کراچی: ڈاکٹروں نے انڈونیشیا میں سزائے موت کے متنظر پاکستان کے شہری ذوالفقار علی کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ 3 ماہ زندہ رہ سکیں گے۔

14 برس سے نا کردہ جرم کی سزا کاٹنے والے 5 بچوں کے والد کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ شاید سزائے موت سے پہلے موت کی آغوش میں چلے جائیں۔

معالج نے تشخیص کی ہے کہ ذوالفقار علی کو گردے کا کینسر ہے جو چوتھے درجے میں پہنچ چکا ہے اور وہ 3 ماہ تک زندہ رہ سکیں گے۔

یہ پڑھیں: ہندوستان:47 فیصد غیرملکی قیدی 'مسلم بنگالی اور روہنگیا'

52 سالہ ذوالفقار علی نے ڈان کو فون پر بتایا کہ جیل میں ہسپتال کا عملہ ان کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہے اس لیے ان کی اہلیہ تیمارداری کے لیے ہسپتال میں رہنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ‘جیل میں ڈاکٹروں کا عملہ موجود ہیں لیکن کینسر کے علاج کے لیے نجی ہسپتال جانا بہت ضروری اور یہاں طبی اخراجات ناقابل برداشت ہیں’۔

ذوالفقار علی نے خواہش ظاہر کی کہ ‘میں اپنے گھر آنا چاہتا ہوں’۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں علاج بہت مہنگا ہے اور قیدیوں کو اپنے طبی اخراجات خود برداشت کرنے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم تنظیمیں فیس بک پر فعال

ذوالفقار علی کے علاج پر تاحال 37 ہزار ڈالر خرچ ہو چکے ہیں تاہم پاکستانی وزارت خارجہ امور نے رقم کا کچھ حصہ ادا کیا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے 26 جنوری کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے امید ظاہر کیا ہے کہ اگر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی انڈونیشیا کے صدر سے دوطرفہ ملاقات کے دوران ذوالفقار علی کی رہائی کی بات کریں تو ذوالفقارعلی اپنی زندگی کے آخری ایام اپنی والدہ اور بچوں کے ہمراہ گزار سکیں گے۔

جے پی پی نے کہا کہ ‘ذوالفقار علی کے مہلک مرض اور ناکردہ گناہوں کی طویل سزا کاٹنے کی روشنی میں حکومت پاکستان ذوالفقار علی کی رہائی کے لیے انڈونیشیا کے صدر پر بھرپور دباؤ ڈالے’۔

خیال رہے کہ جولائی 2016 میں جے پی پی کی نگرانی میں ملکی سطح پر ذوالفقار علی کی پھانسی کے خلاف مہم سے سفارتی سطح پر حکومت پاکستان نے مداخلت کی جس سے ذوالفقار علی کی جان بچ گئی لیکن انہیں رہائی نصیب نہیں ہوئی۔

جکارتا پولیس نے ذوالفقار علی کے روم میٹ کے پاس سے 300 گرام ہیروئن برآمد کی جبکہ ان دنوں ذوالفقار انڈونیشیا کے مغربی صوبے جاوا میں تھے۔

مزید پڑھیں: اہلاً و سہلاً - الباکستان

پولیس نے ذوالفقار علی کو وارنٹ گرفتاری کے بغیر نومبر 2004 میں حراست میں لیا۔

جکارتا پولیس نے ذوالفقارعلی کو تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا اور خود ساختہ تیار کردہ ‘حلفیہ بیان’ پر زبردستی دستخط کرائے۔

ذوالفقارعلی کے مقدمے میں کئی قانونی سقم سامنے آنے پر انڈونیشیا کے سابق صدر سوسیلو نے کمیشن تشکیل دیا جس نے ذوالفقار علی کو بے گناہ قرار دیا۔

جے پی پی کا کہنا ہے کہ ‘ذوالفقار علی کی رہائی کا یہ نادر موقع ہے کہ انڈونیشیا کے صدر پاکستان آرہے ہیں، ذوالفقار علی پاکستانی ہیں اور نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں’۔

ذوالفقار علی کے کزن عباس نے کہا کہ ذوالفقار علی کو کئی برسوں سے اہلخانہ نے نہیں دیکھا اور ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا اپنی زندگی کے آخری ایام ان کے پاس لاہور میں گزارے۔


یہ خبر 23 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی