مقابلہ دائیں بازو کا دائیں بازو سے ہی ہے

اپ ڈیٹ اگست 11 2017

ای میل

پاکستان کی سیاست میں ایک دلچسپ اور قابلِ غور جملہ ستّر کی دہائی سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ "جمہوری عمل کا تسلسل رہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا" یعنی جمہوریت مضبوط ہو جائے گی، قانون کی بالادستی قائم ہو جائے گی، سماجی ومعاشی انصاف میسر ہو جائے گا اور اقتصادی ترقی ہو جائے گی۔

اس ایک جملے میں یہ بھی یقین کرلیا گیا ہے کہ جمہوری عمل کا تسلسل رہے تو جمہوری ادارے ہر صورت میں مضبوط ہو جائیں گے۔ اور یہ کہ آمرانہ ادوار جب اس تسلسل کو توڑ دیتے ہیں تو سارا کھیل ہی بکھر جاتا ہے۔

ستر، اسّی اور نوّے کی دہائی تک بائیں بازو کے لوگ یہ بات بڑھ چڑھ کر کہتے تھے جبکہ اُن کے مخالف دائیں بازو کے دانشور و صحافی آمرانہ ادوارا ور عسکری قیادت کی حکمرانی کو ملک، عوام اور اسلام کی سربلندی سے تعبیر کرتے تھے اور جمہوریت کو مغربی شیطانی نظام کہتے نہیں تھکتے تھے۔

ذرا غور کریں، جب سے پنجاب کی مرکنٹائل کلاس (تاجر طبقہ) کے بطن سے ایک شہری قیادت، نوازشریف، نے عسکری قیادت کی سرپرستی میں جنم لیا ہے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے اس لیڈر نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے پورے ملک کی حکمرانی تک رسائی حاصل ہوئی ہے، اب وہی دانشور اور صحافی حلقے جمہوری عمل کے تسلسل کے بڑے علمبردار اور پاسبان بن کر ابھرے ہیں۔

ستر اور اسّی کی دہائی تک مرکز میں انتخابی عمل کے ذریعے بائیں بازو کی سیاست کا رجحان رکھنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تھی، تب مغربی جمہوریت ایک شیطانی اور کفری نظام تھا لیکن اب انہی حلقوں کے لیے پاکستان کی بقا جمہوریت میں ہے۔ نوازشریف کے سیاسی ظہور سے دیگر تبدیلیوں کے علاوہ جو ایک اہم فیکٹر قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ پنجاب میں مذہبی سیاست کرنے والی طاقتیں، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر لوگوں کے ووٹرز اپنا ووٹ اب مسلم لیگ ن کو دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

ہمارے ہاں تقریباً ایک دہائی سے یہ تجزیہ کیا جارہا ہے کہ نوازشریف اب پہلے والے نوازشریف نہیں رہے۔ خصوصاً سپریم کورٹ سے ناہلی کے بعد ان کی شناخت بطور اسٹیبلشمنٹ مخالف کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے چند لبرل اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی شخصیات نوازشریف کی برطرفی کو پس منظر کی طاقتوں کا کیا دھرا قرار دے رہے ہیں اور اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پس منظر کی طاقتیں نوازشریف کو نا اہل قرار دے کر اقتدار سے بے دخل کر کے پاکستان میں اپنی حکمرانی برقرار رکھنا چاہتی ہیں جبکہ نوازشریف عوامی اور قانونی حکمرانی کی علامت بن گئے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نوازشریف اور اُن کی پارٹی نے پاکستان میں عوامی حکمرانی، جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟

اُن کی اقتدار سے بے دخلی و نااہلی کے بعد تو یہ ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوری ثقافت و سیاست کے بجائے خاندانی، موروثی اور شہنشاہی سیاست کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اُن کا خاندان، بھٹو خاندان کی موروثی سیاست سے بھی کہیں آگے نکل گیا ہے اور اس موروثیت کی تقویت کے لیے اُن کو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی اکائی پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط و قائم رکھنے سے غرض ہے کیوں کہ پنجاب ہی ہے جو کسی بھی سیاسی قیادت کو مرکز کے اقتدار کی باگیں فراہم کرنے کی فیصلہ کن طاقت دیتا ہے۔

