پی آئی اے کی نجکاری 15 اپریل سے قبل مکمل ہوگی، وفاقی وزیر نجکاری

ای میل

—فوٹو:اے پی پی
—فوٹو:اے پی پی

وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیزنے کہا ہے کہ حکومت 15 اپریل سے قبل خسارے کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ائر (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کو حتمی شکل دے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت کا پی آئی اے کے صرف انتظامی اور پروازوں سے متعلق اہم معاملات کو بیچنے کا منصوبہ ہے جبکہ دیگر کاروباری معاملات بدستور حکومت کے پاس رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک اور کمپنی بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے لیے پی آئی اے کے اثاثوں کا انتظام کیا جائے گا۔

دانیال عزیز نے دعویٰ کیا کہ نجکاری کے عمل کے دوران پی آئی اے کے تمام ملازمین کے قانونی حقوق اور مالی فوائد کا مکمل طور پر تحفظ کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پی آئی اے سی کنورژن ایکٹ 2016 کے مطابق حکومت 15 اپریل سے قبل نجکاری کے عمل کو حتمی شکل دینے کی پابند ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے دہائیوں سے خسارے میں ہے اور قومی خزانے کے لیے بوجھ ہے اسی لیے قومی ائرلائن کے حوالے سے معاملات ہر حکومت کے لیے سرفہرست ترجیح رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2017 تک مجموعی خسارہ 325 بلین روپے تھا۔

نجکاری کے عمل کو شفاف بنانے کا یقین دلاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نجکاری کے معاملات کی خود نگرانی کریں گے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں معاملے کی مکمل شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجکاری کے عمل سے نہ صرف قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر قابو پالیا جائے گا بلکہ مسافر بھی پروازوں کے مسابقتی نرخ سے فائدہ اٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کے زیر چلنے والے چند اداروں سے 600 بلین روپے سے زیادہ سالانہ نقصان کا سامنا ہے اور اگر اس پیسے کو ترقیاتی شعبوں میں خرچ کیا جاتا تو پاکستان، سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ کررہا ہوتا۔

پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے حتمی تاریخ پر پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو صبح ہی آجائیں اور خرید لیں۔

'پی پی پی نجکاری کے معاملے کو اٹھائے گی'

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور طریقے سے اٹھائے گی اور ملازمین کا استحصال نہیں ہونے دے گی۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم پی آئی اے کی نجکاری کو مسترد کرتے ہیں اور ملازمین کے مفادات کے خلاف حکومتی اقدام پر پی آئی اے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی پی آئی اے کی نجکاری کے پروگرام سے نہ صرف پی آئی اے کے ملازمین بلکہ عوام میں بھی شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سال میں پی آئی اے کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا اور اب اپنی ناکامیوں کا بوجھ پی آئی اے کی نجکاری کر کے اس کے ملازمین پر ڈالنا چاہتی ہے۔

پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے خسارے کی ذمہ دار خود حکومت ہے جس نے نااہل اور کر پٹ اعلی انتظامیہ کو پی آئی اے پر مسلط کیا۔