اقوام متحدہ کی ٹیم کی روہنگیا متاثرین سے ملاقات: ’ریپ اور قتل کے واقعات سنے‘

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2018

ای میل

روہنگیا پناہ گزین اقوام متحدہ کی ٹیم کی آمد پر پلے کارڈز اٹھائے احتجاج کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
روہنگیا پناہ گزین اقوام متحدہ کی ٹیم کی آمد پر پلے کارڈز اٹھائے احتجاج کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

روہنگیا پناہ گزینوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وفد کی جانب سے دورہ بنگلہ دیش کے دوران احتجاجی مظاہرہ کیا، وفد نے ان کیمپوں کا دورہ کیا جہاں میانمار سے ہجرت کرکے آئے 7 لاکھ روہنگیا متاثرین عارضی طور پر مقیم ہیں۔

سفیروں کو میانمار میں ہونے والی قتل و غارت اور ریپ کے ہولناک واقعات سناتے ہوئے کچھ مسلمان پناہ گزین آب دیدہ ہوگئے۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا کر پناہ گزینوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم بعد ازاں انہیں پولیس کی جانب سے منتشر کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ ٹیم کی روہنگیا پناہ گزینوں سے ملاقات

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے سینئر سفیر بشمول امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے مستقل ارکان ہفتے کے روز اپنے 4 روزہ دورے کے لیے بنگلہ دیش پہنچے تھے۔

اس دورے کے بعد یہ ٹیم میانمار کا رخ کرے گی جہاں وہ عوامی رہنما آنگ سان سو چی سے ملاقات کریں گے۔

یاد رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں گزشتہ برس فوجی بیس پر مبینہ طور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، اقوام متحدہ

میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی جبکہ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کی تھی، جہاں ان کے حالات غذائی قلت کے باعث ابتر ہوگئے تھے تاہم ترکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے اقدامات کئے گئے تھے اور مزید مدد کی اپیل کی گئی تھی۔

تاہم ڈپٹی روسی سفیر دمیتری پولیانسکی جن کی ریاست نے میانمار کی حمایت کی تھی نے خبردار کیا کہ ’کونسل کے پاس جادو کی چھڑی نہیں جس سے دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزینوں کے بحران کا معاملہ حل ہوسکے‘۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم بحران سے اپنی نظر نہیں ہٹا رہے، ہم اپنی آنکھیں بند نہیں کر رہے‘۔

مزید پڑھیں: میانمار،روہنگیا مہاجرین کی واپسی پر تیار ہے،بنگلہ دیشی وزیر کا دعویٰ

برطانوی سفیر کیرن پیئرس کا کہنا تھا کہ روہنگیا افراد کو تحفظ کی شرط پر گھر جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں وقت درکار ہے تاہم ہم میانمار کی حکومت سے سننا چاہیں گے کہ وہ اس معاملے پر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کیسے کام کرے گی۔

سفیروں نے اپنے دورے کے دوران روہنگیا افراد کے رہنما محب اللہ سے بھی ملاقات کی۔

محب اللہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے شہریوں کی بحالی چاہتے ہیں اور ہم اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی زمینوں اور املاک بھی واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفد کے اراکین رخائن میں روہنگیا افراد کے ساتھ ہونے والے تشدد، ریپ اور قتل کے واقعات سن کر حیرت میں مبتلا ہوگئے۔

محب اللہ کے مطابق وفد کے اراکین رخائن میں روہنگیا افراد کے ساتھ ہونے والے تشدد، ریپ اور قتل کے واقعات سن کر حیرت میں مبتلا ہوگئے تھے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 30 اپریل 2018 کو شائع ہوئی