پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں مسلسل دوسرے ماہ کمی

اپ ڈیٹ 18 فروری 2018

ای میل

اسلام آباد: ادارہ برائے شماریات (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق مسلسل دوسرے مہینے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں کمی واقع ہوئی، جس سے دسمبر 2017 میں سالانہ ترقی کی شرح میں 1.4 فیصد منفی اثر پڑا ہے۔

بڑی صنعت کی پیداوار میں منفی اضافہ اس خطرے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کہیں رواں مالی سال ملک کی معاشی ترقی کے متوقع ہدف حاصل کرنے میں پیچھے نہ رہ جائے۔

اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں صنعتی پیداوار میں کمی کی وجہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر تھی، جس کے باعث گزشتہ برس کے مقابلے میں چینی کی پیداوار میں 37.4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 3 فیصد کمی

پی بی ایس کے اعداد و شمار میں ماہانہ جائزہ لیا گیا جس کے مطابق چینی کے علاوہ پیدوار میں کمی کی وجہ خوراک اور مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، کیمیکل، انجینئرنگ، لکڑی اور چمڑے کی مصنوعات اور کھاد کی پیداوار میں کمی بھی ہے۔

جولائی سے دسمبر کے دوران بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی ترقی کی شرح 5.6 فیصد رہی جبکہ 18-2017 کے لیے یہ ہدف 6.3 فیصد تھا۔

واضح رہے کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ 80 فیصد مینوفکچرنگ اور ملک کی مجموعی پیداورا ( جی ڈی پی) کی 10.7 فیصد پر مقرر کی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے لیے جی ڈی پی کا 1.8 فیصد اور مینوفیکچرنگ کا 13.7 فیصد استعمال ہوتا ہے۔

تاہم صنعتوں کی وزارت کی جانب سے موصول ہونے والے 36 اجزا کا پیداواری اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دسمبر میں 1.5 فیصد منفی اضافہ دیکھا گیا جبکہ صوبائی ادارہ برائے شماریات کے مطابق 65 اجزا کی شراکت 0.67 فیصد مثبت رہی۔

اسی طرح آئل کمپنیز ایڈوائزی کمیٹی (او سی اے سی) کی جانب سے 11 اجزا کے موصول شدہ پیداواری ڈیٹا میں 0.61 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

اس کے علاوہ صنعتی مخصوص ڈیٹا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ منفی اضافہ لکڑیوں کی مصنوعات میں 55.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ خوراک، مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات میں 13 فیصد، چمڑے کی منصوعات میں 11.6 فیصد، پیٹرولیم منصوعات میں 10.5 فیصد کھاد میں 3.02 فیصد اور انجینئرنگ مصنوعات میں 1.9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات کی پیداوار میں 22.5 فیصد ترقی، آٹو موبائل میں 10.03 فیصد، الیکٹرونکس میں 9.96 فیصد، ربر مصنوعات 9.91 فیصد، دواسازی 6.83 فیصد، غیر دھاتی معدنی مصنوعات میں 5.83 فیصد، کاغذ اور بورڈ میں 3.32 فیصد، ٹیکسٹائل میں 0.21 فیصد اور کیمیکل میں 0.95 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مقامی کار اسمبلرز نے گزشتہ ماہ ریکارڈ گاڑیاں فروخت کیں

آٹو موبائل سیکٹر میں ٹریکٹر کی پیداوار میں دسمبر میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جیپ اور کار میں 17.6 فیصد، ہلکی تجارتی گاڑیوں میں 16.6 فیصد اور موٹر سائیکل میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بسوں کی پیداوار میں 67.9 اور ٹرک میں 8.09 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دوا سازی کے شعبے کے اعداد و شمار دیکھیں جائیں تو کیپسول میں 79.2 فیصد، انجیکشنز میں 116.6 فیصد اور ٹیبلیٹس میں 54.7 فیصد منفی ترقی دیکھی گئی تاہم سرپ کی پیدوار 78.9 فیصد کم ہوئی۔


یہ خبر 18 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی