محرم اور حلیم کا تعلق کب اور کس نے قائم کیا؟

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2017

ای میل

اچھا کھانا کسے پسند نہیں اور اگر آپ کا تعلق دہلی، حیدرآباد، لکھنو یا پھر کراچی سے ہے تو چاہے آپ کھانے پینے کے شوقین ہوں یا نہ ہوں، بریانی اور حلیم کا ذکر آتے ہی آپ کی بھوک ضرور جاگ اٹھے گی۔ یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ بریانی کی تخلیق کا سہرا مغل ملکہ ممتاز محل کے سر جاتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ حلیم کا آغازکہاں سے ہوا؟

حلیم دراصل عرب کے مشہور پکوان ھریس کی ہندوستانی شکل ہے۔ عربی پکوان کی پہلی معلوم کتاب "کتاب القبیخ" جو دسویں صدی عیسویں میں محمد المظفر السیار نے مرتب کی تھی، کے مطابق ھریس بغداد کے محلات میں امراء اور روساء کی ایک مرغوب غذا تھی۔ عرب سے ھریس ایران اور اُس سے آگے توران میں عام ہوئی۔

ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "فارس کے لوگ اپنے ہر مہمان کو ھریس پیش کرتے ہیں جو گوشت ، دال اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔"

عربوں کے یہاں اِس کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی؟ مورخین اِس پر متفق نہیں ہیں۔ عرب پکوان کی مشہور مورخ کلودا روغن کے مطابق عربوں نے ھریس اندلس کے یہودیوں سے سیکھی تھی، جو ہفتے کے مقدس روز اپنے دسترخوان پر اِس کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ اِس کے برعکس امریکی مصنفہ اینایا کلیزلو ٹائم میگزین میں مختلف تاریخی حوالوں سے ثابت کرتی نظر آتی ہیں کہ دراصل ایک امووی بادشاہ کے پاس جب یمن سے عمائدین کا وفد دارلحکومت دمشق آیا تو بادشاہ نے سیاسی گفتگو سے پہلے اناج اور گوشت سے تیار کردہ اِس پکوان کی ترتیب معلوم کی جو انہوں نے کبھی یمن میں کھایا تھا۔ گویا ھریس یمن سے دمشق اور پھر دمشق سے بغداد پہنچا۔

سات مختلف اقسام کے اناج اور گوشت کی اِس لذیذ مجموعے کو ہندوستان کی سرزمین پر سب سے پہلے عرب تاجروں نے متعارف کروایا اور وقت کے ساتھ ساتھ اِس میں ہندوستانی مصالحوں کا ذائقہ شامل ہونے لگا۔

شمالی ہند میں اِس کا رواج شہنشاہ ہمایوں کی ایران سے واپسی کے بعد شروع ہوا اور دورِ اکبری میں اِسے دوام ملا۔ حیدرآباد دکن میں سلطان سیف نواب جنگ کے زمانے میں اِسے تمام سرکاری مہمانوں کے سامنے انتہائی سلیقے سے پیش کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بننے والا کھچڑا بھی ھریس ہی کی ایک شکل ہے۔

البتہ ھریس "حلیم" کیسے ہوا؟ اِس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ عربی میں حلیم کا ایک مطلب "نرم" بھی آتا ہے، اِس لئے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ آیا حلیم ھریس کا ہی بگڑا ہوا تلفظ ہے یا پھر واقعی یہ عربی کا حلیم ہے۔

لیکن اِس بحث سے قطع نظر جو عوامی مقبولیت اِس پکوان کو ہندوستان بالخصوص شمالی ہندوستان اور حیدرآباد دکن میں حاصل ہوئی، عرب، ایران اور توران کہیں اِس کے نصیب میں نہ آئی۔ کلکتہ سے لیکر کراچی تک، حلیم مسلم ہندوستان کی ایک شناخت بن چکا ہے۔ ہندوستان میں حلیم کو مذہبی تقریبات اور تہواروں میں پیش کرنے کی روایت بھی کافی قدیم ہے۔ کئی صدیوں سے دہلی اور لکھنو کے شیعہ محرم کی مجالس کے بعد حلیم کا لنگر کیا کرتے ہیں اور آزادی کے بعد یہ سلسلہ مہاجروں کے زریعے پنجاب اور سندھ میں بھی عام ہوگیا ہے۔ اہل تشیعوں کی یہ روایات اتنی مقبول ہوئی کہ اب اہل سنت کے یہاں بھی حلیم کی نیاز بڑے ذوق و شوق کے ساتھ دی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں حلیم رمضان کریم کے ساتھ مخصوص ہے، تراویح کے بعد ڈھاکہ کے مختلف محلوں میں حلیم کی تیاری شروع ہوجاتی ، جسے سحری پر تناول کیا جاتا ہے۔

گو بریانی اور نہاری کی طرح اب حلیم بھی سارے پاکستان میں بنایا جاتا ہے لیکن جو ذائقہ اہل کراچی کے یہاں رائج ہے پورے پاکستان میں اِس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ صدر کے حلیم فروش پر مشہور شاعر اور مصنف ابن انشاء نے پورا کالم لکھ ڈالا تھا۔ کراچی حلیم اور مزے دار حلیم بھی ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں ہر پکوان والا "کراچی کے حلیم کے عنوان" سے حلیم بیچتا نظر آتا ہے۔ اِس کی وجہ یقیناً یہی ہے کہ یہ کراچی دہلی، لکھنو اور حیدرآباد دکن کی مشترکہ تہذہب کا مسکن ہے۔ یہاں ایک گلی میں دہلی کی چاندنی چوک ہے تو دوسری گلی میں لکھنو کا قیصر باغ اور تیسری گلی میں حیدرآباد دکن کا چار مینار۔ یہ تین شہر ایک جگہ سموئے ہوئے ہوں اور وہاں حلیم نہ ہو، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

ھریس سے حلیم تک کا سفر تو معلوم ہوگیا تو کیوں نہ اب حلیم کی تلاش کو بھی نکل پڑے؟ آس پڑوس اور دوست و اقارب، جہاں دیگیں نظر آئیں، بن بلائے مہمان بن جائیں، اور اگر کہیں کوئی آسرا نہیں ہورہا تو کوئی بات نہیں۔ دو کلو قربانی کا گوشت تو آپ نے فریزر میں رکھا ہوا ہوگا۔ بس گیہوں، چنے کی دال، مونگ مسور اور چاول معہ مسالحہ جات بازار سے لے آئیں۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے اور دستور بھی ہے۔