خیبر پختونخوا سے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہاں برسرِ اقتدار پارٹی کو دوسری مرتبہ اقتدار کا موقع نہیں دیا جاتا اور اب تک یہی روایات چلی آرہی ہے۔ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا یہ خیال ہے کہ اس بار پختونخوا میں یہ روایت تبدیل ہوگی اور وہاں کے لوگ اس بار بھی اقتدار پی ٹی آئی کو ہی دیں گے، لیکن فی الحال یہ صرف ایک خیال ہے جس کا حتمی فیصلہ 25 جولائی کو ہی ہوگا۔

لیکن اس تحریر کا مقصد ہرگز پختوانخوا کے مستقبل یا تحریک انصاف کی کارکردگی پر بات کرنا نہیں ہے، بلکہ اس تحریر کا واحد مقصد تو پختونخوا کی شاندار سیاسی روایات، زبردست ماحول اور جمہوری اقدار سے ملک کے دیگر حصوں کے باشندوں کو روشناس کرانا ہے، کیونکہ ملک کی اکثریت اب تک ان سے ناواقف ہے۔

سیاستدانوں کی کرپشن، اقرباء پروری سمیت جمہوری نظام سے منسلک منفی چیزوں پر تو بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن مثبت پہلوؤں پر کم ہی بات ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس تحریر کے ذریعے خیبر پختونخوا کی دیہی سیاست اور جمہوری اقدار کے ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جارہی ہے جو ابھی تک شہری علاقوں کے عوام کی نظروں سے اوجھل رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سیاسی ماحول اور روایات پر لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ صوبے کے جعرافیہ کو سمجھ لیا جائے۔ پختونخوا کا صوبہ 2 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک شہری جبکہ دوسرا دیہی علاقوں پر مشتمل حصہ۔ پہلے حصے میں سیاست کا طریقہ کار اور سیاسی روایات تقریباً وہی ہیں جو ملک کے دیگر شہری علاقوں میں ہوتی ہیں، لیکن فرق تو دیہی علاقوں میں نظر آتا ہے۔

دیہی اور پہاڑی علاقوں کی سیاسی روایات اور جمہوری اقدار ملک کے شہری علاقوں سے یکسر مختلف ہیں۔ بظاہر تو یہاں تعلیم کا تناسب شہری علاقوں کی نسبت کم ہے لیکن جمہوری اقدار نہ صرف انتہائی مضبوط ہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام کے لیے باعث تقلید بھی ہے۔

مزید پڑھیے: پختون رسم اشر ہمیں کیا درس دیتی ہے؟

تو آئیے، پختون معاشرے میں غیر معمولی جمہوری روایتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

سیاست کون کرتے ہیں؟

خیبر پختونخوا کے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں سیاست سے وابستگی ان بااثر لوگوں کی ہے جو انتخابی سیاست سے پہلے بھی علاقے اور گاؤں میں لوگوں کی خدمت کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا گاوں میں اپنا ایک حجرہ یا بیٹھک ہوتا تھا۔ یہ حجرے یا بیٹھکیں گاوں کے تمام لوگوں کے لیے غم و خوشی منانے کے لیے ایک جگہ ہونے کے ساتھ ساتھ اجنبی مسافروں کے لیے رات کے قیام کا ٹھکانہ بھی ہوتے تھے۔ صرف یہاں ٹھہرنے کا انتظام نہیں کیا جاتا بلکہ ان اجنبی مسافروں کے قیام و طعام کی ذمہ داری بھی انہی بااثر خاندانوں پر عائد ہوتی تھی۔ یہ روایت برسوں سے چلی آرہی ہے اور آج بھی حجروں یا بیٹھک کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی جماعتوں کے قیامِ عمل میں آنے کے بعد گاؤں کے یہ بااثر لوگ اور خاندان جن جن جماعتوں میں شامل ہوئے تو ان سے منسلک لوگ بھی ان جماعتوں میں شامل ہوگئے اور آج ان علاقوں میں سیاست میں سرگرم لوگوں کی اکثریت کا تعلق ان ہی خاندانوں سے ہیں۔ یہ مقامی سیاستدان ہر جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں، کورٹ کچہری کے مسائل میں کام آتے ہیں اور یہ لوگ ہمہ وقت اپنے اپنے ووٹرز کی خدمت کے لیے موجود رہتے ہیں اور جو کام ان کے بس سے باہر ہوں تو ان کے لیے یہ افراد اپنی تحصیل اور ضلعی قیادت سے رابطہ کرتے ہیں کہ ان کے گاوں یا علاقے میں یہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور ان مقامی سیاستدانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مذکورہ کام ان کے پارٹی اور قیادت کے ہاتھوں سے ہی ہوجائیں تاکہ ان کی اپنے علاقہ میں واہ واہ ہوسکے۔

سیاست کل وقتی کام ہے

شہری علاقوں میں سیاست ایک عارضی کام سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تحرک انتخابات کے دنوں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے، اور جو لوگ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں انہیں انتخابات کے موسم میں ہی عوام کے مسائل یاد آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہتر روزگار کی خاطر وہ دن کا زیادہ وقت نوکری یا کاروبار میں لگادیتے ہیں، لیکن پختونخوا کے ان علاقوں میں سیاست کرنے والے لوگ عارضی طور پر سیاست سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ وہاں سیاست ایک کل وقتی کام ہے اور جو لوگ سیاست کرتے ہیں تو پھر وہ صرف سیاست ہی کرتے ہیں۔ سیاسی گھرانے اپنے خاندان میں سے ایک شخص کو سیاست کے لیے مختص کردیتے ہیں اور پھر پورا خاندان اس ایک فرد کے فیصلوں کا پابند ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات وہ فرد عمر کے لحاظ سے چھوٹا بھی ہوتا ہے لیکن جب سیاسی منصب پر بٹھا دیا جاتا ہے تو خاندان کے بڑے بھی خود کو ان کے فیصلوں کے پابند سمجھتے ہیں۔

ان کا گزر بسر کیسے ہوتا ہے؟

خاندان میں جو لوگ سیاست سے وابستہ ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور اس مقصد کے لیے وہ خاندان کے دیگر افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ پھر چاہے معاملہ بچوں کی تعلیم کا ہو یا ان کے اپنے اخراجات ہوں، یہ سب خاندان کے دیگر افراد ہی برداشت کرتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوپاتا تو پھر یہ اپنی جائیداد فروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

سیاستدانوں کی مصروفیات

سیاست سے وابستہ افراد سال کے 365 دن سیاسی، معاشرتی اور سماجی طور پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی ان کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ علاقے میں کسی کا انتقال ہوجائے تو پہلا کام نمازِ جنازہ میں شرکت ہوتی ہے، کوئی بیمار ہو تو ان کی عیادت کے لیے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان علاقوں میں موجود تقریباً تمام ہی گھروں کا کم از کم ایک فرد آمدنی کی غرض سے بیرون ملک گیا ہوتا ہے، تو ان کی آمد کی جیسے ہی اطلاع ملتی ہے تو گاوں کے مقامی سیاستدان ملاقات کے لیے ان کے گھروں پر جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کے باہر سے آنے والوں سے ملاقات کے لیے صرف مقامی سیاستدان ہی نہیں بلکہ قریبی علاقے کے تقریباً تمام ہی لوگ ملاقات کرنے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی حادثہ پیش آئے تو جائے وقوعہ پر پہنچنے سے لے کر علاج معالجے کے تمام انتظام وہ خود دیکھتے ہیں۔ پھر اگر علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی جرگہ ہو تو اس میں بھی لازمی شرکت کرتے ہیں۔

سیاست خدمت کے طور پر کی جاتی ہے

ان علاقوں میں سیاست برائے سیاست نہیں بلکہ سیاست برائے خدمت کی جاتی ہے، اور یہاں یہ خدمت ہرگز محض اپنے ووٹرز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ہر کسی کی بغیر تفریق خدمت ہورہی ہوتی ہے کیونکہ ہر کوئی کسی نہ کسی کا ووٹر تو ہوتا ہی ہے۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ کہ ان سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ بیرونِ ملک یا دیگر شہروں میں کاروبار یا نوکری کی غرض سے گئے ہوتے ہیں تو وہ اس ملک یا شہر میں اپنے آبائی علاقے کے افراد سے رابطہ میں رہتے ہیں اور وہاں بھی اگر ان کو کسی کام یا مدد کی ضرورت ہو وہاں بھی ان کے کام آتے ہیں۔

انتخابی مہم

ان علاقوں میں شہروں کے برعکس انتخابی دفاتر نہیں ہوتے اور نہ انتخابات کا خرچہ صرف انتخابات لڑنے والے امیدواران پر ہوتا ہے بلکہ اس جماعت کے تمام لوگ اپنی استطاعت کے مطابق انتخابی مہم میں حصہ ڈالتے ہیں اور مقامی طور پر جو لوگ سیاست سے وابستہ ہوتے ہیں ان افراد کے مہمان خانوں کو ہی انتخابی دفتر بنالیا جاتا ہے۔ دن میں جتنے لوگ آتے ہیں ان کے کھانے پینے کے اخراجات اُسی کے ذمہ ہوتے ہیں جن کے مہمان خانے پر لوگ آتے ہیں۔ پھر وہاں موجود حلقے رقبے کے اعتبار سے بہت بڑے ہوتے ہیں اس لیے مہم کے دوران اکثر پورا پورا ہفتہ بھی گھر سے باہر گزارنا پڑتا ہے اور امیدوار اپنے ان مقامی سیاستدانوں کے حجروں اور بیٹھکوں پر ہی رات قیام کرتے ہیں۔ اس دوران گاڑی پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ بھی پارٹی ہی برداشت کرتی ہے، امیدوار کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

انتخابی مہم اور حریف جماعتوں کا رویہ

جلسے جلوس تو صرف کارکنان کی حد تک ہوتے ہیں، امیدواروں کا ردِعمل یہاں بالکل ہی مختلف ہوتا ہے۔ ان علاقوں کی یہ روایت ہے کہ امیدوار اپنی بات، اپنا منشور اور اپنی کارکردگی لوگوں تک پہنچانے کے لیے فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں مسجد کا رُخ بھی کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایسی صورتحال پیش آجاتی ہے کہ کسی ایک ہی مسجد میں 2 یا 3 جماعتوں کے لوگ مل جاتے ہیں اور باری باری سب اپنی اپنی بات کرلیتے ہیں۔ اس پورے موقع پر تمام ہی فریقین کی جانب سے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور کوئی بھی ایسی صورتحال نہیں بننے دی جاتی جس سے اختلاف کا کوئی موقع پیش آسکے۔

اس موقع پر یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ جو امیدوار جتنی دور سے آیا ہو اُسے سب سے پہلے بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ نماز کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ مہمان آئیں ہیں اور وہ الیکشن کے سلسلے میں بات کریں گے تو لہٰذا سب ان کی بات سننے کے لیے مسجد کے باہر رک جائیں۔ پھر جب تک تمام لوگوں کی بات مکمل نہیں ہوجاتی تب تک وہاں سے کوئی واپس نہیں جاتا، پھر چاہے مخالفین وہاں بیٹھے لوگوں کی کارکردگی پر تنقید ہی کیوں نہیں کررہے ہوں۔ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ جب تمام لوگوں کی بات مکمل ہوجائے تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ باہر سے آئے ہوئے مہمان ان کے ساتھ جاکر کھانا کھائیں یا کچھ گرم ٹھنڈا پئیں، چاہے مہمان مخالف جماعت سے تعلق رکھتا ہو یا اپنی ہی جماعت سے۔

پولنگ ڈے کی صورتحال

انتخابات والے دن پولنگ اسٹیشنز پر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان میں ووٹنگ پر ہلکی پھلکی تُو تُو، میں میں تو ہوجاتی ہے، لیکن یہ معاملہ مخصوص پولنگ اسٹیشن تک ہی محدود ہوتا ہے، اس کا اثر پورے علاقے پر ہرگز نہیں پڑتا اور مجموعی طور پر صورتحال بہتر ہوتی ہے۔

