‘شکریہ آصف زرداری، ہمیں آپ سے سیاسی اتحاد کی خواہش نہیں‘

اپ ڈیٹ 06 مئ 2018

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد کی خواہش مند نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پی ٹی آئی، پی پی پی کی مہربانی سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا‘

آصف علی زرداری کی جانب سے جاری بیان کے اگلے ہی روز پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘بہت شکریہ آصف علی زرداری، ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی ایوانِ زریں میں تنہا آئی تھی اور وہ تنہا ہی حکومت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے’۔

4 مئی کو لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ‘اگر انتخابات کے بعد ضرورت پڑی تو عمران خان کے ساتھ اتحاد کیا جا سکتا ہے جیساکہ ماضی میں سینیٹ انتخابات میں کیا گیا’۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ‘عمران خان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی آصف علی زرداری کی پارٹی سے کبھی ہاتھ نہیں ملائے گی’۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کی 272 عام نشستوں پر 200 امیدوار کھڑا کررہے ہیں اور ‘امید ہے کہ ہمیں مشترکہ طور پر 150 نشستوں کی برتری حاصل ہوگی’۔

مزید پڑھیں: 'موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں ہونا ضروری'

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر سیاسی پارٹیاں 100 سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں جبکہ دونوں پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو امیدوار کی تلاش میں جدوجہد کرنا پڑے گی۔

فواد چوہدری نے کا کہنا تھا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) علاقائی پارٹیوں کے سانچے میں ڈھل چکی ہیں اور پی ٹی آئی کا دونوں سے ہی کوئی مقابلہ نہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات نے واضح کیا کہ ‘پی پی پی اندورن سندھ اور مسلم لیگ (ن) مرکزی پنجاب میں مقبولیت رکھتی ہے اور انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اپنا وجود کھو دے گی’۔

انہوں نے سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی تردید کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پی ٹی آئی کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں اکثریت حاصل کرے گی اور اور جنوبی پنجاب سے سیاسی مخالفین کے شوریٹی بانڈز بھی ضبط ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: 'سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحریک کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں'

دوسری جانب پی پی پی کے جنرل سیکریٹری نیر بخاری نے وضاحت پیش کی کہ وہ آصف علی زرداری کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ بیان کا پس منظر نہیں جانتے اور شریک چیئرمین ان دنوں لاہور میں موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی پہلے ہی دوٹوک کہہ چکی ہے کہ انتخابات سے قبل سیاسی اتحاد کا ارادہ نہیں۔


یہ خبر 06 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں