ڈیرہ غازی خان میں 2 قبائلی خواتین کی خود کشی

اپ ڈیٹ 05 فروری 2018

ای میل

ڈیرہ غازی خان میں 3 شادی شدہ خواتین نے مبینہ طور پر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں 2 خواتین ہلاک جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے جسے علاج کے لیے نشتر ہسپتال ملتان منتقل کردیا گیا۔

اس حوالے سے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ تینوں قبائلی خواتین نے گندم کو کیڑے سے محفوظ رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کی جبکہ خود کشی کی وجوہات کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ خواتین نے سماجی رویوں سے تنگ آکر یہ اقدام اٹھایا۔

مزید پڑھیں: ’شادی کا وعدہ پورا نہ ہونے پر لڑکی کی خودکشی‘

ذرائع کا کہنا تھا کہ شادی شدہ خواتین میں 17 سالہ زاہدہ گل فراز، 16 سالہ عزیزہ فضل دین اور 21 سالہ تارو شامل ہیں، جو قبائلی علاقے طمام قیصرانی میں شامتلہ کی رہائشی تھیں، ان تینوں خواتین نے اس وقت زہریلی گولیاں کھائی جب وہ ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گاؤں سے باہر گئی تھیں۔

خودکشی کرنے والی ایک خاتون تارو کا 6 ماہ کا بیٹا بھی ہے جبکہ ان تینوں خواتین کے شوہر قبائلی علاقوں سے باہر سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں سے تین کلو میٹر دور جنگل میں تارو اور زاہدہ کی لاش ملی جبکہ عزیزہ کو انتہائی نازک حالت میں پہلے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ منتقل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں مزید طبی علاج کے لیے ملتان منتقل کردیا گیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بارڈر ملٹری پولیس کی جانب سے جنگل سے ملنے والی خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے کہا تھا لیکن خواتین کے اہل خانہ نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے انہیں دفنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: حاملہ خاتون کی ’ریپ‘ کے بعد خودکشی کی کوشش

اس حوالے سے جب قبائلی علاقے کے پولیٹیکل اسسٹنٹ جمیل احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے لیکن ایف آئی آر ابھی درج نہیں کی گئی۔

اس واقعے سے متعلق بارڈر ملٹری اہلکار نجیب نے دعویٰ کیا کہ زندہ بچ جانے والی خاتون عزیزہ نے اپنے رشتے داروں کو بتایا کہ اس نے خود زہریلی گولیاں کھائی تھیں۔