کی پراعتماد خاتون پولیس اہلکار

بھرتی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان اسامیوں کے بارے میں گذشتہ سال اکتوبر میں اشتہار دیا گیا تھا جس کے بعد کل 50 ہزار 5 سو 62 امیدواروں نے اپنے فارم جمع کروائے جن میں سے 30 ہزار 8 سو 21 افراد کو فزیکل ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف ٹیسٹ، انٹرویوز اور میڈیکل ٹیسٹ کے بعد 1 ہزار 5 سو 7 افراد کے ناموں کو حتمی شکل دی گئی جو اگلے 6 ماہ بعد فورس کا حصہ بنیں گے۔

حکام نے خواتین اہلکاروں کی بھرتیوں کو اس عمل کا سب سے مثبت پہلو قرار دیا اور بتایا کہ ان خواتین اہلکاروں کا تعلق میر پورخاص، قمبر اور شہداد کوٹ، نوشیرو فیروز، خیرپور، بدین، ٹنڈو الہ یار، گھوٹکی، سکھر، حیدرآباد اور کراچی سے ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیس فورس میں خواتین اہلکاروں کی شرح 2 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ قانون سازوں نے حالیہ برسوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی قوانین اپنائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی پہلی خاتون تھانے دار

نیشنل پولیس بیورو(این پی بی) کے مطابق ملک میں 3 لاکھ 91 ہزار 3 سو 64 پولیس اہلکاروں میں خواتین کی تعداد 5 ہزار 7 سے 31 ہے۔

این پی بی کے اعداد و شمار کے مطابق 3.4 فیصد کے ساتھ گلگت بلتستان میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں میں سب سے زیادہ ہے۔

ان معاملات سے منسلک ایک اہلکار نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ثقافت اور روایات کے علاوہ سرکاری اداروں میں حوصلہ افزائی کا فقدان ’کم ترین شرح کے ساتھ‘ خواتین اہلکاروں کی پولیس میں شمولیت کی وجہ ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ خواتین اہلکاروں کی تعداد کم از کم 10 فیصد تک ہونی چاہیے لہٰذا سندھ پولیس کی جانب سے کی جانے والی حالیہ بھرتیاں اپنے محکمہ کو پڑھی لکھی خواتین کے لیے ایک ترجیحی ملازمت کا انتخاب کرنے کے حوالے سے تازہ اقدام ہے۔

ایک اور خبر پڑھیں: آئی جی سندھ 'پولیس ایکٹ' میں تبدیلی کے خواہاں

ایڈشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ثنا اللہ عباسی نے کہا کہ ان 46 میں سے کچھ خواتین کو ریپڈ رسپانس فورس میں تعینات کیا جائے گا جبکہ زیادہ تر خواتین سی ٹی ڈی کا حصہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی میں اس طرح کا یہ پہلا دستہ ہے، جس میں خصوصی یونٹ کے لیے خواتین اہلکار کو بھرتی کیا گیا ہے اور یہ خواتین مرد اہلکاروں کی طرح تمام فرائض سرانجام دیں گی جبکہ ان خواتین کو پاک آرمی سے خفیہ کارروائیوں، مسلح کارروائیوں کے ساتھ ساتھ فزیکل ٹریننگ بھی دلوائی جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مضافاتی علاقوں میں خواتین اہلکاروں کی ضرورت ہے جہاں پولیس کے مرد اہلکاروں کو مخصوص رہن سہن کی وجہ سے آزادانہ طور پر کارروائیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث پولیس کی مجموعی صلاحیت متاثر ہوتی ہیں۔


یہ رپورٹ 4 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی