ڈونلڈ ٹرمپ کا 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر امریکی ٹیرف کا اعلان

اپ ڈیٹ 15 جون 2018

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف متعارف کرادیا جس کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا تھا کہ وہ بدلے میں ان پر 50 ارب ڈالر کا ٹیرف لگائے گا جس کا مقصد مالیاتی مارکیٹوں کا خاتمہ ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران کیے گئے وعدے جس میں ان کے مطابق چین کا غیر منصفانہ تجارت اور امریکی ٹیکنالوجیز کو نیچا دکھانے کی سازش کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا کہا تھا، کو پورا کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چین پر ’بہت بڑا ٹیرف‘ لگانے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سِلیکون ویلی میں بہت ذہین دماغ موجود ہیں اور چین و دیگر اسے چوری کرتے ہیں، ہم ان کی حفاظت کریں گے، وہ ہمارے ملک کے قیمتی جوہر ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا: چینی مصنوعات کی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’یہاں کوئی تجارتی جنگ نہیں ہورہی ہے ، انہوں نے ہم سے بہت کچھ لیا ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی ٹیرف 1 ہزار 102 چینی مصنوعات پر لگائی جائیں گی جن کی مالیت 50 ارب ڈالر سالانہ ہوگی، ان میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپریل کے مہینے میں جاری کی گئی 1 ہزار 3 سو 33 کی فہرست میں سے 34 ارب ڈالر سالانہ کی 818 مصنوعات بھی شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے ٹیرف جمع کرنے کا آغاز 6 جولائی سے ہوگا۔

انتظامیہ کی جانب سے دیگر 16 ارب ڈالر سالانہ کی 284 چینی مصنوعات کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے تاہم ان پر ٹیرف کا اطلاق عوامی رائے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کیلئے چین، روس سے بڑا خطرہ قرار

ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، میکسیکو اور یورپی اتحادیوں سے اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر پہلے ہی ٹیرف متعارف کرادیا ہے جبکہ ان کی جانب سے چین کے لیے پیش کیے گئے ٹیرف سے دو سب سے بڑی معیشتوں میں تجارتی جنگ کے آغاز ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ ’چین اس پر فوری ردعمل دے گا اور بیجنگ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا‘۔

امریکی چیمبر آف کامرس کے صدر تھامس کا کہنا تھا کہ ’چین کے ٖغیر منصفانہ تجارت کے بدلے امریکی صارفین، مینوفیکچررز اور کسانوں کے کاندھوں پر ٹیرف کا بوجھ ڈالنا بہتر سوچ نہیں ہے‘۔