10 علامات جن سے خواتین کو لازمی واقف ہونا چاہیے

21 فروری 2018

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ہمارے جسم کے اندر ہر وقت متعدد اہم عمل جاری رہتے ہیں جو ہارمونز کنٹرول کرتے ہیں۔

مانیں یا نہ مانیں مگر مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہارمونز کا نظام زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اس میں انتشار کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ ہارمونز کا نظام متاثر ہو تو مزاج، رویہ، اچھی شخصیت اور ظاہری روپ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مگر ان نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین جان سکیں کہ ان کے ہارمونز کا نظام متاثرہورہا ہے اور پھر اس حوالے سے ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

اچانک کیل مہاسوں کا نمودار ہونا

کیل مہاسے اور بلیک ہیڈ اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب مسام بلاک ہوجاتے ہیں، تاہم کچھ طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ کیل مہاسوں کا بے وقت نکلنا جسم میں ہارمونز میں اچانک تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اینڈروجن کی سطح میں کمی پورے جسم پر کیل مہاسوں کا باعث بنتی ہے۔ ایسا نوجوانی کے دور میں خواتین کے ساتھ اکثر ہوتا ہے تاہم درمیانی عمر میں بھی اس کا امکان ہوتا ہے۔

اکثر سردرد رہنا

اگر کسی خاتون کو اکثر سردرد کی شکایت رہتی ہے (ذہنی تناﺅ یا تھکاوٹ سے ہٹ کر) تو یہ ایسٹروجن کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ایسٹروجن ایسا ہارمون جو خواتین میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے میٹابولک پراسیس کو کنٹرول کرتا ہے، اگر اس کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہوجائے تو آدھے سرکا درد یا چڑچڑے پن کی شکایت ہونے لگتی ہے۔

بے خوابی کی شکایت

بے خوابی ایک خطرناک علامت ہے کیونکہ یہ پروجسٹرون کی انتہائی کم سطح سے جڑی ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ہارمون قدرتی طور پر پرسکون رکھتا ہے اور نیند کو معمول پر لاتا ہے، اس کی سطح میں تبدیلی اکثر بے خوابی کا باعث بنتی ہے۔ عام طور پر خواتین جب بچوں کو جنم دیتی ہیں تو ایسٹروجن اور پروجسٹرون کی سطح میں کمی دیکھنے میں آتی ہے مگر اس سے ہٹ کر ایسا نہیں ہوتا، تو اگر ایسا ہو تو یہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا اشارہ ہے۔

بہت زیادہ پسینہ آنا

اچانک بہت زیادہ پسینہ بہنا یا بخار ہارمونز کے توازن میں گڑبڑ کی بڑی علامات میں سے ایک ہے، ہارمونز جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان میں عدم توازن کی صورت میں اچانک گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے، پسینہ بہنا لگتا ہے اور بخار جیسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

مسلسل تھکاوٹ

ہر ایک کو کسی نہ کسی وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے تاہم اگر کسی خاتون کو ہر وقت تھکاوٹ کا احساس ہو، چاہے مناسب آرام ہی کیوں نہ کررہی ہوں، تو یہ ہارمونز میں عدم توازن کی علامت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق شدید تھکاوٹ تھائی رائیڈ ہارمونز بننے کے عمل میں مسائل کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

وزن میں اچانک تبدیلی

اگر ہارمونز کا نظام متوازن نہ ہو، تو جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے چاہے آپ صحت بخش غذاﺅں کا ہی استعمال کیوں نہ کریں۔ مخصوص ہارمونز کی کمی یا زیادتی جسم میں چربی کو بڑھانے جبکہ مسلز کے حجم میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسٹروجن، کورٹیسول یا انسولین کی سطح میں اضافہ جسم میں چربی کے ذخیرے کا باعث بنتی ہے، اسی طرح تھائی رائیڈ ہارمونز کی سطح میں کمی میٹابولزم کو سست کرکے جسمانی حجم کو بڑھاتا ہے۔

بالوں کا گرنا

بالوں کا بہت زیادہ گرنا بھی تھائی رائیڈ، انسولین یا ٹیسٹوسیٹرون کا نتیجہ ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر مردوں میں یہ ہارمونز ان کے جسم کو بھاری اور بالوں سے بھرتا ہے۔ مگر خواتین میں اس ہارمون کی زیادہ مقدار اکثر گنج پن کی جانب لے جاتی ہے۔

نظام ہاضمہ کے مسائل

ایک تحقیق کے مطابق ایسٹروجن کی سطح میں اضافہ آنتوں کے مائیکرو فلورا پر اثرانداز ہوتا ہے، اسی طرح اس ہارمون کی زیادہ سطح معدے کے درد اور جکڑن کا باعث بن سکتی ہے۔

باتیں بھولنا

مسلسل باتیں بھولنا اور چیزوں پر توجہ مرکوز نہ کرپانا مختلف عناصر کا نتیجہ ہوسکتا ہے جن میں ہارمونز کے نظام میں عدم توازن بھی ایک وجہ ہے۔ کورٹیسول اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی اس کا باعث بنتی ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسٹروجن کی سطح میں کمی چیزیں بھولنے کا باعث بنتی ہے، توجہ مرکوز نہیں ہوپاتی اور غیر شفاف ذہن، اسی طرح کورٹیسول کی سطح میں کمی مختصر المدت یاداشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔

بھوک پر کنٹرول نہ رہنا

بھوک اور اشتہا کو کنٹرول کرنے میں ہارمونز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور ان کا توازن بگڑنا بھوک کو کنٹرول سے باہر کردیتا ہے۔ بھوک کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے لپٹن اور گیرلین کا کردار اہم ہوتا ہے، جن میں سے لپٹن بھوک کو کم کرتا ہے جبکہ گیرلین جسم کو بتاتا ہے کہ ہمیں کب کھانا چاہیے۔