میں نے جب منگھو پیر میں ایک پرانے برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھی ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پہلی بار دیکھا تو مجھے بچپن کی وہ کہانی یاد آ گئی جو میری پڑ دادی مجھے سنایا کرتی تھیں، میں اپنی دادی کو بابی کہا کرتا تھا۔

بابی اپنی جوانی میں اپنے آبائی شہر بنارس میں سب سے خوبصورت لڑکی ہوا کرتی تھیں، انہیں ایک دن جن اٹھا لے گئے۔ انہیں گنگا ندی کے کنارے موجود برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھی ایک بوڑھی عورت جنوں سے بچا لیتی ہیں، وہ بوڑھی عورت پیڑ کے نیچے سماج سے بے دخل نوجوان اور بوڑھی بیواؤں میں گھری ہوتی ہے۔

بابی نے بتایا کہ"وہ دیوی ماں تھیں، ان کی دنیا صرف ان سر منڈی اور سفید ساڑھیوں میں ملبوس خواتین کے گرد ہی گھومتی، جبکہ شہر میں ان خواتین کو حقارت سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ان کی ماہر نفسیات تھیں، ان کی روحانی رہبر بھی تھیں اور سب سے بڑھ کر ان کی واحد امید بھی وہی تھیں۔"

جب میں نے کراچی کے ایک سب سے غربت زدہ علاقے، منگھوپیر کے چٹانی علاقے میں ڈاکٹر فاؤ کو برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھے اور سلائی کرتے دیکھا تو مجھے وہ منظر اسی کہانی کا ہی منظر محسوس ہوا۔

وہ شلوار قمیض میں ملبوس تھیں اور انہوں نے شال لپیٹی ہوئی تھی، وہ جذام کے مرض میں مبتلا خواتین سے گھری ہوئی تھیں جو بالکل بنارس کی بیواؤں کی طرح معاشرے سے بے دخل تھیں۔

پنجہ نما ہاتھوں پیروں، زخموں، اور جسم کے بگڑے ہوئے عضو ڈاکٹر فاؤ کے لیے کبھی پریشانی یا بیزاری کا باعث نہیں بنے۔ وہ ان خواتین کے ساتھ کھانا کھاتیں، انہیں اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں لطیفے سنایا کرتیں اور وہ خواتین انہیں اماں پکارتیں۔

بطور ایک ٹرینی رپورٹر یہ میرا پہلا فیلڈ اسائنمنٹ تھا۔ میں نے صحافت کی دنیا میں ابھی قدم ہی رکھا تھا تاہم میں جس اخبار، دی نیوز سے منسلک تھا وہ ابھی لانچ ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ تقریباً 26 سال پرانی بات ہے۔

ڈاکٹر فاؤ کا سفر دوسری جنگ عظیم سے شروع ہوا۔ "میں نے بمباری دیکھی، ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں وہاں سے نکل آئی۔"

سابق مشرقی جرمنی میں واقع اپنے آبائی شہر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فرانس کی سرحد پار کی اور ایک چرچ کو بطور ایک نن جوائن کر لیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ، "اس وقت تک میں جان گئی تھی کہ میری زندگی کا مقصد انسانیت ہے اور مجھے درد تکلیف کا خاتمہ لانے کی خاطر کام کرنا ہے۔"

ڈاکٹر فاؤ 1960 میں ہندوستان جاتے ہوئے کراچی آئیں اور یہاں میکلوڈ روڈ (جسے اب آئی آئی چندریگر روڈ کہا جاتا ہے) کے پاس موجود جذامی کالونی دیکھ کر خوفزدہ ہوگئیں۔

"دھتکارے ہوئے، ٹھکرائے ہوئے، کسی بنیادی طبی سہولت اور کسی انسان سے تعلق کے بغیر انتہائی غیر انسانی حالت میں۔ جب میں نے یہ دیکھا تو اس نے میری زندگی بدل دی۔"

انہوں نے کراچی کو اپنا گھر بنا لیا اور صدر میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر (ایم اے ایل سی) اور منگھوپیر میں ایک یتیم خانہ اور شیلٹر قائم کیا۔

انہوں نے مجھ سے کہا، "ابتداء میں یہ بہت مشکل تھا۔ یہ ایک وسیع و عریض صحرا میں اکیلے سفر کرنے جیسا تھا مگر پھر لوگ آتے گئے اور معاونت کرتے گئے۔ آخر کار یہ ایک کارواں بن گیا، اور صحرا نخلستان میں تبدیل ہو گیا۔"

اپنے مسائل کا ان سے ذکر کرنے کے لیے منتظر مریض ہماری بات کاٹتے رہے۔ وہ سمجھ گئی تھیں کہ مریضوں کی شدید جسمانی بدہیئتی اور ان کا قریب ہونا مجھے الجھن میں ڈال رہا تھا، مگر وہ چاہتی تھیں کہ میں ان کی جسمانی صورتحال سے آگے بڑھ کر دیکھوں۔

