معیشت پر آرمی چیف کے بیان پر تنقید ’بے بنیاد‘، ایف پی سی سی آئی

اکتوبر 15 2017

ای میل

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ملکی معیشت پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان پر حکومتی وزراء کی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورت حال کے تناظر میں فوج کو معیشت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ایف پی سی سی آئی کی تعاون کمیٹی کے چیئرمین ملک سہیل حسین نے کہا کہ ملک کی غیر مستحکم معیشت کے تناظر میں فوج کو بے دخل نہیں کیا جاسکتا جبکہ آرمی چیف کے بیان پر تنقید صورتحال کو مزید خراب کرسکتی ہے اور اس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار مجروح ہوگا۔

ایف پی سی سی آئی کے تحت منعقدہ سیمینار میں فیڈریشن کے ترجمان ملک سہیل نے بتایا کہ معیشت پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ بیان پر ملک کے تمام معروف معاشی ماہرین اور سرمایہ دارمتفق ہیں۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف کو معیشت پر ’بات کرنے کا پورا حق‘، خورشید شاہ

ایف پی سی سی آئی کے جاری اعلامیے میں آرمی چیف پر تنقید کو بے بیناد قرار دیا گیا۔

ملک سہیل حسین نے آرمی چیف کے موقف کو سرمایہ داروں کے حق میں مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کا جاری کردہ بیان حقیقت پر مبنی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’فوج ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور پوری قوم ان کی خدمات اور قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کے لیے حفاظت اور سلامتی کی ضروری ہے اور مضبوط معیشت کا دار و مدار سیکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانے پر منحصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر مختلف ممالک سے اٹھنے والی شدید تنقید کے باوجود مقررہ وقت میں مکمل کیا جارہا ہے جس کی تکمیل میں آرمی کا مرکزی کردار ہے۔

انہوں نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ حکومت اور فوج سی پیک پر ایک موقف رکھتی ہے تاہم ضروری ہے کہ دونوں ادارے معاشی معاملات پر بھی ایک رویہ اختیار کریں تاکہ ملک بحرانی کیفیت سے بچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا داخلی استحکام ہی امن کی ضمانت ہے، آرمی چیف

اس سے قبل ایف پی سی سی آئی کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ کمزور معیشت ملکی سالمیت کی ضمانت نہیں دے سکتی جیسا کہ سویت یونین ہماری یاداشتوں میں تاحال زندہ ہے۔

اعلامیے میں تنبہ کی گئی کہ حکومت نچلے درجے کے معاملات پر اپنا وقت ضائع نہ کرے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش جاری رکھے تا کہ ملک کی معیشت کو درپیش خطرات سے دور کیا جاسکے۔


یہ خبر 15 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی