پیسوں والی سیاست نامنظور!

ای میل

گزشتہ ایک سال سے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ کسی نہ کسی وجہ سے سینیٹ انتخابات ملتوی ہوجائیں گے، مگر یہ بالآخر ہوگئے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو پیسے دے کر ان سے من پسند ووٹ ڈلوانے کے الزامات بھی گردش کررہے ہیں۔

میڈیا میں 'ہارس ٹریڈنگ' اور پیسوں کے بدلے ووٹ خریدنے کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت تو پیش نہیں کیے جاتے، مگر اپنی جماعتوں کے پاس سینیٹ کی نشست جتوانے کے لیے کافی ووٹوں کی عدم موجودگی کے باوجود کچھ امیدواروں کے جیتنے سے ان دعووں کو تقویت ملتی ہے۔

مثال کے طور پر پیپلز پارٹی نے سندھ میں 2 اضافی نشستیں بظاہر متحدہ کی حمایت سے جیتیں۔ وہ خیبر پختونخوا میں بھی 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی، بھلے ہی اس کے پاس اتنے ارکانِ صوبائی اسمبلی نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی نے پنجاب میں ایک نشست جیتی جو صرف تب ممکن تھا جب دوسری جماعتوں کے ارکانِ صوبائی اسمبلی بھی پی ٹی آئی کی حمایت میں ووٹ ڈالیں۔

مگر یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ بھلے ہی سینیٹ انتخابات میں زیادہ تر قانون ساز پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ کرتے ہوں، مگر قانون انہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔ قانون کے مطابق اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنا ہوتا ہے، اسی لیے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنا بغاوت نہیں سمجھا جاتا اور نااہلی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی، جہاں راجیہ سبھا کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتے ہیں اور ریاستی قانون سازوں کو ووٹ ڈالنے سے قبل اپنا ووٹ اپنی جماعت کے نمائندوں کو دکھانے کی اجازت ہوتی ہے۔ وہاں پر بھی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بغاوت نہیں سمجھا جاتا۔

مزید پڑھیے: پیشِ خدمت ہے ڈرامہ سیریل ’سینیٹ انتخاب‘

چنانچہ انتخابی قوانین بنانے والوں نے سختی سے پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹنگ کا تصور نہیں دیا اور ایسا لگتا ہے کہ ضمیر کے مطابق ووٹ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس لیے یہ مان لینا درست نہیں ہے کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے کا واحد مقصد ذاتی مفادات تھے۔

مگر چند معاملات ایسے ضرور ہیں جہاں ووٹ کے بدلے پیسے کے الزامات زیادہ قابلِ فہم معلوم ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی گئی ہو، مثلاً ایم کیو ایم، یا جہاں امیدوار آزاد ہوں، جیسے فاٹا۔

'ہارس ٹریڈنگ' کے الزامات کو اتنا سنجیدہ تصور کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی سینیٹ انتخابات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

مختصر مدت میں ایسی کسی تبدیلی کا امکان تو کم ہے، مگر سیاست میں چلنے والے پیسے پر کنٹرول اور نظر رکھنے کا سوال اب مرکزی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اسے حل کرنا ضروری ہے۔

جب ہم عام انتخابات کے شیڈول میں اس سال کے اگست تک داخل ہوں گے، تو سیاست میں پیسے کا سوال عموماً اور سیاسی جماعتوں کی مالیات کا سوال خصوصاً مزید اہمیت حاصل کرے گا۔ الیکشن ایکٹ 2017ء نے جو اہم سوال بغیر حل کیے چھوڑا ہے، وہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی اخراجات کی حد ہے۔

بھلے ہی ہمارے انتخابی قوانین نے روایتی طور پر انفرادی امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی حدود متعین کی ہیں، اور ان حدود کو نئے قانون میں بہتر بھی بنایا گیا ہے، مگر سیاسی جماعتوں کے لیے ایسی کوئی حد موجود نہیں ہے۔ یہ بات ماضی میں شاید اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھی جب مجموعی طور پر جماعتی اخراجات کافی محدود ہوا کرتے تھے اور انتخابات سے متعلق تمام اخراجات امیدوار خود اٹھاتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ انتخابی رجحانات میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔

سیاسی جماعتیں اب انتخابات میں کہیں بڑا کردار ادا کرتی ہیں اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتی ہیں۔ ووٹنگ کے بعد ووٹروں سے ان کی رائے جاننے اور دیگر طریقوں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں جیسے جیسے سیاست بلوغت کی جانب جا رہی ہے، ویسے ویسے پارٹی وفاداریوں کی بناء پر ووٹنگ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے اخرات بھی گزشتہ 3 انتخابات، خاص طور پر 2002ء سے بڑھے ہیں جب الیکٹرانک میڈیا بھی انتخابی اکھاڑے میں اترا۔

مزید پڑھیے: سینیٹ انتخابات میں کب، کیا اور کیسے ہوتا ہے؟ مکمل طریقہ

سیاسی جماعتیں اب اپنی بالواسطہ اور بلاواسطہ سیاسی پیغام رسانی کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔ یہ اشتہارات حلقوں تک محدود نہیں ہوتے، لہٰذا ان پر اخراجات کرنا تکنیکی اور قانونی طور پر ایک مخصوص حلقے پر اخراجات کرنے کے زمرے میں نہیں آتا جس کے لیے قانون میں حد مقرر ہے۔

الیکٹرانک میڈیا میں اشتہارات بہت مہنگے ہوتے ہیں اور انتخابی اخراجات میں سب سے زیادہ خرچہ انہی اشتہارات پر ہوتا ہے۔ یہ اس قدر بڑا خرچہ ہے کہ کئی ممالک، مثلاً برطانیہ میں الیکٹرانک میڈیا پر انتخابی اشتہارات دینے پر پابندی ہے۔ کچھ ممالک، جیسے کہ ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کو ایک مخصوص ضابطے پر پورا اترنے کی صورت میں سرکاری ٹی وی پر مفت ایئر ٹائم فراہم کیا جاتا ہے۔

ان تازہ ترین پیش رفت کی وجہ سے ہی سیاسی جماعتوں پر انتخابی اخراجات کی حدود متعین کرنا نہایت اہم ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے ابتدائی مسودوں میں ہر سیاسی جماعت کے لیے 20 کروڑ روپے کی حد مقرر کی گئی تھی، مگر حتمی مسودے میں اسے حذف کردیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی اخراجات میں کھلی چھوٹ دے دینے سے سیاست میں پیسے کا اثر و رسوخ اپنے ساتھ تمام غیر صحتمندانہ اثرات لے کر آئے گا۔

اخراجات پر کوئی حد نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ایسے ذرائع کی جانب جائیں گی جو قانونی اور/یا اخلاقی نہ ہوں۔ پاکستان میں کم از کم ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جو غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات پر تحقیقات اور مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ بلا روک ٹوک اخراجات سے سیاسی جماعتوں پر مالی امداد کرنے والے ایسے لوگوں کی تلاش کا دباؤ بڑھے گا جن کے سیاسی جماعتوں کو فروغ دینے میں اپنے اپنے مفادات ہوں گے۔ اس لیے انتخابی اخراجات پر حد لگانا ایسی اصلاح ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو غور کرنا چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کے انتخابی اخراجات پر حد نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے انتخابی قوانین میں سیاسی مالیات پر کئی حدود اور ضوابط ہیں۔ مگر مسئلہ ہمیشہ سے انتخابی اخراجات کے گوشواروں، سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے سالانہ اکاؤنٹس اور امیدواروں اور قانون سازوں کی جانب سے اثاثوں اور قرضوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کے لیے صلاحیت پیدا کرنے اور اس طرح کے قوانین پر عملدرآمد کا رہا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کی عام انتخابات سے کہیں پہلے سیاسی مالیات کی مؤثر جانچ پڑتال کے لیے مدد کی جائے اور اسے پروفیشنل افراد کی خدمات فراہم کی جائیں۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 6 مارچ 2018 کو شائع ہوا۔