"ہم مرض پر نہیں، بلکہ مریضوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔"

غروبِ آفتاب کے قریب انہوں نے اپنا سامان بند کرنا شروع کیا اور ہماری اگلی میٹنگ ایم اے ایل سی میں رکھی۔ وہاں ایک شادی ہونی تھی۔ جذام کے ایک افغان پشتون مریض کو ایک مہاجر لڑکی سے محبت ہوگئی تھی جو خود بھی جذام کی شکار تھی۔

ڈاکٹر فاؤ نے لڑکی کے گھرانے سے بات کی اور شادی کے انتظامات کیے۔ جب ہر کوئی ناچ اور گا رہا تھا، تو کسی کی توجہ ان مریضوں کے جسموں پر نہیں تھی۔ پورے سینٹر میں ہر جگہ خوشیاں بکھری ہوئی تھیں۔ میں نے اپنے اخبار کے لیے یہ 'لو اسٹوری' اگلے دن لکھی۔

رفتہ رفتہ انہوں نے اپنا کام کراچی سے بڑھا کر تھر کے صحراؤں، اور پھر گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے پہاڑوں تک پھیلا دیا۔

میں نے پوچھا کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، "اماں کے لیے کیا مشکل؟ میں جہاں بھی جاتی اپنا سر ڈھک کر جاتی۔ لوگ مجھے پہلی نظر میں پشتون سمجھتے۔"

"لوگ جانتے تھے کہ میں ان کی مدد کرنے کے لیے آئی ہوں۔ وہ سب مجھے جرمن کے بجائے پاکستانی سمجھتے تھے۔ میری جائے پیدائش بھلے جرمنی ہو، مگر میرا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔"

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں کبھی اپنے اس فیصلے پر افسوس ہوا۔ "نہیں،" وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔ "اگر مجھے ایک اور جنم ملا، میں تب بھی پاکستان میں ہی ہونا چاہوں گی۔"

ڈاکٹر فاؤ نے افغانستان کا بھی بے تحاشہ سفر کیا، یہاں تک کہ سرد جنگ کے دوران بھی، اور پھر مجاہدین گروہوں کی باہمی لڑائیوں کے دوران بھی۔

"میں بامیان، کابل، جلال آباد، مزارِ شریف، اور ہرات گئی۔ چاہے حکمت یار ہوتے یا احمد شاہ مسعود، میں اپنا سر ڈھکتی، ان کے ساتھ بیٹھتی، اور قہوہ پیتی۔ وہ میری عزت کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میرا ایجنڈا لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔"

ان کے ساتھ یہی برتاؤ کراچی کے سیاسی بھنور میں بھی کیا گیا۔ ان کے سینٹر میں ایک رضاکار کے مطابق، چاہے یہ ایم کیو ایم کی ہڑتالیں ہوتیں یا منگھوپیر کے طالبان نیٹ ورک، انہیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ "انہیں خصوصی پروانہ حاصل تھا۔"

میں ان کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو کو ایک سے زیادہ وجوہات کی بناء پر یاد رکھتا ہوں۔ میں نے انٹرویو کی ریکارڈنگ سے تحریر لکھی تھی اور ایڈٹ کیا تھا، مگر کسی طرح میں نے جذام کے انگریزی ہجے غلط لکھ دیے، اور وہ دی نیوز کی لانچ سے دو دن قبل ریہرسل کاپی میں ایسے ہی چھپ گیا۔

میرے سٹی ایڈیٹر اور استاد، مرحوم اقبال جعفری نے میری خوب سرزنش کی اور میری اس غلطی کو پوری زندگی یاد رکھا۔ کئی سال بعد انہوں نے میری اہلیہ نازش بروہی کو بھی اس بارے میں بتایا۔

اپنی وفات سے چند ماہ قبل انہوں نے پشاور میں میری اہلیہ کو یہ لطیفہ بڑے مزے لے کر سنایا تھا، "تمہارے میاں اب اے ایف پی، بی بی سی، گارڈین، اور کرسچن سائنس مانیٹر کے لیے کام کرتے ہیں اور بڑے اسٹار بن گئے ہوں گے، مگر جب انہوں نے کام شروع کیا تھا تو انہیں جذام کے انگریزی ہجے بھی نہیں آتے تھے۔"

9 اگست کو جب میں آغا خان ہسپتال کراچی میں زیرِ علاج تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فاؤ نازک حالت میں ہیں اور وینٹیلیٹر ہٹایا جا رہا ہے۔

میں نے ان کے کمرے میں پھولوں کا گلدستہ بھیجا۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ شیشے سے انہیں ایک آخری بار دیکھوں۔

اس کے بجائے میں ہمیشہ انہیں برگد کے پیڑ کے نیچے، بنارس کی دیوی ماں جیسے جذام کے ٹھکرا دیے گئے مریضوں کے درمیان گھرا ہوا ہی تصور کرنا چاہتا تھا۔