ای میل

بولی وڈ کی 4 اہم شخصیات سے گفتگو

خرم سہیل | ایاز احمد لغاری

کچھ دنوں قبل کراچی میں سجنے والے پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے فلمی میلے میں دنیا بھر سے فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ بولی وڈ سے وابستہ چند بڑی شخصیات نے بھی میلے کو چار چاند لگائے اور مختلف نشستوں کے دوران اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا، بولی وڈ اور بھارت سے آنے والی شخصیات میں نندیتا داس، ونے پاٹھک، وشال بھاردواج، ساکت چوہدری، ایس ایس راج مولی اور انجم رجب علی شامل تھے۔ ڈان نے بولی وڈ کی ان تمام نامور شخصیات سے خصوصی گفتگو کی، نندیتا داس اور ونے پاٹھک کے بعد اب پیشِ خدمت ہے بولی کی مزید 4 بڑی شخصیات سے ڈان کی خصوصی گفتگو۔

پہلی شخصیت: وشال بھاردواج

وشال بھاردواج انڈین فلم ساز، ہدایت کار، موسیقار اور کہانی نویس ہیں۔ بولی وڈ میں بطور موسیقار اپنے تخلیقی سفر کی شروعات کی، اس کے بعد فلمیں لکھیں، ان کی ہدایات دیں اور فلم سازی بھی کی۔ ان کی شہرت کا ایک خاص پہلو برطانوی کلاسیکی ادیب ولیم شیکسپیئر کے ڈراموں سے اخذ کردہ ہندی فلمیں تخلیق کرنا بھی ہے، جن میں مقبول، اوم کارہ اور حیدر جیسی شاندار فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے گلزار کی لکھی اور انہی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ماچس‘ سے بطور موسیقار مقبولیت حاصل کی۔

وشال بھاردواج اب تک 50 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں، جن میں عشقیہ اور رنگون سرِفہرست ہیں۔ شیکسپیئر کے ڈراموں سے اخذ کردہ فلموں کے علاوہ متعدد فلمیں خود لکھیں اور پروڈیوس بھی کی ہیں۔ وشال بھاردواج مزید جن فلموں سے کسی نہ کسی صورت وابستہ رہے، ان میں ستیا، نشبد، دس کہانیاں، ڈیڑھ عشقیہ، تلوار، مداری اور دیگر شامل ہیں۔ انہیں انڈین سینما میں کام کرتے ہوئے تیسری دہائی ہونے کو ہے۔ یہ اپنے منفرد اور تخلیقی انداز سے اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ آپ پاکستان تشریف لائے تو اس موقعے پر ان سے کی گئی خصوصی گفتگو حاضرِ خدمت ہے۔

سوال: آپ نے موسیقار کی حیثیت سے تخلیقی سفر شروع کیا، پھر فلم ساز بھی بن گئے۔ آرٹ اور کمرشل سینما میں کامیاب تجربات کیے، یہ کیسے ممکن ہوا؟

جواب: آپ جو چیز بنا رہے ہیں، اگر وہ آپ بنانا جانتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے، البتہ کسی دوسرے کی نقل کرتے ہیں پھر چیز تو شاید بن جائے گی لیکن اس میں سے تخلیق ہونے کا اثر نکل جائے گا۔ ہمارے ملک میں ویسے بھی فلم کے تناظر میں یہ بہت اچھا وقت ہے، ہر طرح کی فلمیں بن رہی ہیں۔ کسی زمانے میں آرٹ اور کمرشل سینما کے درمیان واضح تقسیم کی جو لکیر ہوا کرتی تھی، وہ تقریباً مدھم ہوچکی ہے۔ اب ہمارے ہاں مختلف نوعیت کی فلمیں کامیاب ہو رہی ہیں، چاہے وہ آرٹ سینما سے آئیں ہو یا پھر ان کا تعلق کمرشل سینما سے ہو، دونوں ہی باکس آفس پر کامیاب ہیں۔

تصاویر: حسین افضال

سوال: ایک فلم ساز کی حیثیت سے بتائیے، موضوع حساس اور متنازع ہو تو اس سے پیدا ہونے والے ردِعمل سے بالخصوص ہندوستان میں کیسے نمٹا جاتا ہے؟

جواب: فلم کے متنازع ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، اگر وہ اچھی فلم ہے تو ضرور پسند کی جائے گی۔ ہمارے ملک میں یہ ریکارڈ ہے کہ آج تک کسی فلم پر کبھی پابندی عائد نہیں کی گئی، سرکاری یا کسی سیاسی دباؤ کے تحت کسی فلم پر پابندی عائد کردی جائے تو بھی عدالت سے اس فلم نمائش کی اجازت مل جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل کا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے جس سے بھارتی فلمی صنعت مستفید ہو رہی ہے۔

سوال: آپ بطور فلم ساز، 2002ء میں پہلی فلم ‘مکڑی‘ سے لے کر 2017ء میں ریلیز ہونے والی فلم ‘رنگون‘ تک بے پناہ جہتوں میں کام کرچکے ہیں۔ فلم کا کون سا شعبہ آپ کے دل سے قریب ہے؟

جواب: میرے دل سے قریب ہمیشہ جو شعبہ رہے گا وہ موسیقی ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ سے میرے لیے پہلی ترجیح رہی ہے، اس کے بعد جس پر میں بہت توجہ دیتا ہوں، وہ فلم نگاری اور اسکرپٹ رائٹنگ ہے، اس شعبے میں مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے، اس لیے ہمیشہ اس پر میرا خاص دھیان مرکوز رہتا ہے۔

سوال: آپ شیکسپیئر کے ڈراموں کو بھی دیسی انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، جس کا ثبوت فلم ’مقبول‘ اور ’حیدر‘ جیسی فلمیں ہیں، یہ خیال کیسے آیا؟

جواب: یہ کوئی شعوری کوشش نہیں تھی، اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب ہم طالب علم تھے تو شیکسپیئر ہمیں بہت ڈراؤنا لگتا تھا یعنی اس کے کھیل بہت مشکل لگتے تھے اور محض نصاب میں ہونے کی وجہ سے زبردستی پڑھنے پڑھتے تھے۔ پھر یہ عمر بھی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں بہت ساری چیزیں سمجھ نہیں آتیں۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مجھے عملی زندگی میں دوبارہ شیکسپیئر کو پڑھنے کا موقع ملا۔اس کی ایک کہانی پر مجھے گمان ہوا کہ یہ تو بہت عام سی کہانی ہے، اس کو میں اپنے انداز اور رنگ میں فلم کی صورت دے سکتا ہوں۔ لہٰذا میں نے اس کے بعد اسی طرح سوچنا شروع کردیا۔ جب شیکسپیئر کی کہانیوں سے ماخوذ کرکے فلمیں بنانا شروع کیں تو ابتداء میں یہ تاثر تھا کہ کوئی بہت بھاری بھرکم کہانی پر مبنی فلم ہوگی لیکن جب ان فلموں کا عوامی چہرہ فلم بینوں نے دیکھا تو انہیں یہ کافی پسند آیا۔

سوال: آپ کی فلم ’رنگون‘ دوسری جنگِ عظیم کے تناظر میں ایک عمدہ فلم تھی مگر اس کو باکس آفس پر خاص کامیابی حاصل نہ ہوسکی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا یہ بھی تاریخ کو محفوظ کرنے اور عام کرنے کا ایک عمدہ طریقہ ہے کہ اس موضوع پر فلم بنا دی جائے؟

جواب: میں تو فلم پیسے کمانے کے لیے نہیں بناتا، بس فلم کا اچھا ہونا کافی ہے۔ اگر فلم پیسے بھی کما لے تو کیا بات ہے، مگر ترجیح پیسہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے تاریخ کے مختلف موضوعات سے دلچسپی ہے اور میں ان پر فلمیں بھی بنانا چاہتا ہوں۔ رنگون کی کہانی ہمارے ملک کی تاریخ کا اہم رخ تھا، اس لیے میں نے اس کو فلم کے پردے پر محفوظ کیا، جبکہ فلم بنانے سے کچھ عرصے پہلے تک میں تاریخ کے اس پہلو سے واقف تک نہیں تھا تو اس لیے فلم بنائی تاکہ عام ہندوستانی بھی اپنی تاریخ کے اس پہلو سے واقف ہوسکے۔

سوال: آپ پاکستان آتے رہتے ہیں، کیسا محسوس ہوتا ہے؟ اور کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے فنکاروں کو ملتے جلتے رہنا چاہیے؟

جواب: عوامی سطح پر تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ ہمیں ضرور ملتے رہنا چاہیے لیکن سیاسی سطح پر جب کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی حد تک عوامی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ فنکاروں کو دلوں میں دوریاں نہیں رکھنی چاہئیں، یہی وجہ ہے کہ میں بہت خوشی سے پاکستان آتا ہوں۔

سوال: آپ موجودہ پاکستانی سینما کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

جواب: پاکستانی سینما میں اچھا کام ہو رہا ہے، جس طرح باصلاحیت فلم ساز حسن ضیاء میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ان کے علاوہ مجھے شعیب منصور اور مہرین جبار کا کام بھی پسند ہے۔ میں مرینہ خان کا بہت بڑا مداح ہوں، ان سے ملنے کے لیے پہلی بار کراچی آیا تھا۔ پاکستانی سینما میں باقی سب شعبے تو ٹھیک کام کر رہے ہیں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے اگر کوئی کمی ہے تو وہ کہانیوں کی ہے۔ پاکستانی فلم سازوں کو کہانی اور اسکرپٹ سازی پر توجہ دینی چاہیے، اس کی بہت ضرورت ہے، البتہ پاکستانی ڈراموں کی کہانیاں ہمیشہ سے اچھی رہی ہیں۔ اچھی کہانی کے بغیر فلم بنانا بہت مشکل کام ہے۔ اب نئی نسل کے فلم سازوں کو بھی یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ فلم کے شعبے میں سب سے اہم عنصر کہانی ہے، اس کو نظر انداز نہ کریں۔


دوسری شخصیت: ساکت چوہدری

ساکت چوہدری انڈین سینما میں زیادہ پرانے تو نہیں، لیکن اپنی جداگانہ سوچ کی وجہ سے قلیل عرصے میں منظر نامے پر نمایاں ہوگئے۔ انہوں نے بطور اسٹنٹ ڈائریکٹر فلم ’پھر بھی دل ہے ہندوستانی‘ میں کام کیا، اس کے بعد خود کئی فلمیں لکھیں اور ان کی ہدایات بھی دیں، جن میں سرِفہرست ’ہندی میڈیم‘ ہے، جس میں انڈین اداکار عرفان خان اور پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے مرکزی کردار نبھائے تھے۔ اس فلم کی وجہ سے ساکت چوہدری کو بولی وڈ کے نئے فلم ڈائریکٹرز میں نمایاں مقام حاصل ہوا، ساتھ ساتھ مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے، ساکت جب پاکستان تشریف لائے، تو ان سے مکالمے کا موقع ملا۔

سوال: آپ کی بنائی ہوئی فلم ’ہندی میڈیم‘ میں پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے ہندوستان کے معروف اور باصلاحیت اداکار عرفان خان کے ساتھ مرکزی کردار نبھایا ہے، صبا قمر کو کاسٹ کرنے کا خیال کیسے آیا؟

جواب: اس فلم کے ہیرو اور ہمارے معروف اداکار عرفان خان نے ہی صبا قمر کو کاسٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ وہ شاید ان کا کوئی ڈرامہ دیکھ چکے تھے۔ ویسے بھی ہندوستان میں پاکستانی ڈراموں اور ان میں کام کرنے والے فنکار کافی شہرت رکھتے ہیں۔ میری والدہ بھی پاکستانی ڈرامے دیکھتی رہتی ہیں، اس لیے میں بھی ان سے کچھ کچھ واقف تھا۔ جب ہم نے صبا قمر کو ہندی میڈیم کے اس کردار کی پیشکش کی تو انہوں نے اس پر اچھی طرح غور کیا۔ انہوں نے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ اسکرپٹ پسند آیا تو کام کروں گی، ان کی بات ہمیں بھی پسند آئی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ کام کیا تو اپنے خلوص اورمحنت سے نہ صرف فلم بینوں کو بلکہ ہمیں بھی حیران کردیا، اور ہمارے دل جیت لیے۔

تصاویر: حسین افضال

سوال: آپ کی فلم ہندی میڈیم کا موضوع جس طرح انڈیا کے عام لوگوں کا مسئلہ ہے اسی طرح اردو میڈیم بھی کئی پاکستانیوں کے نزدیک ایک بڑے مسئلے سے کم نہیں، اس قدر حساس موضوع کو آپ نے ہنستے کھیلتے اتنے عمدہ طریقے سے فلما لیا، یہ سب کیسے ممکن ہوا؟

جواب: میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی تھی جس میں ایک بچے کے والدین کا ذکر تھا جو نامور اسکول میں اپنے بچے کا داخلہ نہ کروا سکے تھے، وہ جس جدوجہد اور مصائب سے گزرے، اس کی تفصیل بھی اخبار میں لکھی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ ہمارے بچے تو اس طرح کی مشکلات سے نہیں گزرتے، اس لیے ہمیں ان لوگوں کی ان دشواریوں کا اندازہ نہیں، لیکن جو والدین اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں داخلہ نہیں دلوا پاتے یا پھر ہزار پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں، اور پھر وہ بچے اور والدین جس کرب سے گزرتے ہیں اس کی عکاسی کرنا ہمارا مقصد تھا۔ یہ معاشرے کا ایک تکلیف دہ پہلو ہے جس کو سامنے لانا چاہیے، بس اسی کو ذہن میں رکھ کر ہم نے فلم کے مرکزی خیال پر کام کرنا شروع کیا اور بس پھر فلم بنتی چلی گئی۔

سوال: کیا آپ کو پاکستان میں موجود اردو میڈیم بچوں کا بھی خیال ذہن میں تھا؟

جواب: تھوڑا بہت اندازہ تھا لیکن مزے کی بات یہ ہوئی کہ چونکہ انڈیا میں جتنے بھی ایسے بڑے اسکول ہیں جن میں داخلہ لینا ایک مشکل کام ہوتا ہے، ان کا نام ہم فلم میں نہیں دکھا سکتے تھے لہٰذا ہم نے آپ کے شہر کراچی میں موجود کراچی گرامر سے متاثر ہوکر اپنی فلم میں ایک اسکول کا نام ’دلی گرامر‘ رکھا تھا۔ ہمارے ذہن میں پاکستان کے والدین اور اردو میڈیم بچوں کی مشکلات بھی نظر میں تھیں۔ فلم ہی کے ذریعے ہم اس معاشرتی مسئلے کو زیادہ بہتر طریقے سے اجاگر کرسکتے تھے۔ دونوں ممالک کی جہاں ثقافت ایک جیسی ہے وہیں مسائل بھی ایک جیسے ہی ہیں لہٰذا ہمیں یہ پہلے سے اندازہ تھا کہ یہ فلم دونوں ملکوں میں توجہ حاصل کرے گی۔ دونوں طرف کے لوگ چاہتے ہیں، ان کی کہانیاں بھی سینما کے پردے پر پیش کی جائیں اور بہت اچھے طریقے سے کی جائیں۔

سوال: صبا قمر کو کاسٹ کیا تو بولی وڈ اداکاراؤں نے بُرا تو نہیں مانا؟

جواب: ہر کردار کے لیے اداکار بھی موجود ہوتا ہے، جس کردار میں ہم نے صبا قمر کو کاسٹ کیا، یہ کردار انہی کی شخصیت اور انداز کے مطابق تھا، اس لیے وہ اس کو شاندار طریقے سے نبھانے میں کامیاب بھی رہیں۔ میرا خیال ہے کہ کسی کو اعتراض کیونکر ہوگا، کردار کی مناسبت سے اداکار کو کاسٹ کیا جاتا ہے۔

سوال: پاکستان آکر کیسا لگا، پاکستانی فلم بینوں سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟

جواب: بہت اچھا لگا، میں پہلی بار پاکستان اور کراچی آیا ہوں، یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ پاکستان کے فلم بین بہت میچور ہیں، ان کی نظر دنیا بھر میں ہونے والے کام پر ہے، اس لیے جب انڈیا سے کوئی اچھی فلم بن کر آتی ہے تو وہ اسے بھی پسند کرتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے درمیان اب تعلق مزید بہتر ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے فنکار ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے لگے ہیں۔ وقتی طور پر کچھ کشیدگی ہوئی ہے لیکن امید ہے کہ یہ جلد ہی ٹل جائے گی۔ میں نے کئی پاکستانی فلمیں دیکھی ہیں، یہاں بھی اچھا کام ہو رہا ہے، آپ کے ہاں نئے چہروں کو پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی متعارف ہونا چاہیے۔


تیسری شخصیت: ایس ایس راج مولی

ایس ایس راج مولی ساؤتھ انڈین سینما میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور بہت کم عرصے میں انہوں نے ڈھیروں کامیابیاں سمیٹیں۔ بولی وڈ کی سب سے مہنگی ترین فلم ’باہو بلی‘ کے ہدایت کار بھی ہیں، انہوں نے اس فلم کے ذریعے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود یہ اپنے اندر کے فنکار کی آواز پر اس شعبے میں آئے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پاکستان آمد پر ہم نے ان سے کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی۔

سوال: بولی وڈ میں کئی کامیاب فلمیں تامل اور تلگو جیسی مقامی زبانوں کے سینما سے متاثر ہوکر بنائی گئیں، آپ چونکہ ساؤتھ انڈین سینما کی نمائندگی کر رہے ہیں تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: جی ہاں ہمارے سینما نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے، جس کے اثرات بولی وڈ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہماری فلمیں کمرشل پہلو سے بھی کامیاب رہتی ہیں اور ان میں تخلیقی رخ بھی ہوتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ بولی وڈ مقامی سینما سے آئیڈیا لے کر اور کہانی لے کر فلم بناتا ہے مگر یہ کام دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ ہمارے فلم ساز بھی کئی بار بولی وڈ کی کسی اچھی فلم کو لے کر اپنے ہاں مقامی انداز میں دوبارہ سے بناتے ہیں۔

سوال: آپ ایک منجھے ہوئے فلم ساز ہیں، اس شعبے میں کس طرح آئے؟

جواب: میرے والد اسکرپٹ رائٹر تھے، ان کو دیکھا تو دل میں تحریک پیدا ہوئی پھر خود بخود حالات بھی ایسے بنتے چلے گئے کہ میں فلم ساز بن گیا۔ ویسے ہمارا خاندان زمیندار ہے۔ ہم سب اکٹھے رہتے ہیں، بہت بڑا خاندان ہے اور ہم کئی نسلوں سے زمینداری کرتے آرہے ہیں۔ میرا بچپن بھی اسی کام کو دیکھتے ہوئے گزرا۔ والد کو سینما میں دلچسپی ہوئی تو وہ گاؤں سے باہر نکلے اور اس شعبے میں قسمت آزمائی اور ساؤتھ انڈیا سینما کے مرکز چنائی منتقل ہوئے اور اپنے کریئر کی ابتدا کی۔ ابتدا میں گھوسٹ رائٹر کے طور پر کام کیا پھر دھیرے دھیرے اپنے نام سے کریئر کو آگے بڑھایا۔ والد کی پروفیشنل زندگی کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ کامیابی کے لیے کافی محنت کرنی ہوتی ہے، مگر اس کی کسی سے شکایت کرنے کی بھی ضرورت نہیں، بس اپنے دل کی سنیں اور عملی طور پر زندگی بسر کریں۔ اگر ایسا کرلیا تو آپ کو ضرور کامیابی ملے گی۔

تصاویر: شکیل قریشی

سوال: ہندوستان میں سینما کی کئی اقسام ہیں اور وہاں مختلف مزاج کی فلمیں بن رہی ہیں، آپ کو سب سے زیادہ کون سا سینما پسند ہے؟

جواب: یہ کہنا تو کافی مشکل ہے کیونکہ ہر فلمی صنعت اچھے بُرے پہلو رکھتی ہے، اس لیے کسی کے لیے کچھ مخصوص کہنا ممکن نہیں ہے۔ ہر سینما اپنی کامیابی، ناکامی، اچھا اور بُرا پس منظر رکھتا ہے، یہ بہت عام سی بات ہے۔ اچھے فلم ساز بھی ہوتے ہیں اور بُرے فلم ساز بھی، اچھے لکھاری بھی ہوتے ہیں اور بُرا لکھنے والے بھی، پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہوگا۔

سوال: پاکستان میں ایک عرصے تک اردو سینما کے بعد پنجابی سینما غالب آیا، ماضی میں پشتو اور سندھی سینما کی بھی مقبولیت رہی، اب پھر سے اردو سینما واپس آرہا ہے، تو ہمارے سینما کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں، بدل رہی ہیں، آرٹ کبھی مکمل طور پر مَر نہیں سکتا، نئے موسم اس کو پھر سے زندہ کردیں گے۔ آپ کے سینما کو زیادہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، پاکستان آئے ہیں تو کچھ کام دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جو کافی اچھا ہے۔

سوال: آپ کی فلم باہو بلی انڈین سینما کی تاریخ میں مہنگی ترین فلم ہے جس کا سیکوئل بھی بنا، یہ فلم بنانے کا خیال کہاں سے آیا؟