باہر سے آئے پولنگ ایجنٹس کے ساتھ رویہ

بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی گاوں میں کسی جماعت کا بظاہر کوئی بھی ایک ایسا کارکن نہ ہو جو اس متعلقہ پولنگ اسٹیشن میں بطور پولنگ ایجنٹ فرائض انجام دے سکے تو اس پولنگ اسٹیشن کے لیے باہر سے پولنگ ایجنٹس آتے ہیں، اور باہر سے آنے والے فرد کو مقامی افراد اپنا حریف نہیں بلکہ مہمان سمجھتے ہیں اور بطور مہمان اس کے ساتھ انتہائی زبردست رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اب چونکہ پولنگ کے دن ووٹرز کا بہت زیادہ رش نہیں ہوتا اور ایک پولنگ اسٹیشن پر چند سو سے زیادہ ووٹ نہیں کاسٹ ہوتے تو تمام پولنگ ایجنٹس کی باہمی مشاورت سے کھانے کا وقفہ ہوتا ہے اور ایک ہی دسترخوان پر مختلف جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس اور عملہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھالیتے ہیں اور یہ کھانا اسی گاوں کے مقامی سیاستدانوں کے گھروں سے آتا ہے۔

جیت کے بعد کی صورتحال

انتخابی نتائج آنے کے بعد جو امیدوار کامیاب ہوجاتا ہے ان کے حجروں پر جشن کا سماء شروع ہوجاتا ہے اور کارکنان اپنے امیدوار کو مبارک باد دینے وہاں پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں، لیکن وہ خالی ہاتھ نہیں ہوتے بلکہ مختلف تحائف اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جیسے حلال جانور (بیل، بکرا یا دنبے) کا گوشت، مٹھائیاں اور خوراک کی دیگر شیاء۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ امیدوار کو آنے والے مہمانوں کے لیے چائے، مٹھائی اور مختلف قسم کے کھانوں سے تواضع کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور مہمان نوازی بوجھ نہیں بن پاتی۔

عوام کا شکریہ

انتخابات کے اگلے ہی دن شکریہ کی بھی ایک روایات موجود ہے۔ جو امیدوار جیت جاتا ہے تو وہ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے ان تمام جگہوں پر جاتا ہے جہاں جہاں وہ انتخابات سے پہلے ووٹ مانگنے گئے ہوتے ہیں، پھر چاہے کسی نے ان کو ووٹ دیا ہوں یا نہیں۔ لیکن یہ عمل صرف جیتنے والا امیدوار نہیں کرتا بلکہ ہارنے والا امیدوار بھی ہر جگہ پہنچتا ہے اور وہ بھی اپنی حمایت کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سیاستدانوں کا اس میں مفاد کیا ہے؟

یہ سارے معاملات دیکھنے کے بعد ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اس طرزِ سیاست سے ان مقامی سیاستدانوں کا کیا مفاد ہے؟ تو جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سیاست ان کی آباؤ اجداد کی خدمت کی ایک جدید شکل ہے جو ان کو وراثت میں ملی ہے اور اس کی بنیاد پر ان کو اپنے اپنے علاقے میں ایک خاص مقام حاصل رہتا تھا۔ اب جن جن لوگوں نے سیاست چھوڑی ہے تو ان خاندانوں کو معاشرے میں وہ مقام و رتبہ نہیں دیا جاتا جو سیاست کرنے والے خاندانوں کو دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے اثرات

لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ ان علاقوں کی سیاست میں سب کچھ اچھا ہی ہورہا ہے بلکہ یہاں بھی بعض وہ خامیاں موجود ہے جو ملک کے دیگر حصوں میں ہے لیکن یہاں ان خصوصیات پر روشنی ڈالنا مقصود تھی جس سے ملک کے دیگر حصوں کے عوام لاعلم ہیں۔ اس تحریر میں ہم نے جس باہمی عزت و احترام کا ذکر کیا ہے، جمہوری اقدار اور روایات سے متعلق آپ کے سامنے جو نکات رکھیں ہیں، اس حوالے سے بہرحال یہ خدشہ تو اپنی جگہ موجود ہے کہ سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی نازیبا زبان اور الفاظ کسی دن ان علاقوں کی سیاست کا ایک جز نہ بن جائیں۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ سوشل میڈیا کی سیاست ان علاقوں کے حجروں، بیٹھکوں اور دیگر پبلک مقامات تک پہنچ جائیں ان کا راستہ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں چائیے کہ اپنے معاشرے کی مثبت اقدار اور رویوں کا تحفظ کریں اور منفی چیزوں کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کی اچھائیوں کو قبول کریں اور برائیوں کا راستہ روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