’سلوسٹر اسٹالون passed away!‘ میرے کولیگ نے آفس میں داخل ہوتے ہی مجھے خبر سنائی۔

’کیا؟ کیسے؟!‘ میں نے پوچھا۔

’یہ نہیں معلوم، بس ابھی آتے ہوئے فیس بک پر پڑھی ہے خبر!‘ اس نے کاندھے اچکا کر کہا۔

’چچ۔ بے چارہ!‘ اظہارِ افسوس کرتے ہوئے میں نے انٹرنیٹ پر اس کی اچانک موت کی وجہ ڈھونڈنی چاہی تو چند ہی لمحوں میں ’گوگل‘ کی بدولت مجھے علم ہوگیا کہ یہ خبر نہیں بلکہ ’افواہ‘ تھی جس کا آغاز ’ٹوئیٹر‘ سے ہوا اور چند ہی گھنٹوں میں فیس بک پر لوگوں کی بڑی تعداد نے اس افواہ کو بطورِ ’خبر‘ اپنی نیوز فیڈ پر شئیر کرکے اظہارِ تاسّف میں لمبے لمبے پیغامات لکھنے شروع کردئیے۔

پڑھیے: سوشل میڈیا: جھوٹ پھیلانے کا آسان ذریعہ؟

یہ تو محض ایک مثال ہے سوشل میڈیا پر آئے دن شئیر ہونے والی ایسی ’خبر نما افواہوں‘ کی بہت ساری مثالیں ہیں، جنہیں پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت بنا سوچے سمجھے، بنا تصدیق کیے اپنی ٹائم لائن پر شئیر کرتی ہے اور افواہیں اور سنسنی پھیلانے کے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ٹوئیٹر پر شئیر کی جانے والی خبروں میں بڑی تعداد fake یعنٰی جعلی خبروں کی ہے۔ ان میں ایسے یوزر اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جو جعلی ہیں اور مشہور شخصیات کے نام پر بنائے جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات کسی ایسے جعلی اکاؤنٹ کی شئیر کی گئی خبر اصلی یوزرز شئیر کرتے ہیں اور یوں ایک غلط خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔

سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا موجودہ دور کی ایسی ترقی ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں۔ پل پل کی خبر بلاتاخیر دنیا کے ایک حصّے سے دوسرے حصّے میں پہنچنا ایک ایسا فائدہ ہے جس نے ہم سب کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے مضمرات بھی ہیں جن کی روک تھام کسی ادارے سے زیادہ خود ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

کل ہی کی بات ہے کہ میرے ایک سینئیر کولیگ نے ایک جونئیر کولیگ کو (جو 2 سالہ بچی کا باپ ہے) متنبّہ کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں آنے والی پولیو ٹیم سے اپنی بچّی کو پولیو کے قطرے مت پلوانا۔

میرے استفسار پر انہوں نے کہا کہ فیس بک پر انہوں نے ایک خبر دیکھی ہے جس کے تحت حالیہ پولیو مہم میں قطرے پینے کے باعث 100 سے زائد بچّے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں کیونکہ پولیو کے قطرے ایکسپائرڈ تھے، اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق حکومت اس بات کو میڈیا سے چھپا رہی ہے۔ بس یہ سننے کی دیر تھی اور میرے جونئیر کولیگ انتہائی پریشان ہوگئے کیونکہ آج صبح ہی وہ اپنی بچی کو پولیو کے قطرے پلواکر آئے تھے۔

پڑھیے: کالعدم تنظیمیں فیس بک پر فعال

یہ پریشانی دیکھ کر میں نے خبر دینے والے ساتھی سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس خبر کی تصدیق کرنے کی کوشش کی؟ تو ان کا جواب حسبِ توقع نفی میں تھا۔ خیال رہے کہ میرے یہ دونوں ساتھی نہ صرف خاصے پڑھے لکھے بلکہ سمجھ بوجھ سے کام لینے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر سوجھ بوجھ کے باوجود ایک نے محض سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ایک جعلی خبر کو بلاتصدیق آگے پہنچا دیا اور انہیں اس بات کا بالکل بھی احساس نہیں ہوا کہ بظاہر تو یہ ایک خبر ہے، لیکن اس جعلی خبر کے باعث ایک cause کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مجھے ان سے گلہ نہیں جو کم پڑھے لکھے ہیں یا ایسے معاملات میں دماغ کے بجائے محض جذبات سے کام لینے پر اکتفا کرتے ہیں، شکایت تو ان لوگوں سے ہے جو نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ معاملات اور واقعات کا تجزیاتی جائزہ لینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ جب کوئی خبر یا امکان بلاتصدیق و تحقیق، انتہائی آرام سے شئیر کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک اچھی خبر دوسروں تک پہنچا کر نیکی کما لی ہے، انہیں سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ کوئی ایک جھوٹی خبر کتنے لوگوں کا نقصان اور کتنے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو ایسی غلط خبروں یا باتوں پر بحث و مباحثے کرتے ہیں اور ان جھوٹی خبروں کی بنیاد پر کوئی منفی رائے آپ کے ملک یا قوم کے بارے میں قائم کی جائے تو ان کو سیدھی راہ سے بھٹکانے میں بھی آپ کا کردار ناقابلِ معافی ہے۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ غیرمصدقہ یا جعلی خبریں شئیر کرنے سے محض دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں بلکہ آپ کی اپنی شخصیت کے حوالے سے شک و شبہ پیدا ہونے کا ڈر بھی ہے۔ کیونکہ آپ کی جانب سے آگے بڑھائی ہوئی خبر کو لوگ صرف اس لیے مان لیتے ہیں کہ انہیں آپ پر بھروسہ ہوتا ہے، لیکن جب آپ کی دی ہوئی خبر غلط یا جھوٹی ثابت ہو تو لوگ آپ پر بھروسہ کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کریم ڈرائیور پر سواریوں کو لوٹنے میں ملوّث ہونے کا الزام ہو، ایدھی سینٹر میں لوگوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کا شکوہ ہو، یا کسی آن لائن اشیاء فروخت کرنے والی خاتون پر خراب چیزیں بیچنے کا الزام ہو، آپ ایسی تمام خبروں سے سنسنی اور views تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن مذکورہ cause، ادارے یا شخص کو بے پناہ نقصان بھی پہنچاتے ہیں جس کی تلافی ممکن نہیں۔

پڑھیے: سوشل میڈیا کی لت نفسیاتی امراض کا باعث

اکثر باتوں کے بارے میں ہمارا ایک مجموعی سماجی رویہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے اس ضمن میں کیا کر رہے ہیں؟ لیکن ذرا ایک لمحے کو سوچیے کہ ہم خود اس بارے میں کس کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ بلاشبہ حق اور نیکی کی بات کو دوسروں تک پہنچانا اچھا کام ہے، لیکن اس نیکی کو کمانے کے لیے ہمیں خود پر کچھ فلٹرز لاگو کرنے ہوں گے جن کی مدد سے ہمیں یقین ہو کہ ہم جو بھی خبر آگے پہنچا رہے ہیں اُس سے متعلق ہم نے تصدیق کرلی ہے۔

کسی بھی شخص خواہ کوئی سیلیبرٹی ہو یا عام فرد، کے بارے میں کوئی منفی بات شئیر کرنے سے پہلے سوچیے کہ کہیں آپ لاعلمی میں بہتان تراشی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ اگر آپ کسی شخص کے بارے میں کوئی بات شئیر کر رہے ہیں جس سے آپ واقف نہیں اور نہ ہی اس شخص کو جانتے ہیں جس کی کہی بات آپ شئیر کر رہے ہیں تو ایسی بات کے بہتان ہونے کی صورت میں آپ بھی جھوٹ پھیلانے والے کے ساتھ برابر کے مجرم تصور کیے جائیں گے، اس لیے درخواست صرف یہی ہے کہ احتیاط کیجیے۔ یوں اپنی پسند نہ پسند اور بغیر تحقیق خبروں کو آگے پہنچا کر یوں جھوٹ کو پھیلانے کا سبب نہ بنیے، کیونکہ یہ کسی کے بھی حق میں نہیں۔

یہاں یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے ضمن میں ہم اپنی ذمہ داریوں کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اپنی اس طاقت کو پہچانیں جو ایک فرد کے ساتھ شامل اس کی فرینڈ اور فالوور لسٹ کی شکل میں ہمیں حاصل ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جس کا درست استعمال معاشرے میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ وہ طاقت جو بیرونی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے، جو زینب جیسے معصوموں کو انصاف دلاسکتی ہے اور مشال خان جیسے بے گناہوں کے لیے آواز بلند کرسکتی ہے۔ ہمیں اسی ذمہ داری کو سمجھنا ہے اور اس سے غلط فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کی درست سمت کا تعیّن کرنا ہے۔