جواب: ہر فلم ساز کچھ کہانیاں کہتا ہے۔ کوئی عام زندگی کے بارے میں، کوئی عورتوں کے حقوق کے بارے میں تو کوئی کسی کے بارے میں، مگر میں نے فلم بنائی سپر انسانوں کے بارے میں جو عام زندگی سے اوپر کے کردار ہیں، جو میرا تخیل تھا۔ میں نے فلم میں پیش کیا اور میں نے بجٹ کی بھی پرواہ نہیں کی، کیونکہ سب سے اہم آپ کے ذہن میں موجود کہانی ہوتی ہے، باہو بلی بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جو اچھے طریقے سے کہہ دی گئی۔

سوال: مگر ایک عام خیال ہے کہ آپ ہولی وڈ کی فلموں، مثلاً گلیڈیئٹر سے بھی متاثر دکھائی دیتے ہیں، آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ہم متاثر تو کسی سے بھی ہوسکتے ہیں۔ مجھے یہ فلم بہت پسند بھی ہے جس کا ذکر آپ نے کیا، مگر میں اس سے بھی زیادہ متاثر اپنی تاریخ، ثقافت اور لوک روایات سے ہوں۔ میں نے ان کو اپنے سماجی پہلوؤں کے ساتھ کہانی بنا کر پیش کیا اور اپنے کردار پیش کیے، البتہ کرافٹ میں ہولی وڈ سے ضرور مدد لی، باقی سب کچھ میری اپنی زمین سے ہے۔ میں اپنی کہانیوں کے ساتھ رہتا ہوں، انہیں محسوس کرتا ہوں، پھر تخلیقی عمل شروع کرتا ہوں۔

سوال: ہندوستان میں فلم پدماوت بنی تو اس پر کئی تنازعات بھی کھڑے ہوئے، اس سارے معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: فلم ساز کہانی بناتا ہے، اس سے قطع نظر وہ کس موضوع پر ہے، تو وہ فلم ساز اس کو ڈرامائی تشکیل دیتا ہے۔ اس کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی کہانی یا تاریخی واقعے کو فلم کی شکل میں دلچسپ بنا کر پیش کرے، صرف قہقہہ ہی تو انٹرٹینمنٹ نہیں ہے، ہر طرح کے جذبات اور احساسات بھی تو انٹرٹینمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اب سنجے لیلا بھنسالی نے فلم میں حقائق ٹھیک سے پیش نہیں کیے تو بھی یہ اس کا حق ہے کیونکہ اگر تاریخ کے موضوع پر فلم بناتے وقت یہی تقاضا رہے کہ حقائق بالکل درست پیش کرنے ہیں تو پھر ڈاکیومنٹری بنائی جائے نہ کہ فلم، اس لیے کہ فلم میں گنجائش ہوتی ہے کہ اس کو بناتے وقت ڈرامائی ضرورتوں کا زیادہ خیال رکھا جائے۔ کوئی نصاب لکھنا ہے تو ضرور تاریخ کے حقائق کا خیال رکھا جائے مگر فلم کے لیے حدبندی درست نہیں ہے۔ اس فلم پر بہت تنازعات کھڑے ہوئے مگر یہ تو راجپوتوں کے حق میں ہی بنائی گئی فلم تھی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے، لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ فلم اچھی ہے یا بُری اور یہ فیصلہ بھی ہوا۔ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے وہاں لوگوں کو یہ اختیار کلی طور پر حاصل ہے۔

سوال: پاکستان آ کر کیسا لگا؟

جواب: ہم دونوں ممالک میں روایتی جنگوں کے قصے اور دونوں کے مابین کشیدگی کا ماحول رہا ہے مگر شکر ہے کہ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو سوشل میڈیا جیسی سہولت موجود تھی، جس کے ذریعے ایک دوسرے کو جانا۔ ہم 5 ہزار برس سے ایک جیسے لوگ ہیں، ہماری ثقافت ایک ہے، ہمیں تاریخ اور تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ میں پاکستان آنا چاہتا تھا میں پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمیں یہاں مدعو کیا۔ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی۔ مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے کہ میں انڈیا کے کسی شہر میں ہوں، میں اکثر دوستوں کو کہتا تھا کہ پاکستانی ہم ہندوستانیوں کی طرح کافی اچھے لوگ ہیں، یہاں آکر میری یہ بات بھی سچ ثابت ہوگئی۔