عمران خان کا ظہور، میاں نوازشریف کی سیاست و اقتدار کے لیے چیلنج ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اور اُن کی پارٹی کی زیادہ تر اعلیٰ قیادت کا تعلق بھی پنجاب ہی سے ہے۔ حتیٰ کہ خیبر پختونخوا کی حکومت پنجاب سے چلائی جاتی ہے، پی ٹی آئی والے بھی نوازشریف کی طرح دائیں بازو کی سیاست کے علمبردار ہیں۔

اگر میاں نوازشریف، پنجاب کے پرانے متوسط طبقے کے نمائندے ہیں، جس کی قیادت پنجاب کا تاجر طبقہ کر رہا ہے، تو عمران خان پنجاب کے نئے متوسط طبقے کے نمائندے ہیں۔ پنجاب کا یہ نیا متوسط طبقہ درحقیقت کارپوریٹ متوسط طبقہ ہے جن کا سیاسی نکتہ بس ایک لفظ پر مشتمل ہے، بہتر طرز حکمرانی یا کرپشن مخالفت۔ اُن کے ہاں وہی سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری اثاثہ ہے جو مسلم لیگ ن کے ہاں ہے اور یوں دونوں ہی دائیں بازو کی سیاسی طاقتیں ہیں۔

چنانچہ حالیہ سیاست درحقیقت دائیں بازو بمقابلہ دائیں بازو ہی نظر آ رہی ہے۔ یعنی کہیں بھی دو نظریات یا سیاسی فکر کا تصادم موجود نہیں۔ جیسے نواز شریف کا اقتدار و سیاست میں موجود ہونا، جمہوریت کی تقویت کا باعث نہیں، اسی طرح دونوں جماعتوں کے سیاسی تصادم سے کہیں بھی فکری تصادم برپا نہیں۔

جیسے نوازشریف کی سیاست، پاکستان میں جمہوریت، جمہوری ادارے، عوامی سیاست اور عوامی حکمرانی مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک سراب ہے، اسی طرح عمران خان کی سیاست بھی سیاسی فکر، عوامی حکمرانی اور سماجی ترقی کے بجائے شخصیت پرستی اور سسٹم کو تھوڑا بہت ٹھیک کر کے بحال رکھنے پر مبنی ہے۔ وہ کسی بھی لحاظ سے 'اسٹیٹس کو' کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی وہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

اسٹیٹس کو اس وقت ٹوٹتے ہیں جب کسی سماج کا متوسط طبقہ بالائی طبقات سے اتحاد توڑ کر پِسے ہوئے طبقات سے اتحاد کرے۔ پاکستان اور خصوصاً پنجاب کا متوسط طبقہ کسی طرح بھی کسی بھی پلیٹ فارم سے نچلے طبقات سے سیاسی و سماجی اتحاد کرنے سے گریزاں ہے۔

1970 کے انتخابات حقیقت میں 67-1966 کی عوامی تحریک کا اظہار تھے، اُس عوامی تحریک کی قیادت پنجاب کے درمیانے طبقات اور طلباء نے کی تھی۔ اس تحریک نے آزادی سے قبل اُن ترقی پسند افکار کے بطن سے جنم لیا تھا، جس کی آبیاری آزادیءِ پاکستان سے پہلے اور بعد تک پنجاب میں موجود ترقی پسندوں نے کی تھی۔

تاریخ میں 67-1966 کی عوامی تحریک نے اپنا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر باندھ دیا۔ اس عوامی تحریک کا مرکز پنجاب تھا اور اسی لیے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی کی تشکیل بھی پنجاب میں ہی کی۔

1970 کے انتخابات اس فکر کی کامیابی تھی جس کے بیج گزشتہ چار دہائیوں میں پنجاب کے شہروں میں اس کے دانشوروں نے پھیلائے اور یوں پنجاب کے اس وقت کے متوسط طبقے نے پنجاب اور پاکستان کے پسے ہوئے طبقات سے اتحاد کر کے پاکستان میں عوامی جمہوری سیاست کا آغاز کیا۔

اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں جن نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی، وہ جاگیردارانہ عناصر سے پاک تھیں جبکہ پنجاب میں مکمل عوامی اور نچلے طبقات کی حمایت سے نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس وقت پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کر رہے تھے جو پچھلی دہائی کے آغاز سے پنجاب میں کسان تحریک کے سب سے نمایاں رہنما تھے۔ جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، حنیف رامے، خورشید حسن میر اور ان جیسے سینکڑوں دانشور اس عوامی تحریک کے فکری رہبر تھے۔

اہم سیاسی رہنما تو شیخ محمد رشید مرحوم تھے، جنہوں نے پنجاب بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو منظم کیا اور 1970 کے تمام انتخابی ٹکٹوں کے فیصلے بھی انہی کی قیادت میں ہوئے، سوائے سرگودھا میں انور علی نون کی قومی اسمبلی کی ٹکٹ کے۔

یوں پاکستان پیپلز پارٹی کو وہ تاریخ ساز صورتِ حال میسر ہوئی جس نے متوسط طبقے کا اتحاد بالائی طبقات کے بجائے نچلے طبقات سے کر کے عوامی، سیاسی اور انتخابی سطح پر لوگوں کو حیران کر دیا۔ حالیہ صورتِ حال میں نہ تو نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو ہیں اور نہ ہی عمران خان۔

ہمارے ہاں جو لوگ جمہوریت کے تسلسل کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، کہ اس سے جمہوری نظام مضبوط ہوگا، معاشی خوش حالی آئے گی، اور اس کے حوالے سے ہندوستان کی مثال دیتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان میں رائج جمہوریت نے پچھلے ستر سالوں میں ابھی تک متوسط طبقے سے نیچے سفر طے ہی نہیں کیا۔

ہندوستانی جمہوریت دراصل برطانوی راج کی وراثت ہے، وہاں کہنے کو تو جمہوریت قائم ہے لیکن حقیقی طور پر صرف اشرافیہ کو بخشنے والی حکمرانی رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہندوستان، دنیا کے انتہائی غربت زدہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں پر دنیا کا سب سے بڑا متوسط طبقہ موجود ہے جو وہاں کے حکمران طبقے سے اتحاد کر کے اس کولونیل جمہوریت کا پاسبان اور محافظ بنتا ہے اور اس کے پھل بھی حاصل کرتا ہے۔

اسی لیے ہندوستان میں مزاحمت کا ایک مسلسل عمل نکسل وادی تحریک کی شکل میں موجود ہے۔ ہندوستانی جمہوریت ہیئت و ترکیب میں ہر لحاظ سے اپنے سابق آقا کی اپنے ملک میں رائج جمہوریت سے مختلف ہے۔ برطانوی جمہوریت اور ہندوستانی جمہوریت کا کوئی تقابل ہی نہیں۔ ایک صحیح معنوں میں صنعتی اور سماجی جمہوریت ہے اور دوسری کولونیل جمہوریت جو 1935 کے ایکٹ کے بعد سے مسلسل چل رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر کے تینوں ممالک پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش اسی کولونیل ایکٹ پر چل رہے ہیں۔ نوازشریف کی نااہلی، نواز عمران تصادم، یا نواز اسٹیبلشمنٹ تصادم میں کہیں بھی عوام اور اُن کی سیاسی حکمرانی کا وجود نہیں اس لیے کہ ریاست کی بنیاد حقیقی جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں رکھی گئی۔

ہندوستانی جمہوریت سے پاکستانی جمہوریت تک کی کہانی کولونیل نظام ہے جو لوگوں پر راج کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، نہ کہ لوگوں کا راج قائم کرنے کے لیے۔ اس لیے نوازشریف کی شکل میں جمہوریت کا خواب دیکھنے والے سراب کے راہی ہیں۔