چوتھی شخصیت: انجم رجب علی

انجم رجب علی بولی وڈ میں معروف اسکرین پلے رائٹر اور مکالمہ نویس ہیں۔ ایک طویل عرصے سے اسکرپٹ رائٹنگ کی تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی معروف فلموں میں عامرخان کی ’غلام‘ اور رنبیر کپور کی ’راج نیتی‘ شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں جب یہ پاکستان تشریف لائے تو ان سے اسکرپٹ رائٹنگ کے موضوع پر بہت سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

سوال: انڈیا میں موجود انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں کے سینما میں اسکرپٹ نگاری کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کریں؟

جواب: ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہندوستان کہانیوں کا دیس ہے، 5 ہزار سال پرانی تہذیب ہے، جس میں کتھائیں اور کہانیاں ہیں، ہر علاقے کی اپنی ثقافت، ادب اور فنون ہیں۔ سینما کے شعبے میں دیکھا جائے تو وہ تھوڑا مقامی سطح پر نظر انداز ہوا۔ اس خطے میں داستان گوئی کی جو روایت تھی، اس میں فلم نے اپنا حصہ ڈالا۔ فلم ایک تکنیکی معاملہ ہوتا ہے، ایک خاص میڈیم کو لے کر لکھنا ہوتا ہے۔ پھر ہدایت کار کو زیادہ توجہ ملی، جس کی وجہ سے اسکرپٹ لکھنے والا فراموش ہوا، لیکن کوئی بھی فلم کہانی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔ 15 سے 20 برس سے اب اسکرپٹ کو بھی توجہ ملنے لگی ہے۔ مسائل حل ہو رہے ہیں اور صورتحال بھی بہتر ہو رہی ہے۔ اگلے 5 سال میں اسکرپٹ رائٹنگ بہت اوپر چلی جائے گی، فلم ساز بھی پریشان ہوجائیں گے کہ کس اسکرپٹ پر فلم بنائی جائے اور کس پر نہیں۔ بہتر اسکرپٹس کی ایک ورائٹی دستیاب ہوگی، کیونکہ آج کل بڑی تعداد میں اسکرپٹس لکھے جارہے ہیں۔ میں اس شعبے سے وابستہ ہوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہوں اس لیے میں دعویٰ سے یہ بات کررہا ہوں کہ انڈیا میں ہر سال ایک ہزار اسکرپٹ لکھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے ایک اسکرپٹ کے مقابلے کا اعلان کیا، ہمیں 3 ہزار 5 سو 97 کہانیاں موصول ہوئیں جن میں ہمیں چند شاندار اور جاندار کہانیاں پڑھنے کو ملیں اور ان میں سے منتخب اسکرپٹس کو انعام دینے کی بات بھی ہوئی، لوگ اس شعبے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ان میں ٹیلنٹ بھی ہے۔

تصاویر: شکیل قریشی

سوال: کمرشل سینما میں فلم کے باقی شعبوں کی نسبت کہانی ہی کیوں متاثر ہوتی ہے، جبکہ آرٹ سینما میں کہانی اہمیت رکھتی ہے، یہ فرق کیوں ہے؟

جواب: ایسا نہیں ہے، کمرشل یا پاپولر سینما بہت فعال ہے، جن فلموں کی طرف آپ کا اشارہ ہے وہ 2، 4 یا 8 ہوں گی۔ میں ان فلموں کی بات نہیں کررہا ہوں جو ہندوستان میں ہر سال مختلف زبانوں میں ہزار سے اوپر فلمیں بنتی ہیں، تو اب آپ ہی اندازہ لگالیں۔ دراصل کہانیاں اور کہانیوں کے آئیڈیاز اچھے ہیں مسئلہ اسکرین پلے کا ہے کیونکہ کہانی کو اسکرین تک لے جانے کے لیے اسکرین پلے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے جہاں بھی یہ پہلو کمزور ہوگا وہاں کا سینما کمزور ہوگا کیونکہ اسکرین پلے کہانی اور فلم کے مابین ایک پل کی طرح ہے جو انہیں آپس میں جوڑتا ہے۔ ہماری یہی کوشش ہے کہ اسکرپٹ کے مسائل حل ہوجائیں تو کہانی اور موضوعات کا پھر مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔

سوال: آپ اسکرپٹنگ کے استاد بھی ہیں، کب سے اس مضمون کی تدریس سے وابستہ ہیں؟

جواب: 2004ء میں ابتدا ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسا آرٹ ہے جو سیکھا جاسکتا ہے۔ سکھانے کی اس کے اندر زیادہ اہمیت نہیں ہے، ہم یہ نہیں سکھاتے کہ ایسا لکھو، ہم یہ بتاتے ہیں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اس طرح برتنا سیکھو۔ پیدائشی کوئی لکھاری نہیں ہوتا آپ کو اپنی صلاحیت کو دریافت کرنا ہوتا ہے، پھر کام آنا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ گہرائی میں اتریں۔ اس کام کو سیکھیں، اسکرین پر لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ میں نے فلم انسٹیٹیوٹ پونا میں اسکرپٹ کا کورس شروع کیا، کوئی اور نہیں تھا تو میں نے پڑھانا شروع کیا اور پڑھاتا چلا گیا۔ میں اگر یہ نہیں کرتا تو یہ شعبہ بند ہوجاتا۔ اس سے پہلے ہندوستان، جہاں سب سے زیادہ فلمیں بنتی تھیں، کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جہاں اسکرپٹ سکھایا جائے۔ کئی برسوں تک یہی واحد ادارہ تھا جہاں اسکرپٹنگ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ابتدائی طور پر تو ہمارے ہاں چند لوگوں نے داخلہ لیا اور پھر یہ تعداد بڑھتے بڑھتے سیکڑوں میں چلی گئی۔ یہاں جو لوگ اسکرپٹ سیکھنے آئے، ان میں ڈاکٹرز، پولیس اہلکار، بینکرز، اسٹوڈنٹس اور دیگر شعبوں سے وابستہ لوگ شامل تھے۔ 10 سال بعد میں نے سب کو بلایا تو 70 یا 80 افراد کے علاوہ سب اپنے اپنے شعبے میں واپس چلے گئے، ان 70، 80 میں چند تو ایسے بھی تھے جنہوں نے 10 سال میں 57 فلمیں لکھ دی تھیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کام سیکھا بھی جاسکتا ہے، بس محنت اور دلچسپی کی ضرورت ہے۔

سوال: آپ نے فلم ’راج نیتی‘ کے مکالمے لکھے، کہانی پر بھی کام کیا، اس کو دیکھ کر ہم پاکستانیوں کو ایسا محسوس ہوا، یہ پاکستان کے کسی سیاسی خاندان کی کہانی ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: اگر ہر کہانی کو گہرائی سے لکھا جائے تو وہ زندگی کی کہانی بن جاتی ہے۔ مجھے ہندوستان میں کہا گیا یہ سونیا گاندھی کے خاندان کی کہانی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، لکھتے وقت میرے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔

سوال: آپ کی دیگر فلموں میں اکثر باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کرسکیں، جبکہ آئیڈیاز اچھے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اچھا کام نہیں کیا، اس لیے اسے پسند بھی نہیں کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہوں گی، مگر میں اس کا اعتراف کرتا ہوں۔

سوال: پاکستان آنے کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: یہاں آنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ یہاں فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول جیسے پروگرامز ہوتے رہنے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ملے اور پھر اپنے اپنے گھر کی راہ لے لیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا بہتر ہونا بھی ضروری ہے، اس کے لیے سوچیں اور عملی طور پر اس کے لیے اقدامات کریں، ورنہ صرف ڈھول پیٹ کر بیٹھ جائیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

سوال: انڈین فلم پدماوت کے نام پر، اسکرپٹ کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی، آپ بطور اسکرپٹ استاد کیا کہتے ہیں؟

جواب: فلم دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ راجپوتوں کو ناراض نہیں کیا گیا۔ اب حقیقت جو کچھ بھی تھی، کہانی میں ولن کی ضرورت تھی تو انہوں نے ایک تاریخی اہمیت کے حامل سلطان علاؤالدین خلجی کو ایک جاہل حکمران کے طور پر دکھا دیا، جبکہ حقیقی طور پر اس کی پدماوت میں دلچسپی نہیں تھی مگر اسے زبردستی ولن بنا دیا گیا۔ ہمارے ہاں یہی کچھ سماج میں بھی ہو رہا ہے، اخبارات بھی یہی کر رہے ہیں، سیاستدان بھی یہی کر رہے ہیں۔

سوال: اسکرپٹ رائٹنگ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: جی ہاں، یہ کام سیکھا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے بے حد محنت درکار ہے۔ کہانی کے بغیر فلم یا ڈرامے کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، اس لیے کہانی لکھنے والے پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے وہ اپنے فرض کو سمجھے اور کہانی کو ایسے لکھے کہ وہ زندگی کی کہانی محسوس ہو، اس کا زندگی سے ربط ہو۔